دیوانگی
بہت کچھ چاہتا تھا میں ہمیشہ چاہتا تھا میں کہ دنیا خوب صورت ہو کہ جیسی پیار کرتے وقت ہوتی ہے چاہتا تھا شام ہوتے ہی اتر آئے فلک سے چاند بچوں کی ہتھیلی میں کہ شب تاریک ہو جتنی مگر نم ہو کھنک ہو اور پورب کی ہوائیں سبک رفتار گزریں چھتوں پر اوس ہو اور آنگنوں میں کہکشاں اترے ہمیشہ چاہتا ...