خزاں کا موسم
زوال پر تھی بہار کی رت خزاں کا موسم عروج پر تھا اداسیاں تھیں ہر ایک شے پر چمن سے شادابیاں خفا تھیں ان ہی دنوں میں تھی میں بھی تنہا اداسی مجھ کو بھی ڈس رہی تھی وہ گرتے پتوں کی سوکھی آہٹ یہ صحرا صحرا بکھرتی حالت ہمی کو میری کچل رہی تھی میں لمحہ لمحہ سلگ رہی تھی مجھے یہ عرفان ہو گیا ...