شاعری

ایسا کیوں ہے

مالک میرے بھاری پتھر ڈھونے والے بھوکے پیاسے سونے والے چپکے چپکے رونے والے ڈرتے ڈرتے جینے والے تیرے ہی بندے ہیں یا پھر ان کا کوئی اور خدا ہے مالک میرے ایسا کیوں ہے اک جنت کے وعدے پر تو پل پل دوزخ میں رکھتا ہے ایسا کیوں ہے اک روٹی کی خاطر بندہ سب کچھ گروی رکھ دیتا ہے اور اک بندہ سب ...

مزید پڑھیے

شہر بینا کے لوگ

دست شفقت کٹا اور ہوا میں معلق ہوا آنکھ جھپکی تو پلکوں پہ ٹھہری ہوئی خواہشیں دھول میں اٹ گئیں شہر بینا کی سڑکوں پہ نا بینا چلنے لگے ایک نادیدہ تلوار دل میں اترنے لگی پاؤں کی دھول زنجیر بن کر چھنکنے لگی اور قدم سبز رو خاک سے خوف کھانے لگے ذہن میں اجنبی سرزمیں کے خیالات آنے لگے سارے ...

مزید پڑھیے

گریز

مرے ہاتھوں میں سورج کی سواری کے سواگت کے لئے گجرے نہیں ہوتے سروں پر حکمراں مہر درخشاں اک قصیدہ میرے لب سے سن نہیں پایا جب ایسا ہے تو کیوں ندیا میں گرتے زرد لمحے کی دعا چاہوں میں اپنی رات کو کیوں چاند کی جھولی میں پھیلا دوں کہ رات آتی نظر آتی ہے جاتی کا پتا تک بھی نہیں چلتا سو حیرت ...

مزید پڑھیے

ہوا مری رازداں نہیں ہے

ہوا مری رازداں نہیں ہے کہ چتر اس کا ہزار سایوں پہ مہرباں ہے کروڑوں لوگوں کے سوز انفاس کا دھواں ہے ہوا فقط اس نحیف لمحے کی داستاں ہے کہ جس کا عالم گزشتنی ہے جو اک نفس کا ہی میہماں ہے ہوا ہی ساری مہک اگلتی ہوئی بہاروں کی ترجماں ہے ہمارے اندر چھپے وجودوں سبک مساموں کی رازداں ہے گزرتے ...

مزید پڑھیے

بے تعبیر

بچپنے کی دنیا تھی جس کے دم سے دم لیتی خوف کی پچھل پائی خواب جس کی زد میں تھے صبح خواب سننے پر سب بزرگ کہہ دیتے خواب کی یہ باتیں ہیں ہم سے دور بیتیں گی دور سے سنیں گے ہم اب جدا سی دنیا ہے ان کہے زمانوں کے جیتے جاگتے لمحے دھیان سے گزرتے ہیں سوچ میں اترتے ہیں پر وہ دن نہیں آئے جس میں ...

مزید پڑھیے

ہوا سے بات کرو

ہوا سے بات کرو کہو کہ اس کی لگائی ہوئی گرہ نہ کھلی وہ دھول تھم نہ سکی دل کے رخ جو اڑتی تھی وہ گرد اٹھی نہیں جو آئنوں پہ بیٹھی تھی صبا سے بات کرو صبا سے بات کرو کیا سوال تھا اس کا وصال جس کا تعین نہ تھا جدائی سے کسے پکار گیا صدا سے بات کرو یہی کہ جن کو سر دشت و بر پکارا گیا وہ سر ...

مزید پڑھیے

احوال

ہمیں کیا چاندنی کی رات کیا راتوں کی تاریکی بس اتنا ہے کہ روشن رات میں گر تیز چلنا ہی ضروری ہو تو چل سکتے ہیں ورنہ چاندنی کی زرد چادر میں چھپے بھیدوں بھرے فتنے سفر کرنے نہیں دیتے اندھیرے میں ہمیں فتنوں کے سر پر پاؤں رکھ کر بڑھتے جانا دشت میں آسان رہتا ہے

مزید پڑھیے

رات کی آنکھ میں نم

سحر کے اگر ایسے لمحات میں جاگتے ہو ستارے بھی جب اونگھ جائیں اگر دودھیا چاندنی کے جواں جسم کی موت دیکھے ہوئے ہو اگر سوچ میں سر کھجاتے درختوں کی ویراں پر اسرار تنہائیوں بیچ پچھلے ستارے کی چھانو تلے گام دو گام سوئی ہوئی ساعتوں میں چلے ہو تو تم ہم سے ہو تم مگر تب کہاں تھے سدھارت نے جب ...

مزید پڑھیے

امکان

خزاں میں اب پھول آنے والے ہیں تم مگر ساتھ ساتھ رہنا کہ ہم صواب و خطا کے قصوں کا ذکر کرکے فضا کو پہلے ہی اتنا بوجھل بنا چکے ہیں کہ خشک پتا بھی گرنے لگ جائے تو ہوا سسکیاں سی لیتی ہے چیختی ہے اداس لمحوں میں روشنی اپنے ساتھ رکھنا تم اپنے ہاتھوں کی اوٹ کرکے چراغ لاؤ تو یاد رکھنا کہ ...

مزید پڑھیے

بحران

جدائی اور کیا ہے میں جسے سہتا نہیں رہتا یہ تم سے روز کا ملنا جدا ہونے سے پہلے دیر تک اک بات سے اک بات تک لفظوں کا لڑھکانا نئے موسم کی باتیں عالمانہ گفتگوئیں ان مناظر کی سیاست جن کا چہرہ کل دکھائے گی ملاقاتیں ہیں اور ایسی ملاقاتیں کہ باہم روز کا ملنا نہ ملنا کوئی بھی ارزش نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 708 سے 960