شاعری

شہر

شہر آسودہ ذہنوں کی آماجگاہ ہے تو پھر صاحبو کیوں درختوں کو کٹوا دیا اور ان کی جگہ آج ہر سمت ویران خالی عمارات کے سلسلے ہیں فقط

مزید پڑھیے

تعاقب

شب و روز جانے مجھے کیوں یہ احساس ہے کوئی میرے تعاقب میں بڑھتا چلا آ رہا ہے میں خود ہی ان بھاری قدموں کی آواز کے بوجھ سے دب رہا ہوں کہ میں اپنے ہی دست و بازو میں اب لمحہ لمحہ سمٹنے لگا ہوں! میں اب خود ہی میں ذرہ ذرہ بکھرنے لگا ہوں! میں اب اپنی ہمسائیگی سے بھی ڈرنے لگا ہوں! میں شاید! ...

مزید پڑھیے

اے زرد رو

میں جانتی نہیں تجھے تو کون تھی نہیں پتا مگر تری حیات کی دعا مری حیات ہے تو تندرست ہو کے کب دکھائے گی

مزید پڑھیے

تمہیں میں نے بتایا تھا

شکستہ پا نہیں دیکھو شکستہ روح بھی ہوں میں مرے مفلوج ہاتھوں کو حیات نو کا اب کوئی اشارہ مت دکھا دینا مری بے نور آنکھوں کو نوید خواب الفت مت سنا دینا بتایا تھا کہ مدت سے مرے معذور پیروں نے کسی کے ساتھ چلنے کی اجازت تک نہیں دی ہے مرے ٹوٹے بدن میں زندگی کا ایک بھی ذرہ نہیں باقی تمہیں ...

مزید پڑھیے

ایک پرانا خواب

بہت قدیم سا وہ گھر، بہت بہت قدیم سا۔۔۔۔! وہ پتھروں کا گھر کوئی، اسی کے ایک تنگ سے کواڑ میں کھڑی ہوئی، وہ کون تھی؟ وہ کون تھی جو خواب میں علیل تھی؟؟؟ وہ جس کے زرد جسم کا تمہیں بہت خیال تھا! رقیب تھی مری؟ مگر بھلی بھلی لگی مجھے۔۔۔۔!! تھی اس کے زرد رنگ پر گھنی اداسیوں کی رت، پگھل پگھل ...

مزید پڑھیے

ایک سو بیس دن

ہم دسمبر میں شاید ملے تھے کہیں۔۔!! جنوری، فروری، مارچ، اپریل۔۔۔۔ اور اب مئی آ گیا۔۔۔۔ ایک سو بیس دن۔۔۔۔ ایک سو بیس صدیاں۔۔۔۔ گزر بھی گئیں تم بھی جیتے رہے, میں بھی جیتی رہی۔۔۔۔ خواہشوں کی سلگتی ہوئی ریت پر زندگانی دبے پاؤں چلتی رہی میں جھلستی رہی۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ جھلستی۔۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

آئینے سے جھانکتی نظم

میرے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے۔۔۔۔ پیارے بابا! میں کچھ بال توڑوں؟ کہ ہم ان کو بیچیں گے۔۔۔۔ پھر جو روپے ہوں گے، ان سے جہیز اور شادی کی تیاریاں ہو سکیں گی۔۔۔۔ میں یوں آپ کا روز بجھتا ہوا، اور مرجھایا چہرہ نہیں دیکھ پاتی۔۔۔۔ سنیں! میرے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے

مزید پڑھیے

چناب تجھ کو یاد ہے

کہ تیرے ساحلوں کی نرم ریت پر ہوئی تھیں مہرباں وہ انگلیاں انہی کی ایک پور نے جو رقص عشق میں کیا اک اسم پھر امر ہوا چناب تیری ریت پر وہ اسم اب کہیں نہیں بتا وہ ہاتھ کیا ہوئے وہ نقش سب ہوا ہوئے وہ خواب سب دھواں ہوئے نہیں نہیں یہ جھوٹ ہے یہ خواب ہے عجیب سا ابھی بھی کچھ نہیں گیا میں ...

مزید پڑھیے

ویڈیو

ہاتھوں میں رسیاں ہیں پیروں میں بیڑیاں ہیں آنکھوں میں ایک جنگل جنگل میں سیپیاں ہیں میں خواب کیا سناؤں ہونٹوں پہ کرچیاں ہیں شہزادیاں تھیں پہلے اب صرف لڑکیاں ہیں اک ایک کرکے بجھتی ہم موم بتیاں ہیں لکھ کر مٹا دی جائیں ہم وہ کہانیاں ہیں ہم پر بھی اک صحیفہ ہم حوا زادیاں ہیں

مزید پڑھیے

ہمارے کمرے میں پتیوں کی مہک نے

سگریٹ کے رقص کرتے دھوئیں سے مل کر، عجیب ماحول کر دیا ہے اور اس پہ اب یہ گھڑی کی ٹک ٹک نے، دل اداسی سے بھر دیا ہے کسی زمانے میں ہم نے، ناصرؔ، فرازؔ، محسنؔ، جمالؔ، ثروتؔ کے شعر اپنی چہکتی دیوار پر لکھے تھے اب اس میں سیلن کیوں آ گئی ہے۔۔۔۔؟ ہمارا بستر کہ جس میں کوئی شکن نہیں ہے، اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 669 سے 960