شاعری

بہت کٹھن ہے سفر

میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گا یہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہے فریب ذات کا احساس گرچہ اچھا ہے بہت کٹھن ہے سفر آگہی کی منزل کا بھٹک رہا ہوں میں صدیوں سے ایسی دنیا میں جہاں پہ جسم سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے ہر ایک خواب کو رستہ بدلنا پڑتا ہے

مزید پڑھیے

امکان

یہ ممکن ہے کہ میں تم کو نہ یاد آؤں مگر یہ بھی تو ممکن ہے اتر کر شب کی سیڑھی سے کوئی بے نام پرچھائیں ہٹا دے برف یادوں کی

مزید پڑھیے

نشیب

پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیں گزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گی پرانے ماڈلوں کی گاڑیوں نے کیا کہا تم سے مسافر خواہشوں کی منزلوں پر بھی پہنچتے ہیں کہ رستے کی کسی کھائی میں اپنے نام کی قبروں میں جا کر لیٹ جاتے ہیں

مزید پڑھیے

زمیں پر آخری لمحے

اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میں چراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہے سمندر کشتیوں میں چھید کرتی مچھلیوں سے بھر گئے آخر مسافر منزلوں کی خواہشوں سے ڈر گئے آخر صدا اس قید گہہ سے بھاگ جانے کی کڑی کوشش میں زخمی ہے زمیں فالج زدہ ہونٹوں کی جنبش سے ٹھہر جانے کو شاید کہہ رہی ...

مزید پڑھیے

محبت حادثہ ہے

محبت حادثہ ہے حادثے سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر کر لو اس سے پہلے خواب ہو جاؤ جسے ہم حادثہ کہتے ہیں جیون کو گھڑی بھر میں مٹا کر خاک کرتا ہے کوئی الزام دھرتا ہے کبھی معذوریوں کے جال میں قیدی بنا کر چھوڑ دیتا ہے یہ بندھن توڑ دیتا ہے محبت حادثہ ہے حادثے سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر کر ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا خیال رکھنا

محبتوں کا خیال رکھنا کہیں نہ ایسا ہو بے دھیانی میں تم ہتھیلی کو کھول ڈالو ہوائیں سازش پہ آن اتریں تو خشک پتوں سا حال ہوگا گلاب رت کا زوال ہوگا محبتوں کا خیال رکھنا

مزید پڑھیے

آٹوگراف

وہ اکثر مجھ سے کہا کرتا کہ میں تمہاری شہرت سے بالکل بھی خائف نہیں ہوں میں بہت خوش ہوتا ہوں تمہاری کامیابیوں کو دیکھ کر لیکن لیکن جب تم کسی اجنبی کو کسی بھی اجنبی کو آٹوگراف دیتی ہو تو تو میں ڈر جاتا ہوں کیونکہ میں نے بھی تو میں نے بھی آغاز میں تم سے آٹوگراف ہی لیا تھا

مزید پڑھیے

ذرا سی بات تھی

تمہیں اپنا بنانا کس قدر دشوار ہے جاناں مگر اس سے بھی مشکل ہے تمہیں دل سے بھلا دینا ذرا سی بات تھی جو تم سے کہنی تھی مگر کہنے کی نوبت ہی نہیں آئی مقدر نے نہایت ہی سہولت سے تمہیں میرا بنا ڈالا بنا مشکل کے پھر میں نے تمہیں دل سے بھلا ڈالا

مزید پڑھیے

شو کیس سے جھانکتی گڑیا

کبھی ہم پھول ہوتے تھے گلابی نرم و نازک اوس میں بھیگا مہکتا مسکراتا خوشبوؤں کو چومنے والا محبت کرنے والے جھوم اٹھتے جب ہمیں پاتے ہمیں پوروں سے چھو کر روح تک محسوس کرتے تھے کئی کالر کئی آنکھیں انوکھے وصل کے لمحے ہمارے منتظر ہوتے ہمارے حسن کے چرچے گلی کوچوں میں ہوتے تھے اداؤں کے ...

مزید پڑھیے

مسیحا

خدا نے جب شفا تقسیم کی سارے زمانے میں تمہاری انگلیوں پر اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا کسی بیمار کو چھو لو شفا اس کا مقدر ہے تم ہر بیمار کو اپنا سمجھتے ہو مداوا اس کا کرتے ہو ہر اک بیمار کے چہرے پہ رونق تم سے قائم ہے دعا عیسائی کی تم کو لگ گئی شاید تمہی امید ہو اس کی شفا ہاتھوں پہ تم نے رب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 698 سے 960