شاعری

لباس

ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں لیکن نہ جانے کیوں پہنا صرف مجھے ہی جاتا ہے برتا صرف مجھے ہی جاتا ہے مجھے ہی کریدا جاتا ہے گندگی کی حالت میں اور صرف مجھے ہی نچوڑا جاتا ہے کئی کئی دفعہ مختصر سے لمحے میں ہاں صرف میں نچڑی جاتی ہوں ایک امکان خوش آئند کی ...

مزید پڑھیے

انجام

شام کی دھند آج کیوں گہری ہوئی میرے احساس کی رگ رگ میں یہ نشتر سا لگایا کس نے دور تک پھیل گیا شبنمی لمحوں کا غبار گرم پانی کی مری پلکوں پہ ہوتی رہتی ہے پھوار اور مٹی کا بنا میرا وجود چند لمحوں میں پگھل جاتا ہے

مزید پڑھیے

آہٹ

تنہائی کے صحراؤں میں چلتے چلتے اب تو میری آنکھوں کی ویران گلی سے پاؤں کے چھالے بہہ نکلے ہیں اک مدت سے جسم کی دھرتی پیاسی ہے سوکھے کے کارن جیون کے اندھیارے پتھ پر دور تلک سناٹا سا ہے قدموں کی آہٹ بھی نہیں ہے

مزید پڑھیے

کتبہ

مجھ کو یہ احساس ہے میں مر گیا ہوں ٹوٹ کر میں ریزہ ریزہ ہر طرف بکھرا ہوا ہوں پھر بھی اک آواز سائے کی طرح احساس سے چمٹی ہوئی ہے تم ابھی زندہ ہو اور زندہ رہوگے پھر بھی میں یہ چاہتا ہوں مجھ کو میری قبر کی صورت بنا دو اور میرے نام کا کتبہ لگا دو

مزید پڑھیے

زہر

شب کا سناٹا اب تو پگھل جائے گا روح کی تیرگی بھی بکھر جائے گی میرے اس آئینہ خانۂ جسم میں کتنے سورج بہ یک وقت در آئے ہیں اب زمیں کی تری خشک ہو جائے گی سانپ کا زہر سارا نکل جائے گا

مزید پڑھیے

سزا

میرا وجود دیوار سنگ و آہن ہے جسے رات بھر یاجوج اور ماجوج اپنی نوکیلی زبان سے چاٹتے رہتے ہیں

مزید پڑھیے

تم ہی بتاؤ

تمہاری تحریر پڑھتے پڑھتے کہیں کہیں پہ اٹک رہا ہوں کہیں پہ لکھا ہے تم نے شاید کہ میرے بارے نہ اتنا سوچ وہ شاید کہ سوچو ہی لکھا ہوگا کہیں کہیں پہ لکھا ہے تم نے کہ مجھ سے دور رکھو ذرا تم یقیناً وہ دوری ہی لکھا ہوگا کہیں پہ یہ بھی لکھا ہے تم نے میں اپنی منزل تلا لوں اب وہ شاید تلاش ہی ...

مزید پڑھیے

بے تابی

کبھی کبھی اکثر تمہاری یاد کا پہلو بڑا بے چین کرتا ہے سکوں مجھ کو نہیں آتا تمہاری یاد آتی ہے ذرا رنجور کرتی ہے ذرا خاموش رہتا ہوں ذرا سا شور سنتا ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا بڑا بے چین رہتا ہوں ہوا بھی کچھ نہیں کہتی صبا بھی چپ ہی رہتی ہے ندا اکثر گلے کے آخری نکڑ تلک آ کر بہت دھیرے سے ...

مزید پڑھیے

عزم

یاد نے اپنے پنکھ پھر سے کھول لیے ایک نئی اڑان کے لیے دور بہت دور فلک کے اس کونے پر جہاں ایک ایسی بستی ہے جس کی فضا میں انگنت رنگین نظارے بکھرے ہوئے ہیں جن کو صرف چھو کے روح ان بلندیوں کا سفر طے کرتی ہے جس کی آس مجھے بھی ہے اور تمہیں بھی آؤ میرے ساتھ میں تمہیں وہ سرگوشیاں سناؤں کبھی ...

مزید پڑھیے

سنو

کہو کہ رات ناداں ہے عجب سے خواب بنتی ہے کہو کہ چاند آدھا ہے بہت بے چین دکھتا ہے کہو کہ سرد موسم میں ذرا سی گرم چاہت ہے کہو کہ نام الفت کا میرے نزدیک بیٹھا ہے کہو کہ یاد پیہم سی ذرا سا شور کرتی ہے کہو کہ دل مچلتا ہے ذرا رنجور کرتا ہے کہو کہ سرد سانسیں بھی عجب تسکین دیتی ہیں کہو کہ نام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 783 سے 960