شاعری

جان پیاری ہے

یکا یک اڑتے اڑتے اجنبی معصوم صورت اک پرندہ بالکنی میں رکھے پنجرے کے پاس آ کر مری مینا سے سرگوشی کے لہجے میں لگا کہنے سنا تم نے بدیسی دوستوں نے تم کو یہ پیغام بھیجا ہے ہمیں تم سے محبت ہے محبت ہے ہمیں سر سبز گہری وادیوں سے کہساروں آبشاروں سے محبت ہے ہمیں ان ہم صفیروں سے اخوت کے ...

مزید پڑھیے

پچھلے بیس برسوں میں

اپنے اپنے کاموں سے وقت جو بھی بچتا تھا ساتھ ہم بتاتے تھے جو سمے گزرتے تھے ان کی جگ کہانی بھی ایک دوسرے کو ہم شوق سے سناتے تھے لوٹ کر میں آفس سے جس گھڑی تھکا ہارا اپنے گھر میں آتا تھا سب تکان دن بھر کی اپنے در کی چوکھٹ سے دور چھوڑ آتا تھا یاد ہے مجھے اب تک دن وہ تلخ ماضی کا باس اپنے ...

مزید پڑھیے

سچی آنکھیں جھوٹی آنکھیں

یہ آنکھیں اک ایسے شخص کا عطیہ ہیں جس نے اس دوزخ میں رہ کر اک جنت آباد کری تھی نفس کو زنجیریں پہنا کر روح اپنی آزاد رکھی تھی

مزید پڑھیے

میں اپنے لہجے میں بولتا ہوں

میں اپنے ہاتھوں سے سوچتا ہوں اور اپنے پوروں سے انگلیوں کے نہ کھلنے والی گرہوں کو ذہنوں کی کھولتا ہوں برسنے والی سخن کی بارش سے سچے لفظوں کے موتیوں کو میں رولتا ہوں میں اپنے لہجے میں بولتا ہوں

مزید پڑھیے

وہ حمد رب جلیل

ہمیں تعلیم دیتا ہے اشاروں سے کنایوں سے اچھوتے استعاروں سے کبھی تشبیہ کے روشن ستاروں سے ہمارے ذہن و دل کی ہر تہ نا صاف کو آلودگی سے پاک کرتا ہے کبھی لفظوں کے تن پر سے قبائے پر تکلف چاک کرتا ہے ہر اک باطل رویے کو جلا کر راکھ کرتا ہے

مزید پڑھیے

بام و در

ہر اک ساعت ہر اک نفس میں کہ مر رہا ہوں بکھر رہا ہوں کسے خبر ہے کہ میں جو کل تھا وہ اب نہیں ہوں کسے خبر ہے کہ میں جو چند لمحے پیشتر تھا وہ اب نہیں ہوں کسے خبر ہے کہ میں جو اب ہوں وہ پھر نہ ہوں گا کہ میں جو ہر لکھتا مر رہا ہوں بکھر رہا ہوں کسے خبر ہے کہ یہ عمارت مرے بدن کی عظیم تر ہے کہ ...

مزید پڑھیے

زمانہ چال چل جائے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ برسوں بعد بنجر اس زمین دل میں کونپل سر اٹھاتی ہے کلی کھلتی ہے تتلی رقص کرتی گنگناتی ہے کرن اک جگمگاتی ہے ہوائے خوش گمانی کا فرحت انگیز جھونکا مجھ سے سرگوشی میں کہتا ہے تمہیں اس سے محبت ہے اسے تم سے محبت ہے نہ تم اظہار کرتے ہو نہ وہ اقرار کرتی ہے یہ سچ ...

مزید پڑھیے

بنت حوا

لوٹ کر جب نہ گھر گئی ہوگی اک قیامت گزر گئی ہوگی رات پر ہول بھیڑیوں کا غول وہ اکیلی تھی ڈر گئی ہوگی کوئی آدم نہ کوئی آدم زاد دور تک جب نظر گئی ہوگی غیر کا ہاتھ جب بڑھا ہوگا جیتے جی وہ تو مر گئی ہوگی اپنے تن کو جلا کے غیرت سے زخم سب دل کے بھر گئی ہوگی بنت حوا جو مانگتی ہے کفن سر سے ...

مزید پڑھیے

رنگ برنگی ایک چنریا

جب سے ابا کے چہرے کو لکوا مار گیا تھا اور دادا کو دل کا دورہ زیادہ تر وہ گھر کے اندر رہتے آپس ہی میں باتیں کرتے وقت بتاتے باہر کے سب کام بڑے بھیا کی ذمہ داری باغ بغیچے کورٹ کچیری اور پٹواری فصل اگاتے ہاری اپنے گھر کے مردانے کا حال برا تھا ہر کمرے میں کاٹھ کباڑ مکڑی جالے کس کو فرصت ...

مزید پڑھیے

کسی کو یاد کب ہوگا

کبھی تم نے کسی چھوٹے سے بچے کو سسکتے نیند میں بھیگی ہوئی آنکھوں سے دیکھا ہے کبھی پوچھا ہے خود سے بھی سبب اس کا کبھی سوچا ہے تم نے کس لئے معصوم روتا ہے کیوں آنکھیں بند اپنی جان کھوتا ہے کھبی تم نے بھی اپنے بچپنے میں خواب بوئے تھے کبھی سوتے میں روئے تھے تمہیں بھی یاد کب ہوگا سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 655 سے 960