شاعری

محبت خواب جیسی ہے

کسی بھی آنکھ کی پتلی پہ چپکے سے اترتی ہے نشاں سا چھوڑ جاتی ہے یقیں کے رنگ دھندلا کر گماں سا چھوڑ جاتی ہے محبت کا کوئی کلیہ کوئی قانون لوگوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتا کوئی بھی اس کے گہرے بھید ہرگز پا نہیں سکتا چمکتی دھوپ کی ان چلچلاتی زرد تاروں سے بنا ہے اس کو فطرت نے یہ سب رنگوں سے ...

مزید پڑھیے

کہانی اوڑھ لی میں نے

زمانہ چاہتا ہے ہر گھڑی بس نت نئی باتیں نئے دن اور نئی شامیں نئی صبحیں نئی راتیں نئی قسمیں نئے وعدے نئے رشتے نئے ناتے پرانے جو بھی قصے تھے وہ اب اس کو نہیں بھاتے میں خود لفظوں کی مصرعوں کی بہم تکرار سے جاناں بہت اکتا گئی تھی اب تو میں نے یوں کیا لفظوں کو مصرعوں کو لپیٹا سرخ کاغذ ...

مزید پڑھیے

انوسینس

مرے بچے نے جب مجھ سے کہا مما ذرا جگنو مجھے لا دو مجھے تتلی کے رنگوں کو بھی چھونا ہے ستارے آسماں پر ہی اگے ہیں کیوں زمیں پر کیوں نہیں آتے مجھے بس چاند لا دو اس سے کھیلوں گا میں چونک اٹھی یہی کچھ میں نے اپنی ماں سے پوچھا تھا مرا معصوم سا بچپن جو مٹھی سے پھسل کر کھو گیا شاید مرا بچہ جو ...

مزید پڑھیے

ہدایت

روشنی کی کوئی سرحد نہیں کوئی مذہب نہیں ہوا کا کوئی جسم نہیں کوئی ملک نہیں پانی کا کوئی رنگ نہیں روشنی کو کوئی نام نہ دو ہوا کو کوئی جسم نہ دو پانی کو رنگین نہ بناؤ پانی میں لہو نہ ملاؤ

مزید پڑھیے

چھوٹے قد کے لوگ

بلند بانگ دعووں کی آوازیں کھوٹے سکوں کی طرح بجتی ہیں پھر بھی چھوٹے قد کے لوگ ان قد آور آوازوں کو سنتے رہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑوں کی اب کوئی قیمت نہ رہی پھر بھی بھوکی آنکھیں انہیں ڈھونڈھتی ہیں اور ناکام رہتی ہیں اور بے رحم ہاتھ انہیں جمع کرتے رہتے ہیں چھوٹے قد کے لوگ اپنی آواز کھو چکے ...

مزید پڑھیے

بارش

کل بھی بارش ہوئی تھی آج بھی بارش ہوگی اور پھر کھوکھلی عظمتیں پیدل چلتی سڑکوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ہوا کی طرح گزر جائیں گی آراستہ دوکانیں یہ تماشا دیکھیں گی اور ہنسے گی

مزید پڑھیے

میں سن نہیں سکتا

زندگی بس کی قطار کے عشق کی طرح سطحی سہی لیکن بے کیف نہیں زندگی دل کش ہے شہر کے ہنگاموں کی طرح میں ہنگاموں کا دل دادہ ہوں خموشی سے نفرت ہے مجھے کہ میں خاموشی میں بیتے کل کی ٹک ٹک گھڑی کی طرح سن نہیں سکتا

مزید پڑھیے

کوشش

تمہیں بھلانے کی کوشش میں میں نے نہ جانے کتنی لڑکیوں سے جھوٹا پیار کیا ہے

مزید پڑھیے

تعاقب

خواہش کے شکاری کتے میرا پیچھا کر رہے ہیں میری بو سونگھتے ہوئے زندگی کی آخری حد تک آ گئے ہیں اب خوابوں کا گہرا غار بھی مجھے بچا نہیں سکتا

مزید پڑھیے

ترک تعلق کے بعد

اب چائے ٹھنڈی نہیں ہوگی داڑھی اب نہیں بڑھے گی اب قمیص کے بٹن نہیں ٹوٹیں گے تغافل کسی کا اب نہیں ستائے گا اب کسی کے انتظار کا غم نہیں رلائے گا تھکن اب پیروں سے نہیں الجھے گی فاصلے اب درمیاں نہیں آئیں گے دل میں اب کوئی خلش نہیں ہوگی اب دیر تک نیند آئے گی آفس جانے کے لئے مجھے اب بیوی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 700 سے 960