شاعری

اردو

اپنی تہذیب ہے اور اپنی زباں ہے اردو اپنے گھر میں مگر افسوس کہاں ہے اردو اہل الفت کے لیے حسن رواں ہے اردو اہل دل کے لیے دل کش ہے جواں ہے اردو آج بھی غالبؔ و اقبالؔ پڑھے جاتے ہیں آج بھی کل کی طرح جادو بیاں ہے اردو آج بھی پریمؔ کے اور کرشنؔ کے افسانے ہیں آج بھی وقت کی جمہوری زباں ہے ...

مزید پڑھیے

غرور کا انجام

منظوم کہانی حامد تھا مدرسے کا اک ہونہار بچہ جویا تھا علم کا وہ تھا کامگار بچہ عزت بڑوں کی کرتا چھوٹوں سے پیار کرتا سب کو سلام کرتا سب سے ادب سے ملتا پیکر خلوص کا تھا یوں با تمیز تھا وہ اپنے ہوں یا پرائے سب کا عزیز تھا وہ اک روز اس کے دل میں شیطان آ سمایا پھر کیا تھا خود نمائی نے ...

مزید پڑھیے

بولو کون بہادر ہے

بولو کون بہادر ہے بولو کون بہادر ہے شیروں کو جو مار گرائے بڑے بڑوں سے جو ٹکرائے یا وہ جو ہر اک عالم میں غصہ آئے تو پی جائے بولو کون بہادر ہے بولو کون بہادر ہے نفس کا اپنے وہ حاکم ہو یا نفس اس کا ہی حاکم ہو اتراتا ہو اپنی خطا پر یا وہ خطاؤں پر نادم ہو بولو کون بہادر ہے بولو کون ...

مزید پڑھیے

علم

علم اک ایسی دولت ہے کوئی بانٹ نہ اس کو پائے کوئی چھانٹ نہ اس کو پائے ہر سو اس کی دھاک ہے ایسی کوئی ڈانٹ نہ اس کو پائے علم اک ایسی دولت ہے اس سے ادنیٰ ہوتا اعلیٰ ہوتا ہے پست اس سے بالا چاہے گورا ہو یا کالا اس سے بنتا وہ رکھوالا علم اک ایسی دولت ہے اس سے مت رہنا تم کھینچے رکھتا ہے ...

مزید پڑھیے

اچھی کتاب

دوستوں میں سب سے اچھا دوست ہے اچھی کتاب آ بتا دوں کیسی ہوتی ہے عطاؔ اچھی کتاب ہر قدم پر نیک و بد کا فرق بتلاتی ہے یہ ہر قدم کو سیدھی سچی راہ دکھلاتی ہے یہ دین و دنیا کا ہمیشہ ہم کو دیتی ہے سبق روشنی ہی روشنی دیتا ہے اس کا ہر ورق سیکھتی ہے اس سے دنیا کامرانی کا ہنر یہ عطا کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

ہم کو آگے جانا ہے

اپنی منزل پانا ہے ہم کو آگے جانا ہے رستہ ہے پر خار تو کیا چلنا ہے دشوار تو کیا آگے ہے دیوار تو کیا دیواروں کو ڈھانا ہے ہم کو آگے جانا ہے اپنی منزل پانا ہے علم سے اللہ اور نبی علم سے اپنی یہ ہستی علم سے دین اور دنیا بھی دین اور دنیا پانا ہے ہم کو آگے جانا ہے اپنی منزل پانا ہے امن ...

مزید پڑھیے

پڑھ لکھ کر ہم نام کریں گے

ہر دم اچھا کام کریں گے پڑھ لکھ کر ہم نام کریں گے اللہ سے مانگیں گے دعائیں پائیں گے رحمت کی فضائیں رحمت کو ہم عام کریں گے پڑھ لکھ کر ہم نام کریں گے کب ہے ہم کو سب پہ بھروسہ ہم کو ہے بس رب پہ بھروسہ کام یہ صبح و شام کریں گے پڑھ لکھ کر ہم نام کریں گے سب کے لیے سوچیں گے بھلائی کبھی نہ ...

مزید پڑھیے

پیارے بچوں کی پیاری تمنائیں

گو اڑاتے ہیں ابھی دھولیں ہم چاہتے ہیں کہ فلک چھو لیں ہم ہو بزرگوں کی دعاؤں میں اثر باغ ہستی میں پھلیں پھولیں ہم علم کا شوق ہو دل میں اتنا سبق اپنا نہ کبھی بھولیں ہم شاد و آباد رہے یہ بچپن اور جھولوں پہ یونہی جھولیں ہم قوت خیر عطا ہو اتنی ڈھیلی شر کی کریں سب چولیں ہم اپنی ...

مزید پڑھیے

منے کی ناؤ

دادی کے پاس آ کے منے لگا یہ کہنے دیکھو تو پیاری دادی کیا ہے بنایا میں نے کاغذ وہ ریشمیں جو تم نے دیا تھا دادی یہ دیکھو میں اس کی اک ناؤ ہے بنا دی لیکن بتاؤ مجھ کو کیسے اسے چلاؤں تالاب یا ندی یا نالہ کہاں سے لاؤں ہنس کر یہ بولیں دادی ٹھہرو ذرا سا بیٹا لاؤ کچن سے جا کر تسلا جو ہے ...

مزید پڑھیے

لوری نما

دادا دادا بولے بابو دادا دادا بولے کانوں میں رس گھولے بابو کانوں میں رس گھولے دادا دادا بولے بابو دادا دادا بولے تاتا تھیا چلنا سیکھے سیکھے تاتا تاتا تھیا تاتا تھیا تاتا تھیا خوش ہیں آپی بھیا خوش ہیں آپی بھیا بابو سو لے اب تو سو لے سو لے اب تو سو لے دادا دادا بولے بابو دادا دادا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 764 سے 960