انوسینس

مرے بچے نے جب مجھ سے کہا مما
ذرا جگنو مجھے لا دو
مجھے تتلی کے رنگوں کو بھی چھونا ہے
ستارے آسماں پر ہی اگے ہیں کیوں
زمیں پر کیوں نہیں آتے
مجھے بس چاند لا دو اس سے کھیلوں گا
میں چونک اٹھی
یہی کچھ میں نے اپنی ماں سے پوچھا تھا
مرا معصوم سا بچپن
جو مٹھی سے پھسل کر کھو گیا شاید
مرا بچہ جو میرا آج ہے
اور آنے والا اک حسیں کل ہے
لہو میں اس کی باتوں سے ہی ہلچل ہے
یہ میرا قیمتی پل ہے
مرا بچہ حسیں تعبیر بن کر سامنے ہے اور
ماضی خواب لگتا ہے
تو کیا میں خواب سے آگے نکل آئی