شاعری

میں شام سے شاید ڈوبی تھی

ناصرؔ کے سہانے شعروں میں۔۔۔۔ کاغذ کے پرانے ٹکڑوں میں، یہ چند اثاثے نکلے ہیں۔۔۔۔!!! کچھ پھول کی سوکھی پتیاں ہیں، کچھ رنگ اڑی سی تحریریں یہ خط کے خالی لفافے ہیں، اور میری تمہاری تصویریں، یہ دیکھو کلائی کے گجرے۔۔۔۔ یہ ٹوٹے موتی مالا کے۔۔۔۔ لو آج کی ساری رات گئی!!!

مزید پڑھیے

یادیں

چھوٹے چھوٹے تہواروں کی کیسی خوشیاں تھیں ہم پھلجڑیاں لے کر صحن میں بھاگے پھرتے تھے شب برات پہ میں نے بھی مانگی تھی ایک دعا اس کے ہونٹوں پر بھی کتنے حرف سنہرے تھے گرمی کی تپتی دوپہریں اور پیپل کا پیڑ میری دکھتی آنکھوں میں سکھ چین اترتے تھے اک جیسی بے مقصد سوچیں اک جیسے ...

مزید پڑھیے

سن حوا کی بیٹی

کوئی دن ایسا بھی آیا کیا تم جی پائی ہو اپنے لیے تم مر پائی ہو اپنے لیے کبھی کھل کر ہنسنا سیکھا ہو کسی خواب کو چھو کر دیکھا ہو جاگی ہو اپنی صبحوں میں کبھی سوئی اپنی آنکھ سے تم ڈالی ہو اپنی جھولی میں کبھی چاہت اپنے حصے کی کبھی تنہائی کے پیالے میں کوئی لمحہ امرت جیسا بھی کبھی روح کے ...

مزید پڑھیے

سب کا ہو ایک نعرہ

دنیا پہ یہ ہے روشن ہر قوم کا ہے مسکن سب کے لئے یہ گلشن جیسے ہو ماں کا دامن ہر دیش سے ہے نیارا ہندوستاں ہمارا ہندو کا ہے دلارا مسلم کو بھی ہے پیارا اس دیش کو ہمیشہ سب نے لہو سے سینچا ہر آنکھ کا ہے تارا ہندوستاں ہمارا نانکؔ معینؔ چشتیؔ خسروؔ کبیرؔ تلسیؔ اقبالؔ میرؔ فانیؔ آزاد نہروؔ ...

مزید پڑھیے

یاد رہے

ملا کتابوں سے پیغام اس سے ہوگا نیک انجام دین دھرم سے ہو کے پرے ہر انساں کے آئیں کام یاد رہے یہ بات سدا سب کو بھائے گی یہ ادا

مزید پڑھیے

وقت گنوانا ٹھیک نہیں

جب دیکھو بس ہیڈ اور ٹیل کرتے ہیں جو دن بھر کھیل پاس کہاں وہ ہوتے ہیں ہو جاتے ہیں آخر فیل وقت گنوانا ٹھیک نہیں اور پچھتانا ٹھیک نہیں

مزید پڑھیے

سرکس آیا

اخباروں نے شور مچایا سرکس آیا سرکس آیا پھر سرکس کی دھوم مچی ہے شہرت اس کی خوب ہوئی ہے گلیوں گلیوں شور ہے اس کا ہر جانب پھر زور ہے اس کا گھر گھر ہے سرکس کا چرچا مچل پڑا ہے بچہ بچہ آؤ بچو سرکس دیکھیں اب کے کتنا ہے رس دیکھیں کون ہے کتنا چوکس اب کے کون ہے کتنا بے بس اب کے سوٹ پہن کر ہاتھی ...

مزید پڑھیے

اپنا لیں ہم یہ دستور

سات سمندر پار بھی جائیں وہاں سے بھی کچھ سیکھ کے آئیں اور وہاں کی اچھی باتیں دیش کے لوگوں میں پھیلائیں اگر ترقی ہے منظور اپنا لیں ہم یہ دستور

مزید پڑھیے

ہمیں فخر ہے

ہونٹوں پر ہے یہی کہانی سات عجوبوں میں لا ثانی اس کا کوئی بدل نہیں ہے سارے جگ نے بات یہ مانی فخر ہمیں ہے تاج محل پر مرمر کی شہکار غزل پر

مزید پڑھیے

چاند کے مثل

سورج ڈوبا نکلا چاند بالکل چاندی جیسا چاند دھرتی کو روشن کرنے کتنا اجالا لایا چاند اک دن ہم بھی چاند کے مثل دور اندھیارا کر دیں گے

مزید پڑھیے
صفحہ 670 سے 960