شاعری

خوشیوں کی بوچھار کا دن

کل سے جانا ہے اسکول رہو نہ کھیلوں میں مشغول سورج دیکھو ڈوب چلا کپڑے بدلو لگ گئی دھول گزر گیا اتوار کا دن خوشیوں کی بوچھار کا دن

مزید پڑھیے

اسکول ٹیچر

اسکول کے ہمارے استاد پیارے پیارے ہم کو پڑھا رہے ہیں انساں بنا رہے ہیں کیا کیا نہیں سکھایا یوں حوصلہ بڑھایا بات ان سنی بتائی دنیا نئی دکھائی کی دور ہر برائی تہذیب بھی سکھائی کرنا نہیں لڑائی ہوتی ہے جگ ہنسائی ہوتے ہیں باپ سایہ ان سے یہ درس پایا تعلیم کا اثر ہے اونچا ہمارا سر ہے ان ...

مزید پڑھیے

اب انساں مجبور نہیں

ایسے بھی دن آئیں گے چاند نگر میں جائیں گے چھٹی کے دن میں ہم سب پکنک وہاں منائیں گے وہ دن ہرگز دور نہیں اب انساں مجبور نہیں

مزید پڑھیے

ہولی

کیا خوب آئی ہولی مستوں کی نکلی ٹولی کیا خوش گوار دن ہے اک پر بہار دن ہے اڑتا گلال دیکھو چہرے ہیں لال دیکھو پچکاریوں کے دھارے خوش رنگ ہیں نظارے جذبوں کی وہ خوشی ہے رنگوں میں جو چھپی ہے رنگوں سے تر بدن ہے رنگین پیرہن ہے سب ناچ گا رہے ہیں اودھم مچا رہے ہیں گلیوں میں گھومتے ہیں مستی ...

مزید پڑھیے

اردو

اردو زباں ہماری ہے جان و دل سے پیاری یہ مادری زباں ہے رگ رگ میں جو رواں ہے جب سے زبان کھولی اردو ہے اپنی بولی بچپن کی ہے یہ ساتھی کی اس نے ذہن سازی شیریں زباں ہے اردو چرچا ہے اس کا ہر سو اردو میں نغمگی ہے کیا اس میں دل کشی ہے اردو جو کوئی بولے کانوں میں رس یہ گھولے اردو میں پڑھنا ...

مزید پڑھیے

تماشائی بھی ظالم ہیں

وہ ظالم جو کسی کا ظلم سہتا ہے کہ وہ ظالم جو اس پر ظلم کرتا ہے کسی مظلوم پر لاٹھی چلاتا ہے وہ جو فرعون بن کر خود کو اس مظلوم کا آقا بتاتا ہے خدا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کرتا خدائی کی حدوں کو چھو کے آتا ہے کسی بے پیرہن کو سڑکوں پہ لاتا ہے نمائش کر کے لوگوں کو تماشا بھی دکھاتا ہے پھر اس ...

مزید پڑھیے

نثری نظم

دل تمہیں یاد کرتا ہے آ جاؤ کہ ان راستوں پر ابھی تک تیرے قدموں کے نشاں ہیں اس راستے کی دھول پاگلوں کی طرح تیری جدائی کا بین کرتی ہے آ جاؤ دل تمہیں یاد کرتا ہے وہ سایہ دار شجر وہ پھولوں کی ڈالیاں جن کے نیچے ہم نے کچھ لمحے ساتھ گزارے تھے آج بھی تیری یاد میں نم ہیں اک انمٹ سا سکوت طاری ...

مزید پڑھیے

جہیز

جہیز اک دور میں تحفہ تھا لیکن اب یہ لعنت ہے کہ جو ناسور بنتا جا رہا ہے زمانے میں اسی لعنت کا اب دستور بنتا جا رہا ہے بنت حوا کو جو سیم و زر کے دو پلڑوں میں تولا جا رہا ہے کس لیے آخر وہ بابل کیا کرے جس کی جواں بیٹی کے بالوں میں جواں سالی میں ہی چاندی اترتی جا رہی ہے اور بوڑھی ماں کی ...

مزید پڑھیے

رقص وحشت کروں

میں امیدوں کی یہ بجھتی کرنیں لئے یوں اندھیروں میں کب تک بھٹکتی پھروں اپنے زخموں پہ پھیلاؤں میں کب تلک بے صدا خواہشوں کی سلگتی قبا اور پھر کب تلک تشنگی کے جو پیوند ہیں جا بجا اس جہاں کی نظر سے چھپاتی پھروں کب تلک میں سنوں نغمۂ زندگی ہر اکھڑتی ہوئی سانس کے ساز پر کب تلک یوں جمائے ...

مزید پڑھیے

منظوم واقعہ

پہلے عادت ہوئی آدھے لفظ کہنے کی پھر سناٹے پھیلے جملوں میں دھیرے دھیرے حرف مٹے مری ڈائری سے اور ایک دن بھول گئی میں خود کو آنکھ کی ریت کے ساحل پر اس رات پھیل گیا سمندر دور کے خشک جزیروں پر

مزید پڑھیے
صفحہ 673 سے 960