شاعری

کاش کہ سارے انساں بھی

کیسے کیسے اونچے پیڑ ہرے بھرے پھل لادے پیڑ ثمر نہیں جس پر وہ بھی سب کو سایہ بانٹے پیڑ کاش کہ سارے انساں بھی پیڑوں جیسے ہو جاتے

مزید پڑھیے

گڑیا کی شادی

سنڈے کے دن ہم سب کھیلیں لطف ذرا چھٹی کا لے لیں ڈولی لاؤ گھوڑا لاؤ گڈا لاؤ گڑیا لاؤ ان دونوں کی کر دیں شادی آ جائیں باراتی ہادی کچھ دعوت نامے چھپوا لو کچھ مہمانوں کو بلوا لو گڈے کا صحرا لے آؤ گڑئیے کا گجرا لے آؤ گڈے کا صافہ بھی لانا گڑئیے کا لہنگا بھی لانا ہلدی پیسے گی نذرانہ مہندی ...

مزید پڑھیے

چھوٹے بڑے یہ پنچھی

دکھ سے پرے یہ پنچھی ہم سے بھلے یہ پنچھی آکاش چھو رہے ہیں چھوٹے بڑے یہ پنچھی حاصل جو پنکھ ہوتے ہم بھی اڑان بھرتے

مزید پڑھیے

ایک رہیں ہم

ہندو مسلم سکھ عیسائی آدم کی اولاد ہیں بھائی کیوں آپس میں کریں لڑائی سب ہیں اک دوجے کے بھائی عرفی بیدی جانی کاشی ہم سب ہیں بھارت کے باشی جہاں رہیں پر ایک رہیں ہم خوب پڑھیں اور نیک بنیں ہم الگ الگ ہے سب کی بھاشا ایک مگر ہے اپنی آشا گلشن سا ہو وطن ہمارا ہرا بھرا ہو چمن ہمارا کوئی ...

مزید پڑھیے

چڑیا خانہ

نجمی فہمی عظمیٰ رعنا آؤ دیکھیں چڑیا خانہ جن کے نام سنا کرتے ہو آج انہیں نزدیک سے دیکھو ایک سے ایک پرندے دیکھو آدم خور درندے دیکھو مور سروں پر تاج سجائے ناچ رہے ہیں پر پھیلائے بلبل دیکھو طوطا دیکھو کوئل دیکھو مینا دیکھو خوش آواز پپیہا دیکھو حد حد اور گوریا دیکھو بھونرا دیکھو ...

مزید پڑھیے

ہم کو آگے بڑھنا ہوگا

ہر حالت میں پڑھنا ہوگا زینہ زینہ چڑھنا ہوگا تعلیمی اس دوڑ میں اب تو ہم کو آگے بڑھنا ہوگا ورنہ پیچھے رہ جائیں گے سارا جیون پچھتائیں گے

مزید پڑھیے

جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے

ہم رنگ جنوں سے ہستی کی تصویر بدل دیں گے اک دن تدبیر و عمل سے دنیا کی تقدیر بدل دیں گے اک دن جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے ظلمت کو مٹائیں گے اک دن یہ کر کے دکھائیں گے اک دن دل جس سے ہوں روشن لوگوں کے وہ دیپ جلائیں گے اک دن جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے دیکھے ہیں جو اب تک لوگوں نے وہ خواب کریں گے ...

مزید پڑھیے

چلڈرنس ڈے

آج کا دن بچوں کا دن ہے بچوں کی خوشیوں کا دن ہے روشن ہوں بچوں کے چہرے ان پر ہوں خوشیوں کے پہرے تن پر کپڑے ہوں بھڑکیلے پاؤں میں جوتے ہوں چمکیلے ناچو گاؤ جشن مناؤ کھیلو کودو موج اڑاؤ عارفہؔ مونیؔ عرشیؔ سنبلؔ لہکو چہکو مثل بلبل فیضؔ شہیرؔ و نجمیؔ غازیؔ خوب رہے گی آتش بازی آج ...

مزید پڑھیے

جاگیں ہم سورج کے ساتھ

سورج نے یہ دیا پیام بانٹنے آیا ہوں میں کام بستر چھوڑو اور لے لو پہلے اپنے رب کا نام ذہن نشیں کر لیں یہ بات جاگیں ہم سورج کے ساتھ

مزید پڑھیے

کمپیوٹر

کمپیوٹر کا ہے یہ دور اب جینے کا بدلا طور دفتر دفتر گھر گھر آج دیکھ لو کمپیوٹر کا راج قدم قدم پر صبح و شام کمپیوٹر ہی آئے کام اس سے ہم کیوں ہوں محروم جب کمپیوٹر کی ہے دھوم دور ہمارا ہے کچھ اور کمپیوٹر سیکھو فی الفور چیز بنی حیرت انگیز اس کی میموری ہے تیز حرف سبھی اور سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 672 سے 960