سبق
کہیں کہیں پہ ہری سی شاخیں ہیں اپنے غنچوں پہ مسکراتی کہیں کہیں پہ ہیں سوکھے پتے اداسیوں کے سبق سناتے کہیں کہیں پہ گلوں پہ بھنورے محبتوں کی کہانی لکھتے کہیں کہیں پہ گلاب عشق کے کتاب دل میں ہیں سوکھے ملتے کہیں پہ دریا کہیں پہ صحرا کہیں بہاریں کہیں خزائیں کہیں تماشا کہیں ...