شاعری

آخری خواہش

ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرح بے کار بے مقصد زندگی کے طاق میں رکھا ہوا ہوں میں وہ کون تھا جو چھوڑ گیا میرے وجود کے شیشے پر اپنی لہو رنگ یادوں کے نشاں اس سے پہلے کہ بارش ان نشانات کو دھو ڈالے میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں فرش پر بکھر جاؤں وقت کے پیروں میں چبھ جاؤں فرش زمیں کو رنگیں کر دوں اور خود ...

مزید پڑھیے

روشنی کا غلام

میرا سایہ میرے قد سے بڑا ہے لیکن جب روشنی کا زاویہ بدلے گا سایہ چھوٹا ہو جائے گا میرا سایہ روشنی کا غلام ہے

مزید پڑھیے

ذخیرہ گھر مقفل ہیں

گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہے آزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیں بد نصیبی گردنوں کا طوق ہے اور محنتوں کے ہات خالی ہیں ہوا کے ساتھ گندم کی مہک شہروں میں اڑتی ہے ذخیرہ گھر مقفل ہیں مشقت کا بدل کڑوے کسیلے موسموں کا ذائقہ ہے ہم پرانی جھولیاں پھیلائے خواہش کے ...

مزید پڑھیے

دشمنوں کے درمیان صلح

برگ آوارہ صدا آئے ہیں کوئی آوازۂ پا لائے ہیں تیرے پیغام رساں ہیں شاید اور پیمان وفا لائے ہیں گفتگو نرم ہے لہجہ دھیما اب کے انداز جدا لائے ہیں اک ندامت بھی ہے پچھتاوا بھی خفت جرم و جفا لائے ہیں آنکھ میں اشک پشیمانی کے ہونٹ پر حرف دعا لائے ہیں سارے سامان رفوگری کے جیب و دامن میں ...

مزید پڑھیے

نشان زندگی

کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پر کون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہے میرے بے رنگ ہیولے کا تعاقب کرتا میں تو محتاط تھا ایسا کہیں آتے جاتے اپنے سائے کو بھی پاتال میں چھوڑ آتا تھا اپنا سامان اٹھاتا تو شب نصف پہر دست ہشیار مٹاتا مرے قدموں کا سراغ جسم ہر سانس کی آواز مقفل رکھتا خاک ...

مزید پڑھیے

ہجر کی اندھی راتیں

کنپکنپاتا سا بدن برف سی ٹھنڈی راتیں یہ قیامت سی کئی مدتوں لمبی راتیں یہ سلگتے ہوئے جذبات میں دہکی راتیں نیم سی کڑوی کریلے سے کسیلی راتیں کتنی ظالم ہیں یہ تنہائی میں ڈوبی راتیں تم پہ اتری ہیں کبھی ہجر کی اندھی راتیں تم پہ اتری ہی نہیں ہجر کی اندھی راتیں محفلیں چپ ہیں کبھی چیختی ...

مزید پڑھیے

وقت کے منظر

جتنے عجیب منظر دکھتے ہیں ہم کو اکثر سب کھیل وقت کا ہے سب وقت کے ہیں منظر پھولوں کا منہ دھلائے شبنم سے جب سویرا پنچھی سنائیں پڑھ کر قرآن اور بھجن کو کلیاں کھلیں چمن میں گل مہکے انجمن میں سورج کی انگلی پکڑے کرنیں چلیں چمن کو تب وقت کا یہ پہیا کتنا لگے ہے سندر سب کھیل وقت کا ہے سب ...

مزید پڑھیے

یاد ماضی

زندگی کے سیاہ کمرے میں بیتی یادوں کے چند جگنو ہیں جو مسلسل تسلیاں دے کر مجھ کو سمجھا رہے ہیں برسوں سے صرف پانا ہی شرط عشق نہیں عشق تو وہ عظیم مرکز ہے جس میں ہر شے سے پیار ہوتا ہے جس میں کھونا بھی اک عبادت ہے اور جب جب یہ بات سن کر کے میں ذرا بھی اداس ہوتا ہوں تو مری کوٹھری کا ہر ...

مزید پڑھیے

خوبصورتی

چہرے بے شمار چہرے نظر آتے ہیں زندگی کی راہوں پر ناک نقش نہیں ہو بہت مختلف ان میں سے ایک ہی چہرہ سب سے حسین لگتا ہے کیوں جب حقیقت میں ایسا ہے نہیں کیا سچ ہی کہا گیا ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بستی ہے یا پھر عشق کرنے والے حسن کو سہی پہچانتے ہیں روح کی نظروں سے

مزید پڑھیے

حفاظت

میں اس سگریٹ کا ٹکڑا ہوں جسے تم نے پیا تھا اپنی خوشی کے لئے اور اب اپنے جوتے سے مسل دینا چاہتے ہو تاکہ اس کی چنگاری آگ نہ لگا دے تمہارے لکڑی نما وجود کو محفوظ رہنے کی تمہاری خواہش تمہارے جذبات کو سن کر دیتی ہے کسی دوسرے کی تڑپ تم پر کوئی اثر نہیں کرتی سگریٹ کے بچے ٹکڑے کو آسانی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 701 سے 960