شاعری

خزاں کا موسم

زوال پر تھی بہار کی رت خزاں کا موسم عروج پر تھا اداسیاں تھیں ہر ایک شے پر چمن سے شادابیاں خفا تھیں ان ہی دنوں میں تھی میں بھی تنہا اداسی مجھ کو بھی ڈس رہی تھی وہ گرتے پتوں کی سوکھی آہٹ یہ صحرا صحرا بکھرتی حالت ہمی کو میری کچل رہی تھی میں لمحہ لمحہ سلگ رہی تھی مجھے یہ عرفان ہو گیا ...

مزید پڑھیے

وقت کے دھماکوں نے دھوم ایسی ڈالی ہے

لوگ سہمے سہمے ہیں ہر طرف سیاست ہے بے پناہ وعدے ہیں لچھے دار باتیں ہیں لفظ کے جھمیلے ہیں یہ کسی کا دعویٰ ہے آزمودہ نسخہ اک موت سے مفر کا ہے خود کو کہہ خدا کوئی حاکم زمانہ بن جبر و قہر کرتا ہے عام لوگ سب کہ سب بول بازیوں سے اب بے پناہ عاجز ہیں

مزید پڑھیے

ڈاکٹر

اگرچہ ہیں اپنی جگہ سارے کام مگر ڈاکٹر کا ہے اپنا مقام ذرا درد میں مبتلا ہوں اگر پکارے ہیں سب ڈاکٹر ڈاکٹر کہیں پر اگر ہو برا حادثہ تو پھر کام آتا ہے یہ ناخدا کہیں آپریشن کہیں سرجری بھلا کس سے ہوگی یہ چارہ گری بدن کا ہر اک زخم بھرنے کو ہیں مسیحا ہی یہ کام کرنے کو ہیں مگر کام یہ ذمہ ...

مزید پڑھیے

صدیوں سے اجنبی

اس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوؤں سے بھرا بدن اس کا قابل دید بانکپن اس کا شعلہ افروز حسن تھا اس کا دل کشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہم کلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ...

مزید پڑھیے

چند لمحے وصال موسم کے

درد کی ایک بے کراں رت ہے حبس موسم کا راج ہر جانب چند لمحے وصال موسم کے وہ نشیلی غزال سی آنکھیں کوئی خوشبو سیاہ زلفوں کی لمس پھر وہ حنائی ہاتھوں کا کوئی سرخی وفا کے پیکر کی پھر سے شیریں دہن سے باتیں ہوں دل کی دنیا اداس ہے کتنی کوئی منظر بھی اب نہیں بھاتا چند لمحے وصال موسم کے

مزید پڑھیے

طوائف

کبھی دل سوچتا ہے ان طوائف زادیوں کی زندگی لکھوں کہ جن کے روز و شب کوٹھے کی چھوٹی کوٹھری میں ملگجی سی روشنی میں زندگی کی تلخیاں چن کر گزرتی ہیں کہ جن کے پھول سے کومل بدن نے تھوک سے لتھڑے بدن کا فاصلہ سا طے کیا ہو چند لمحوں میں کہ جن کے تن سے لاکھوں وحشیوں نے رات و دن کے ہر پہر میں ...

مزید پڑھیے

مشینیں

متحرک مشینیں سانس لیتے ہوئے گوشت پوست کی مشینیں چمک دمک سے مزین اور جذبات سے خالی دل نیک و بد کے احساس سے ماورا پیچیدہ تجارتی اذہان کے ساتھ زندہ رہنے کی دوڑ میں سرگرداں موت کی جانب بھاگتے چلے جا رہے ہیں

مزید پڑھیے

نظم

یہ پہلی نظم ان آنکھوں کی خاطر ہے کہ جن میں چاند تاروں سی چمکتی شاہراہوں پر ہزاروں ان کہے جذبے حیا کی سرخ حدت سے پگھلتے ہیں کہ جن میں خواب راتوں میں افق سے ایک شہزادہ محبت کی نئی نظمیں لیے نیچے اترتا ہے کہ جن میں عشق ہر اجلی سحر امید کی روشن زمیں پر خواہشوں کے جسم میں تجسیم ہوتا ...

مزید پڑھیے

بٹلہ ہاؤس

گھڑی کی ٹک ٹک بول رہی ہے رات کے شاید ایک بجے ہیں بٹلہ ہاؤس کی ایک گلی میں موٹے کتے بھونک رہے ہیں ایک کھنڈر میں تیز روشنی چاروں جانب پھیل رہی ہے بغل میں لیٹا ساتھی میرا اب تک پب جی کھیل رہا ہے میں بھی اب تک جاگ رہا ہوں آنکھیں موندے سوچ رہا ہوں نیچے جانا کیسا ہوگا باہر کتنی سردی ...

مزید پڑھیے

مسکراہٹ

درد کے لا متناہی صحرا سے گزرنے کے بعد ماں نے آنکھیں کھولیں دیکھا دعا کے لیے اٹھے ہاتھ گر چکے تھے کیونکہ میں رو رہی تھی میں روتی رہی اور ماں مسکرا دی میں بارہ سال کی تھی جب مجھے پہلی دفعہ خون آیا دادی بابا سب کے کندھے اضافی بوجھ سے جھک گئے کیونکہ میں رو رہی تھی میں روتی رہی اور ماں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 782 سے 960