خوشیوں کی بوچھار کا دن
کل سے جانا ہے اسکول رہو نہ کھیلوں میں مشغول سورج دیکھو ڈوب چلا کپڑے بدلو لگ گئی دھول گزر گیا اتوار کا دن خوشیوں کی بوچھار کا دن
کل سے جانا ہے اسکول رہو نہ کھیلوں میں مشغول سورج دیکھو ڈوب چلا کپڑے بدلو لگ گئی دھول گزر گیا اتوار کا دن خوشیوں کی بوچھار کا دن
اسکول کے ہمارے استاد پیارے پیارے ہم کو پڑھا رہے ہیں انساں بنا رہے ہیں کیا کیا نہیں سکھایا یوں حوصلہ بڑھایا بات ان سنی بتائی دنیا نئی دکھائی کی دور ہر برائی تہذیب بھی سکھائی کرنا نہیں لڑائی ہوتی ہے جگ ہنسائی ہوتے ہیں باپ سایہ ان سے یہ درس پایا تعلیم کا اثر ہے اونچا ہمارا سر ہے ان ...
ایسے بھی دن آئیں گے چاند نگر میں جائیں گے چھٹی کے دن میں ہم سب پکنک وہاں منائیں گے وہ دن ہرگز دور نہیں اب انساں مجبور نہیں
کیا خوب آئی ہولی مستوں کی نکلی ٹولی کیا خوش گوار دن ہے اک پر بہار دن ہے اڑتا گلال دیکھو چہرے ہیں لال دیکھو پچکاریوں کے دھارے خوش رنگ ہیں نظارے جذبوں کی وہ خوشی ہے رنگوں میں جو چھپی ہے رنگوں سے تر بدن ہے رنگین پیرہن ہے سب ناچ گا رہے ہیں اودھم مچا رہے ہیں گلیوں میں گھومتے ہیں مستی ...
اردو زباں ہماری ہے جان و دل سے پیاری یہ مادری زباں ہے رگ رگ میں جو رواں ہے جب سے زبان کھولی اردو ہے اپنی بولی بچپن کی ہے یہ ساتھی کی اس نے ذہن سازی شیریں زباں ہے اردو چرچا ہے اس کا ہر سو اردو میں نغمگی ہے کیا اس میں دل کشی ہے اردو جو کوئی بولے کانوں میں رس یہ گھولے اردو میں پڑھنا ...
وہ ظالم جو کسی کا ظلم سہتا ہے کہ وہ ظالم جو اس پر ظلم کرتا ہے کسی مظلوم پر لاٹھی چلاتا ہے وہ جو فرعون بن کر خود کو اس مظلوم کا آقا بتاتا ہے خدا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کرتا خدائی کی حدوں کو چھو کے آتا ہے کسی بے پیرہن کو سڑکوں پہ لاتا ہے نمائش کر کے لوگوں کو تماشا بھی دکھاتا ہے پھر اس ...
دل تمہیں یاد کرتا ہے آ جاؤ کہ ان راستوں پر ابھی تک تیرے قدموں کے نشاں ہیں اس راستے کی دھول پاگلوں کی طرح تیری جدائی کا بین کرتی ہے آ جاؤ دل تمہیں یاد کرتا ہے وہ سایہ دار شجر وہ پھولوں کی ڈالیاں جن کے نیچے ہم نے کچھ لمحے ساتھ گزارے تھے آج بھی تیری یاد میں نم ہیں اک انمٹ سا سکوت طاری ...
جہیز اک دور میں تحفہ تھا لیکن اب یہ لعنت ہے کہ جو ناسور بنتا جا رہا ہے زمانے میں اسی لعنت کا اب دستور بنتا جا رہا ہے بنت حوا کو جو سیم و زر کے دو پلڑوں میں تولا جا رہا ہے کس لیے آخر وہ بابل کیا کرے جس کی جواں بیٹی کے بالوں میں جواں سالی میں ہی چاندی اترتی جا رہی ہے اور بوڑھی ماں کی ...
میں امیدوں کی یہ بجھتی کرنیں لئے یوں اندھیروں میں کب تک بھٹکتی پھروں اپنے زخموں پہ پھیلاؤں میں کب تلک بے صدا خواہشوں کی سلگتی قبا اور پھر کب تلک تشنگی کے جو پیوند ہیں جا بجا اس جہاں کی نظر سے چھپاتی پھروں کب تلک میں سنوں نغمۂ زندگی ہر اکھڑتی ہوئی سانس کے ساز پر کب تلک یوں جمائے ...
پہلے عادت ہوئی آدھے لفظ کہنے کی پھر سناٹے پھیلے جملوں میں دھیرے دھیرے حرف مٹے مری ڈائری سے اور ایک دن بھول گئی میں خود کو آنکھ کی ریت کے ساحل پر اس رات پھیل گیا سمندر دور کے خشک جزیروں پر