شاعری

کوئی تو بات ایسی تھی

کوئی تو بات ایسی تھی جدائی کا سبب ٹھہری جو صدیوں کے سفر سے تھی مگر پلکوں پہ پل بن کر کھٹکتی ہے نفس میں آ کے چبھتی ہے جو دل میں چھید کرتی ہے زمانے پر عیاں سب بھید کرتی ہے کروں جب یاد تو یہ سانس رکتا ہے یہ دل تھم تھم کے چلتا ہے کوئی تو بات ایسی تھی

مزید پڑھیے

ڈائناسور

سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ کمیٹڈ بھی ہوتے ہیں لیکن سنا ہے اب یہ قسم نایاب ہو گئی ہے جیسے ڈائناسور

مزید پڑھیے

محبت خاک کر دے گی

کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی کہیں بھی تم چلے جاؤ کسی کے بھی بنو تم جس کسی کو چاہے اپناؤ ہماری یاد سے پیچھا چھڑانا اس قدر آساں نہیں جاناں کہا تھا ناں محبت خاک کر دے گی جلا کر راکھ کر دے گی

مزید پڑھیے

طمانچہ

مت تہذیب تمدن کی تم ہم سے بات کرو دل کا درد چھلک جائے گا ورنہ آنکھوں سے غیرت کے اس نام پہ اب تک جتنے خون ہوئے ان میں کل اک چار سال کی بچی بھی دیکھی جس نے ہاتھ میں کپڑے کی اک گڑیا تھامی تھی مٹھی میں اک ٹافی تھی جو اس نے کھانی تھی اس کی پلکوں پر حیرت تھی حیرت میں تھا خوف گردن پر خنجر کا ...

مزید پڑھیے

ٹریپ

کل شب فون کیا جب تم نے ہولے ہولے سے یوں بولے جاناں سن لو تم نے آ کر چاہت کا احساس دلا کر میرے دل کو جیت لیا ہے اتنی جلدی واپس کیوں تم لوٹ گئی ہو پلٹ کے ایک نظر بھی نہ دیکھا اس کی جانب آج تلک جو دیکھ رہا ہے راہ تمہاری جس کو سچ مچ مار گئی ہے چاہ تمہاری

مزید پڑھیے

بے درد لمحہ

بہت بے درد لمحہ تھا ہمارے درمیاں آ کر نہیں پل بھر رکا جاناں نہ ہم دونوں سے کچھ پوچھا نہ اس نے کچھ بھی بتلایا فقط چھو کر ہمیں گزرا لہو میں سرسراہٹ سی زباں میں لڑکھڑاہٹ سی عطا کرکے بھلا بیٹھا بہت بے درد لمحہ تھا بہت ہی یاد آتا ہے

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے کل کا انتظار

بادلوں کی طرح کیوں چھا گیا ہے دل پر غم وہ کون تھا جو آیا اور چلا گیا اپنی یاد کی طرح قدم کے حسیں نشاں چھوڑ کر گیا جنہیں ہواؤں نے مٹا دیا اور غبار سا اڑا دیا پتھروں کی طرح راستے خموش ہیں راستوں سے کیا کہیں فاصلے ہیں درمیاں جو وقت کی طرح چلا گیا وہ لوٹ کر نہ آئے گا شام کیوں اداس ...

مزید پڑھیے

تاج محل

دھوپ کتنی خوب صورت ہے یہاں حسیں چہروں پر دھوپ تاج محل پر دھوپ حسن خود چل کر یہاں حسن کو دیکھنے آتا ہے میں چلتے پھرتے حسن میں ایسا کھویا ہوں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تاج کو دیکھوں یا حسن گریزاں کو

مزید پڑھیے

حسرت

خالی گلاس کے مقدر میں ہونٹوں کا لمس ہاتھوں کی نرمی کہاں شبنم روتی ہے اسے فنا کا غم ہے لمس کی قیمت کا احساس نہیں ہے اس کو پھولوں کی آغوش میں موت بھی حسین ہو جاتی ہے زندگی کی طرح خوش قسمت ہیں وہ لفافے جن پر ثبت ہوتی ہے مہر حسین لبوں کی مجھے بھی کوئی چھولے مجھے بھی کوئی پی لے میں پھر ...

مزید پڑھیے

پہلے کہہ دیا ہوتا

کہا تم نے مجھے تم سے محبت ہو نہیں سکتی یہی کہنا تھا تو آغاز میں ہی کہہ دیا ہوتا نہ یہ کہتے ہوئے آنکھیں چراتے تم نہ میرے دل میں اتنا بے تحاشا درد ہی اٹھتا نہ میری بے بسی کا امتحاں ایسے لیا ہوتا اگر تم کو یہی کہنا تھا پہلے کہہ دیا ہوتا

مزید پڑھیے
صفحہ 699 سے 960