شاعری

دیوانگی

بہت کچھ چاہتا تھا میں ہمیشہ چاہتا تھا میں کہ دنیا خوب صورت ہو کہ جیسی پیار کرتے وقت ہوتی ہے چاہتا تھا شام ہوتے ہی اتر آئے فلک سے چاند بچوں کی ہتھیلی میں کہ شب تاریک ہو جتنی مگر نم ہو کھنک ہو اور پورب کی ہوائیں سبک رفتار گزریں چھتوں پر اوس ہو اور آنگنوں میں کہکشاں اترے ہمیشہ چاہتا ...

مزید پڑھیے

مرحلہ

نہ اس کے عشق کے کام آ سکا میں نہ اپنی آگ کو بھرما سکا میں نہ شور آرزو نے راہ پائی نہ درد بے خودی تھی نے رسائی زمانہ اپنے محور پر رواں تھا محض ایک آگ تھی جلنے میں کیا تھا خدایا کس طرح سر ہو سکے گی دل و دیدہ کی یہ پر داغ محفل

مزید پڑھیے

ماورا

بیسویں صدی کے آخری برسوں میں ایک گہراتی ہوئی شام کو جب پرندوں اور پتوں کا رنگ سیاہ ہو چکا تھا اور دکھ کا رنگ ہر رنگ پر غالب تھا ماں ٹوٹ چکی تھی محبوبہ روٹھ چکی تھی ہفتہ وار تعطیل کی فراغت سے مطمئن سرشاری کے ایک لمحے کو بے قرار شاعر لکھنے بیٹھا گرد و پیش کی دنیا نہایت آہستگی ...

مزید پڑھیے

ان کتابوں میں بند اجالے ہیں

آدمی کا وقار علم سے ہے زندگی کی بہار علم سے ہے علم سے بہرہ ور جو ہوتے ہیں نیکیاں وہ زمیں میں بوتے ہیں علم ہے روشنی چراغ ہے علم دل کی دھڑکن ہے اور دماغ ہے علم ہیں جو علم کتاب سے محروم ان کو دنیا میں کچھ نہیں معلوم ان کا جینا بھی ہے کوئی جینا آنکھ تو ہے مگر ہیں نا بینا جہل ظلمت ہے ...

مزید پڑھیے

کیڑے

مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچا مرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہے مگر یہ جان کر میں کتنا خوش ہوں کتنا آسودہ کہ میری روح میرا ذہن اور افکار و احساسات ہیں محفوظ کیڑوں سے مجھے ان کا خیال آتا ہے جن کی روح کو اور ذہن کو چاٹا ہے کیڑوں نے چھپانا چاہتے ہیں جو لباس فاخرہ میں ...

مزید پڑھیے

تب ہزاروں اندھیروں سے

اک روشنی کی کرن پھوٹ کر سرد ویران کمرے کے تاریک دیوار و در سے الجھنے لگی اور کمرے میں پھرتے ہوئے سینکڑوں زرد ذرے بلبلاتے سسکتے ہوئے میری جانب بڑھے میں نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی زرد ذروں سے گویا ہوا دوستو آؤ بڑھتے چلیں روشنی کی طرح روشنی کی طرف روشنی جو ہماری تمناؤں کی پیاس ...

مزید پڑھیے

سوال سوال سیاہ کشکول

مدتوں سے خموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میں کھڑا وہ میری پتلیوں میں سوالوں کا نیزہ اتارے ہوئے پوچھتا ہے میں تیری تمنا میں اپنے لیے درد کے اک سیہ رو سمندر سے تنہائیوں کے سیہ سیپ لایا سکھ کے سارے دیئے اور مسرت کی مالاؤں کو توڑ کر دکھ کا ور میں نے مانگا کہ تو میری رکھشا کو ...

مزید پڑھیے

کالے موسموں کی آخری رات

تب ہزاروں اندھیروں سے اک روشنی کی کرن پھوٹ کر سرد ویران کمرے کے تاریک دیوار و در سے الجھنے لگی اور کمرے میں پھرتے ہوئے سیکڑوں زرد ذرے صداؤں کے آغوش پر بلبلاتے سسکتے ہوئے میری جانب بڑھے میں نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی زرد ذروں سے گویا ہوا دوستو آؤ بڑھتے چلیں روشنی کی طرف روشنی ...

مزید پڑھیے

سوال سوال سیاہ کشکول

مدتوں سے خموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میں کھڑا وہ مری پتلیوں میں سوالوں کا نیزہ اتارے ہوئے پوچھتا ہے میں تیری تمنا میں اپنے لیے درد کے اک سیہ رو سمندر سے تنہائیوں کے سیہ سیپ لایا سکھ کے سارے دئے اور مسرت کی مالاؤں کو توڑ کر دکھ کا ور میں نے مانگا کہ تو میری رکھشا کو آئے مگر ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کا اسم اعظم

پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے ابھری تا بہ حد نظر نیلگوں آسمانوں سے الجھی پھر صداؤں کے بے نور سے شامیانے مقید فضاؤں کا حصہ بنے اور بگولوں میں الجھا ہوا اک مسافر گرا زردیوں نے صداؤں کا پیچھا کیا پھر صداؤں کے اندھے کنویں سے زبانوں کے پر شور رہٹوں کی اک اک کڑی سامنے آ گئی تب کسی نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 707 سے 960