کاش کہ سارے انساں بھی
کیسے کیسے اونچے پیڑ ہرے بھرے پھل لادے پیڑ ثمر نہیں جس پر وہ بھی سب کو سایہ بانٹے پیڑ کاش کہ سارے انساں بھی پیڑوں جیسے ہو جاتے
کیسے کیسے اونچے پیڑ ہرے بھرے پھل لادے پیڑ ثمر نہیں جس پر وہ بھی سب کو سایہ بانٹے پیڑ کاش کہ سارے انساں بھی پیڑوں جیسے ہو جاتے
سنڈے کے دن ہم سب کھیلیں لطف ذرا چھٹی کا لے لیں ڈولی لاؤ گھوڑا لاؤ گڈا لاؤ گڑیا لاؤ ان دونوں کی کر دیں شادی آ جائیں باراتی ہادی کچھ دعوت نامے چھپوا لو کچھ مہمانوں کو بلوا لو گڈے کا صحرا لے آؤ گڑئیے کا گجرا لے آؤ گڈے کا صافہ بھی لانا گڑئیے کا لہنگا بھی لانا ہلدی پیسے گی نذرانہ مہندی ...
دکھ سے پرے یہ پنچھی ہم سے بھلے یہ پنچھی آکاش چھو رہے ہیں چھوٹے بڑے یہ پنچھی حاصل جو پنکھ ہوتے ہم بھی اڑان بھرتے
ہندو مسلم سکھ عیسائی آدم کی اولاد ہیں بھائی کیوں آپس میں کریں لڑائی سب ہیں اک دوجے کے بھائی عرفی بیدی جانی کاشی ہم سب ہیں بھارت کے باشی جہاں رہیں پر ایک رہیں ہم خوب پڑھیں اور نیک بنیں ہم الگ الگ ہے سب کی بھاشا ایک مگر ہے اپنی آشا گلشن سا ہو وطن ہمارا ہرا بھرا ہو چمن ہمارا کوئی ...
نجمی فہمی عظمیٰ رعنا آؤ دیکھیں چڑیا خانہ جن کے نام سنا کرتے ہو آج انہیں نزدیک سے دیکھو ایک سے ایک پرندے دیکھو آدم خور درندے دیکھو مور سروں پر تاج سجائے ناچ رہے ہیں پر پھیلائے بلبل دیکھو طوطا دیکھو کوئل دیکھو مینا دیکھو خوش آواز پپیہا دیکھو حد حد اور گوریا دیکھو بھونرا دیکھو ...
ہر حالت میں پڑھنا ہوگا زینہ زینہ چڑھنا ہوگا تعلیمی اس دوڑ میں اب تو ہم کو آگے بڑھنا ہوگا ورنہ پیچھے رہ جائیں گے سارا جیون پچھتائیں گے
ہم رنگ جنوں سے ہستی کی تصویر بدل دیں گے اک دن تدبیر و عمل سے دنیا کی تقدیر بدل دیں گے اک دن جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے ظلمت کو مٹائیں گے اک دن یہ کر کے دکھائیں گے اک دن دل جس سے ہوں روشن لوگوں کے وہ دیپ جلائیں گے اک دن جب ہم بھی بڑے ہو جائیں گے دیکھے ہیں جو اب تک لوگوں نے وہ خواب کریں گے ...
آج کا دن بچوں کا دن ہے بچوں کی خوشیوں کا دن ہے روشن ہوں بچوں کے چہرے ان پر ہوں خوشیوں کے پہرے تن پر کپڑے ہوں بھڑکیلے پاؤں میں جوتے ہوں چمکیلے ناچو گاؤ جشن مناؤ کھیلو کودو موج اڑاؤ عارفہؔ مونیؔ عرشیؔ سنبلؔ لہکو چہکو مثل بلبل فیضؔ شہیرؔ و نجمیؔ غازیؔ خوب رہے گی آتش بازی آج ...
سورج نے یہ دیا پیام بانٹنے آیا ہوں میں کام بستر چھوڑو اور لے لو پہلے اپنے رب کا نام ذہن نشیں کر لیں یہ بات جاگیں ہم سورج کے ساتھ
کمپیوٹر کا ہے یہ دور اب جینے کا بدلا طور دفتر دفتر گھر گھر آج دیکھ لو کمپیوٹر کا راج قدم قدم پر صبح و شام کمپیوٹر ہی آئے کام اس سے ہم کیوں ہوں محروم جب کمپیوٹر کی ہے دھوم دور ہمارا ہے کچھ اور کمپیوٹر سیکھو فی الفور چیز بنی حیرت انگیز اس کی میموری ہے تیز حرف سبھی اور سب ...