شاعری

سبق

کہیں کہیں پہ ہری سی شاخیں ہیں اپنے غنچوں پہ مسکراتی کہیں کہیں پہ ہیں سوکھے پتے اداسیوں کے سبق سناتے کہیں کہیں پہ گلوں پہ بھنورے محبتوں کی کہانی لکھتے کہیں کہیں پہ گلاب عشق کے کتاب دل میں ہیں سوکھے ملتے کہیں پہ دریا کہیں پہ صحرا کہیں بہاریں کہیں خزائیں کہیں تماشا کہیں ...

مزید پڑھیے

کپس

چائے کا ایک سپ لگاتے ہی اس کے ہونٹوں کی یاد تازہ ہوئی کپ بورڈ میں رکھے سلیقے سے چائے کے کپس جن پہ اس نے اپنے ہونٹوں کے لمس یہ کہہ کر چھوڑے تھے کہ سنو جاناں انہیں تم جب بھی اپنے خوبصورت ہونٹوں سے لگاؤ گے مجھے اپنی سانسوں میں پاؤ گے

مزید پڑھیے

مقصود علی دیوانہؔ

''رشتے، چاہت، شہرت، دولت تیرے لیے سب بے مایہ تارا ہے کسی کی آنکھوں کا تو اور نہ کسی کا ماں جایا ہے دوست نہ کوئی ہم سایہ میدانوں سے آنکھوں کی گزرتا اک سایہ مقصود علی! مقصود علی! دیوانہ ہے تو ہم کو بتا یا کوئی ولی؟ ''وہ روز ازل کا دہرایا ہے اک سایہ جس کی اک دنیا ہے اپنی دہشت کے محور پر ...

مزید پڑھیے

تہ

ہم ڈوب کے گہرائی میں طرب کی پھیلتے دیکھتے ہیں قبل ازیں فہمیدہ ان رنگوں کو جن میں خود کو ہم پہ ہمارے غم ظاہر کرتے ہیں گمبھیر خموشی کی تہ میں آغوش کشادہ میں لیتی ہم کو ایک درخشاں تاریکی ہوتی ہے

مزید پڑھیے

دور کی شہزادی

میں تو پیدائش ہی سے اک شہزادی تھی حسن مرے پیکر میں یوں در آیا تھا سنگھار کے آئینے میں جب میں جھانکتی تو خود پر شیدا ہونے لگتی خواہش میرے دل میں پیدا ہونے لگتی کہ میری پوجا لوگ کریں سر لا کے مرے قدموں پر دھریں لیکن جب میں نے انگڑائی سے حسن پہ اپنے ناز کیا محسوس کیا کہ دنیا کو ناراض ...

مزید پڑھیے

مقاومت

ملبوس پہنے رات اپنا زر نگار زیر جامہ تاز میں لٹکا ہوا اس کا سیاہ شعلے اگلتے نالیوں کے دائرے، فولاد کے جنت سے دھتکاری ہوئی اولاد کے راتوں کو چلتے کارواں مسمار شہروں کا دھواں احمریں سیال سے چھلکے ہوئے باغوں کے حوض ''نفت'' کے شعلے زمیں پر پھینکتے ہیں ''راس چکر'' کے بروج گھاس کے ...

مزید پڑھیے

شجر

میں نے جڑ سے اکھاڑنا چاہا اس شجر کو جسے محبت سے میں نے خوں دے کے اپنا پالا تھا میری آنکھوں کا جو اجالا تھا جب نہ اکھڑا تو میں نے اس کا تنا تیز آرے سے کاٹنا چاہا آہ لیکن بلند چیخ اس کی میرے کانوں نے دل خراش سنی اس سے چھوٹا لہو کا فوارہ میرے آنگن میں آج بھی ہے کھڑا وہ شجر اب زمیں میں اس ...

مزید پڑھیے

شاید

''وہ جھک کے زمیں پر بغلوں میں دے کر ہاتھ ہماری ہم کو اٹھاتا ہے تاروں تک لاتا ہے پھر ہاتھ ہٹا کر ہم کو گرنے چھوڑتا ہے سرد و تاریک خلاؤں میں شاید اس کی یہ خواہش ہوتی ہے ہم اپنے دونوں بازو لہرائیں اور اوپر اٹھتے جائیں حتی کہ تنہائی کے ابد میں اس کے داخل ہوں اور ہاتھ بڑھا کر کانپتی ...

مزید پڑھیے

ماں

آوارہ گردی کرنا صبح و شام دھینگا مشتی، دشنام ہر روز یہی ہے کام نہ چین ہے نہ آرام بازار کی بھیڑ ہٹاتی اپنی کہنی سے بازو سے پکڑ کر جیسے اپنے بگڑے ضدی بچے کو فہمائش کرتی گھر واپس لے جاتی ہے ماں یوں ہی ہم کو بھی موت آ کر اس دنیا سے لے جاتی ہے بے چین ہماری روحوں کو دیتی ہے اماں شور و شر ...

مزید پڑھیے

بارش

بادل کی دھتکاری بارش روتی پھرتی ہے شانوں پہ دہکتے صحراؤں کا غم ڈھوتی پھرتی ہے وہ تیرہ پہنائی میں ساری رات بھٹکتی ہے رہ رہ کے اس کے سینے میں بجلی کی یاد تڑپتی ہے قہر سے اس کو کالے بادل گھورتے رہتے ہیں اس کے موتی جیسے آنسو پرنالوں میں بہتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 784 سے 960