شاعری

روبرو جاناں

ہمیں اب تک تری کچھ بھی نہ کہنے والی آنکھوں سے یہ شکوہ ہے جو کمسن خواب ان آنکھوں میں منظر کاڑھتے تھے وہ کبھی تیرے لبوں کے پھول بنتے اور ہمارے دامن اظہار میں کھلتے ہمیں ان مسکراتے چپ لبوں سے بھی شکایت ہے ہمارے شعر سن کر کھلکھلاتے تھے مگر کچھ بھی نہ کہتے تھے نہ جانے ایسے لمحوں میں ...

مزید پڑھیے

تمنا

دیتی ہے بے خودی شوق پہ آ کر دستک ہونے والی کو یہ کہتی ہے نہ ہو دور بھٹک جانے والی کو یہ کہتی ہے نہ جا آ مجھ تک عقل آڑے کبھی آتی ہے تو دیتی ہے جھٹک نہ مٹائے کبھی مٹنے کی تمنا میری آج تو آج رہے گی پس فردا میری دشمنوں پر کبھی گرتی ہے یہ بن کر بجلی دوستوں پر کبھی آتی ہے یہ بن کر ...

مزید پڑھیے

کاویری

تو اے کاویری ہے رشک رود نیل تیری اک اک موج موج سلسبیل پڑ رہا ہے تجھ پہ عکس جبرئیل تجھ سے ہے سیراب گلزار خلیل آج بھی حوران جنت بے شمار دیکھ کر تجھ کو قطار اندر قطار روز آتی ہیں نہانے کے لئے رقص کا طوفاں اٹھانے کے لئے نور کا دریا بہانے کے لئے نغمۂ فردوس گانے کے لئے خضر کو ہے آب ...

مزید پڑھیے

ابا کے نام

اس لمحے کہ تم میرے ساتھ ہو خدا میرے نزدیک ہے میں اس کے قدموں پر سر رکھ دیتا ہوں اپنی کمیوں، بدنصیبوں اور بےوقوفیوں کو بھول کر اس کے شفقت بھرے ہاتھوں کا لمس اپنی پیٹھ پر محسوس کرتا ہوں دیکھتے دیکھتے ہرا بھرا درخت بن جاتا ہوں جیسے میں ایک نہیں، کئی زندگی جی رہا ہوں جیسے میں ایک ...

مزید پڑھیے

وہ

اس میں کتنا گھریلو پن ہے اس کی سانسوں میں نور ہے اور چھاتیاں دودھ سے بھری ہیں اس کی روشن سیاہ آنکھوں کے پالنے میں دوسرا مرد سو رہا ہے، میں جس کی سانسوں کے شور سے بار بار اٹھتا ہوں دیکھتا ہوں تو میرے نزدیک صرف وہ ہے، سوائے اس کے کوئی نہیں ہے، وہ میرے گھر میں ہے اور کس درجہ اجنبی ہے، ...

مزید پڑھیے

ہم اتنی جلدی میں تھے

گلی میں گہرا اندھیرا تھا اندھیرے کی لاٹھی کو تھامے ہوئے چور قدموں سے ہم نے اپنی راہ لی تھی ہم اتنی جلدی میں تھے کہ اپنے پاؤں کے نشان تو بریف کیسوں میں بھر لیے مگر پاؤں وہیں چھوڑ دئے ابو نے اپنی عینک بکسے میں رکھ لی آنکھیں میز کی دراز ہی میں چھوڑ آئے اماں نے امام ضامن میرے بازو ...

مزید پڑھیے

کتنا مشکل ہے

میں سن رہا ہوں میں سن رہا ہوں تمہاری آنکھوں کا شور تمہارے مساموں سے بوند بوند ٹپکتی ہوئی آوازیں تمہاری چھاتیوں کی نیلی نیلی لکیروں کے درمیان کنمناتے ہوئے بچوں کی سرگوشیاں پلک جھپکتے ہی شہر کا شہر ہجرت کر گیا پڑاؤ ڈال دیے گئے وہاں جہاں کوئی موسم نہیں ہوتا درخت پرندوں سے ...

مزید پڑھیے

ہمارے مابین

ایک خواب سے جب تم دوسرے خواب میں قدم رکھو تو یہ خیال رہے ایک زمین تمہارے اندر بھی اپنے لیے زمین بنا چکی ہے جس پر ہزاروں ننھی ننھی دعاؤں کی بالیاں پھوٹیں گی تم ان دعاؤں کی زبان سمجھنا ان لفظوں کو سننا جنہیں تم نے سفر کے گزشتہ مرحلے میں ادھر ادھر گھما دیا تھا یہ دنیا محض ایک فاصلے ...

مزید پڑھیے

میں کہ تم پہ باز ہوں

جہاں کہیں سے تم نے اپنے فاصلے اٹھا لیے وہیں سے میری ابتدا ہوئی سیکڑوں نحیف اور نزار ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے اور ایک ساتھ اٹھ کے میرے چاروں سمت کئی صفوں میں تن گئے میں تمہارے واسطے تمہارے نام سے ایک ایسے باب کے دہانے پر کھڑا ہوں جو ہزاروں سمتوں کو رجوع ہے میں کہ تم پہ باز ہوں خدائی ...

مزید پڑھیے

خواب کی دلی

سپنے میں رات آئی دلی دیر تلک بتیائی دلی پوچھ رہی تھی حال بتاؤ گزرا کیسے سال بتاؤ بسنے والوں میں دلی کے بولو سچے دوست نہیں تھے یا کہ بزرگوں کی صحبت میں کمی تھی کچھ ان کی شفقت میں بہ یک نظر ہر چیز بھلا دی منظر کو یا خود کو سزا دی میں جو تیرے دل کی ادا تھی کیا میری الفت ہی خطا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 763 سے 960