شاعری

آزادی

شہر لا مکاں سے ہوں جس میں اک مکاں میرا خواب سے ابھرتا ہے دودھیا سویرا سا دھیان میں نکھرتا ہے جو حدوں سے عاری ہے انتہا نہیں رکھتا چوکھٹیں دریچے در کیا گمان میں آئیں (صحن آنگن اور دیوار کا خیال ہی بے کار) چار سمت کی دیوار چاہے کتنی پھیلی ہو آپ کا احاطہ ہے آپ کا ہے گھیراؤ کیوں گرفت ...

مزید پڑھیے

آخری لیکچر

یہ تم سب کہ جن کے سروں میں جوانی کا خوں لہلہاتا ہے مجھ سے رسید اپنی محنت کی بھی لیتے جاؤ محبت کے بارے میں جو بھی کسی نے بتایا ہے پوری حقیقت نہیں کیونکہ چاہت روایت نہیں تجربہ ہے حقیقت میں ہر آدمی محترم ہے وہ خود اس کی جب تک نہ تردید کر دے یہ پہلے بھی میں نے کہا تھا تمہارے لبوں سے جو ...

مزید پڑھیے

محور

قدم مٹی پہ رکھتی ہو کہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیں کہ جب تم پاؤں دھرتی ہو تو دھرتی کے جگر کی دھڑکنیں بھی آزماتی ہو بہاروں میں بکھرتیں تو تمہیں بس ڈھونڈتے پھرتے مگر تم رنگ و بو کو اپنا پس منظر بناتی ہو خوش دلی کے قہقہے کی نقرئی گھنٹی کے نغموں کی کھنک کے ساتھ سارے منظروں پر پھیل جاتی ہو وہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ ہی درد پہچانتی ہے

آنکھ ہی درد پہچانتی ہے میں اس روٹ پر پہیلی گاڑی کا مہماں تھا بے طرح گھومتی گیند پر اب نفس جتنے انفاس کا اور مہمان ہے ان کی گنتی مری داستاں میں نہیں خاک کی ناف سے خاک کے بطن تک چند ساعات کی روشنی پوشیشیں بتیاں تازہ ماڈل کلب تازہ رخ گاڑی اور بان اور گل چہرہ انٹرپریٹر یہی چار آئنہ ...

مزید پڑھیے

جہان خواب

یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیا یہ حسن صورت یہ جلوہ گاہیں یہ بجلیوں سی لپک ادا کی یہ بدلیوں سی گداز بانہیں یہ نقش سے پھوٹتے کرشمے یہ نکہت و نور کی پناہیں اک آرزو کے ہزار پیکر اک التجا لاکھ بارگاہیں حیات کے سرفرازی چشمے نشہ پلاتی ہوئی نگاہیں جمال کا دل نشیں تصور خیال کی دل پذیر ...

مزید پڑھیے

مجھے بارش سے کہنے دو

مجھے بارش سے کہنے دو جواں جذبوں میں بہنے دو کہ جب بارش برستی ہے ہوائیں سرد چلتی ہیں مجھے وہ یاد آتے ہیں مرے آنسو بہاتے ہیں مجھے بارش سے کہنے دو جواں جذبوں میں بہنے دو مجھے وہ رات کا منظر ابھی تک یاد ہے صاحب کھلی چھت پر تمہارے سنگ رہ کر بھیگ جانا بھی مجھے بارش سے کہنے دو جواں جذبوں ...

مزید پڑھیے

محبت تو دعا ہے

محبت بھیک میں ہرگز نہیں ملتی محبت دان بھی کوئی نہیں کرتا کہ یہ خیرات ہوتی ہے محبت تو محبت ہے یہ خوشبو کی طرح کا کوئی ساتھ ہوتا ہے کوئی احساس ہوتا کسی کے ہاتھ میں جیسے کسی کا ہاتھ ہوتا ہے محبت تو فقط سانسوں میں بستی ہے کہیں دل کے نہاں خانوں میں پلتی ہے محبت کا جو رستہ ہے بہت دشوار ...

مزید پڑھیے

تو شاہ میرا ہے

کسی دن جب تھکن سے چور ہو کر آؤں گی پھر میں ترے در پر ترے شانے پہ سر رکھ کر میں سب رنج و الم اپنے میں اپنی ساری مجبوری میں اپنی ساری محرومی پھر اشکوں کو بہاؤں گی وہ میرا درد دکھ سارا رگوں میں لاوا بن کر جو ابلتا ہے تو میرا سائیں ہے اور شاہ میرا ہے میں لفظوں کی بھکارن ہوں یہ کاسہ خالی ...

مزید پڑھیے

تیرا سہارا شاہ مجھے ہے

بپتا موری کون سنے گا تیرا سہارا شاہ مجھے ہے بیری تورے پیار میں کملی ہار گئی دل وار گئی بکھر رہی ہے تنہائی میں مجھ کو بانہوں میں بھر لے کر تو مجھ کو پیار پیا جیون تجھ پر وار دیا تورے بن میں ہوں ادھوری ہوں تو چھو لے تو پوری ہوں وصل کیا تو ڈرنا کیا ہجر نہ مجھ میں بھرنا پیا پیار نبھانا ...

مزید پڑھیے

جب بارش برستی ہے

تمہاری دید کی خاطر مری آنکھیں ترستی ہیں کہ جب بارش برستی ہے تمہاری بات کانوں میں عجب رس گھول دیتی ہے کہ بارش کے حسیں قطرے مرے رخسار پر آئے تمہیں وہ پھول لگتے تھے کہا تو نے انہیں میں چوم لیتا ہوں مری شرم و حیا اس دم بڑی بے باک ہوتی تھی کمر میں ہاتھ ڈالے ہم بہت ہی دیر تک بھیگے کہا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 709 سے 960