شاعری

تیشۂ کرب

تیشۂ کرب کندھوں پہ رکھے ہوئے کوہ کن بے اماں پھر رہے ہیں یہاں خواہشوں کے دیے سب دھواں ہو گئے وہ جو ماضی کے چمکیلے اوراق تھے ان پہ لکھے ہوئے گیت گم ہو گئے خواب کی بستیوں میں کوئی سر پھرا اپنی پلکوں سے تقدیر گھڑتا رہا اور تاریکیاں منہ چھپائے ہوئے حال رفتہ پہ آنسو بہاتی رہیں پستیوں ...

مزید پڑھیے

تیشۂ کرب

تیشۂ کرب کندھوں پہ رکھے ہوئے کوہ کن بے اماں پھر رہے ہیں یہاں خواہشوں کے دیئے سب دھواں ہو گئے وہ جو ماضی کے چمکیلے اوراق تھے ان پہ لکھے ہوئے گیت گم ہو گئے خواب کی بستیوں میں کوئی سر پھرا اپنی پلکوں سے تقدیر گڑھتا رہا اور تاریکیاں منہ چھپائے ہوئے حال رفتہ پہ آنسو بہاتی ...

مزید پڑھیے

قومی گیت

اے ماں اے ماں تجھ کو سلام بھارت ماتا کو پرنام تو تو کیسی پیاری ماں ہے سب ماؤں سے اچھی ماں ہے لاڈ اٹھانے والی ماں ہے اپنی ماں ہے اپنی ماں ہے ماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام تیری مانگ میں گنگا جل ہے بھرا پرا تیرا آنچل ہے ہریالی ہے پھول ہے پھل ہے تیری گود سکھ منڈل ہے ماتا ...

مزید پڑھیے

بارش کی نظم

یہ منحوس بارش جواں سال گیہوں کے دانوں کو کیچڑ کا حصہ بنانے مرے گاؤں میں ہر برس کی طرح آج پھر آ گئی ہے وہ گیہوں کے خوشے جو کھلیان میں دھوپ کے دیوتا کی عبادت میں مصروف تھے ان کو بارش نے آغوش میں لے لیا ہے ہر اک کھیت میں کتنا پانی بھرا ہے بھوک اپنی مٹا کر یہ بارش چلی جائے گی اور سب کھیت ...

مزید پڑھیے

تلخیاں

چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں شہر کے مضطرب دل کی تسلی کے لیے آنے والے کل کے منصوبوں میں گم چند انساں چائے سپ کرتے ہوئے پی رہے ہیں سارے دن کی تلخیاں

مزید پڑھیے

ہم اہل خوف

یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہے اتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپر چراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں نہ ان کا یار کوئی ہے نہ کوئی نکتہ چیں نہ جانے کب کوئی دست ستم ادھر آ جائے اور اس ذرا سی بچی روشنی کو کھا جائے یہ کھلکھلاتے ہوئے ہنستے ...

مزید پڑھیے

جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے

ستارے جتنے بھی آسماں پر مری تمنا کے ضوفشاں تھے زمیں کے اندر اتر گئے ہیں جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے وہ مر گئے ہیں وہ پھول وہ تتلیاں کہ جن سے بہار کی دل کشی سوا تھی وہ رزق خاشاک بن چکے تھے تمام منظر تمام چہرے جو دھیرے دھیرے سلگ رہے تھے سو اب وہ سب راکھ بن چکے ہیں میں رفتگاں کی اداس ...

مزید پڑھیے

یہ جو شام زر نگار ہے

ایک اداس چاند سے لگاؤ کے دنوں کی یادگار ہے میں منظروں سے سرسری گزرنے والا شخص تھا یوں ہی سی ایک شام تھی اور ایک جھیل تھی کہ جس میں اس کا عکس تھا سو میں وہیں ٹھہر گیا وہ چاند میرے سارے جسم میں اتر گیا یہ ایک ہجر جو ازل سے میرے اس کے درمیان تھا مگر عجب جنون تھا جو چاہتا تھا دوریوں کو ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

کون سوچے کہ سورج کے ہاتھوں میں کیا ہے ہواؤں کی تحریر پڑھنے کی فرصت کسی کو نہیں کون ڈھونڈے فضاؤں میں تحلیل رستہ کون گزرے سوچ کے ساحلوں سے خواہشوں کی سلگتی ہوئی ریت کو کون ہاتھوں میں لے کون اترے سمندر کی گہرائیوں میں چاندنی کی جواں انگلیوں میں انگلیاں کون ڈالے کون سمجھے مرے فلسفے ...

مزید پڑھیے

اہنسا کی پہلی سنہری کرن

خراماں خراماں چلی آ رہی ہے نگاہوں پہ اک حسن سے چھا رہی ہے ہر اک گام پر نور بکھرا رہی ہے افق پر وہ پرچم کو لہرا رہی ہے اہنسا کی پہلی سنہری کرن ملی کیمیا گر کو آخر وہ بوٹی کہ جس سے علائق کی زنجیر ٹوٹی شب تار میں جیسے مہتاب چھوٹی تجلی کے پردے سے پھوٹی وہ پھوٹی اہنسا کی پہلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 798 سے 960