شاعری

دیر‌ سویر تو ویسے بھی ہو جاتی ہے

چاندنی راتوں کے رسیا اس رات بھی اس کی راہیں دیکھ رہے تھے مدہوشی میں ناچ رہے تھے وقت کی مدھم ہوتی لو سے ٹھنڈے ہوتے جسموں کو اب سینک رہے تھے چاند اس رات بھی کافی دیر سے نکلا تھا پچھلی کچھ راتوں سے اکثر چاند کو دیر ہو جاتی تھی چاند کا رستہ تکتے تکتے چاند سے چہرے والی بچی روتے روتے سو ...

مزید پڑھیے

فاختہ کا رنگ زرد تھا

کھٹ بڑھئی کی دستک پر تناور شجر نے کندھے جھٹک کر اپنی بے نیازی کا اظہار کیا ہوا کا تیز جھونکا گھڑی بھر کے لیے پتوں سے الجھا پھولی ہوئی سانس سے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ نے ساتھ نہ دیا شجر نے بڑی بے اعتنائی سے اس کی طرف ایک نظر دیکھا مگر جھونکا اتنی دیر میں دور جا چکا تھا ابھی اسے اور ...

مزید پڑھیے

نقاب جتنے ہیں

سفر میں پیش کوئی حادثہ بھی ممکن ہے ذرا سے دیر میں آہ و بکا بھی ممکن ہے مرا وجود کبھی بے اماں نہ ہو جائے یہ جسم مر کے کہیں بے نشاں نہ ہو جائے مرا پتہ نہ چلے کچھ مری خبر نہ ملے گزر ہوا تھا جہاں سے وہ رہ گزر نہ ملے شکار ہو گیا جب مرگ ناگہانی کا خیال آئے گا لوگوں کو تب نشانی کا نقاب ...

مزید پڑھیے

آئنہ چٹخ جائے

آئنے کے چہرے سے جھانکتی ہوئی آنکھیں سوچتی ہوئی آنکھیں کھل کے کچھ نہیں کہتیں چپ بھی یہ نہیں رہتیں روبرو تم آئینہ آج اپنے رکھ لینا جو بھی دل میں ہے پنہاں صاف صاف کہہ دینا کل کو عین ممکن ہے موت اپنی مر جائے آئنہ چٹخ جائے

مزید پڑھیے

زندگی اور موت

موت اک خواب ہے اجزائے بدن کا ہمدم زندگی نام ہے احساس کی بیداری کا موت جس رہ‌‌ گزر شوق میں رہزن کا نقاب زندگی رخت اسی راہ طلب گاری کا زندگی جسم و دل و جاں کی منظم قوت موت اظہار پریشانی‌ و لاچاری کا موت صحراؤں میں بکھرے ہوئے ذروں کا غبار زندگی نقش انہی ذروں کی چمن کاری کا موت بے ...

مزید پڑھیے

شاعر کی التجا

پیام شوق کو سوز اثر دے نوا میں آگ کی تاثیر بھر دے حکومت کا نہیں میں آرزو مند نہ یہ کہتا ہوں جاہ و مال و زر دے عطا کر لفظ و معنی کے جواہر در نایاب لا ثانی گہر دے دل تیرہ کو رکھ آگاہ فطرت سواد چشم کو حسن نظر دے قمر کی روشنی خورشید کی ضو سکوت شام نغمات سحر دے پیام شوق کو سوز اثر دے نوا ...

مزید پڑھیے

سرحدیں

یہ سرحدیں.... پڑوسنیں کبھی ہنسی خوشی رہیں کبھی ذرا سی بات ہو تو لڑ پڑیں نہ آنگنوں میں ایک ساتھ رقص ہو نہ بام پر ہی باہمی قدم پڑے گلی میں کوئی کھیل ہو نہ تال ہو، نہ میل ہو کشیدگی کے نام پر گھٹن کی ریل پیل ہو یہ سرحدیں.... پڑوسنیں پڑوسنوں سے کیا کہیں جہاں میں رنجشوں کے سب گلیشئر پگھل ...

مزید پڑھیے

درختوں کے لیے

اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گا اور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گے ایسے عالم میں بہت پیش کشیں ہوں گی تمہیں تم مگر اپنی روایت سے نہ پھرنا ہرگز شاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہے کسی فٹپاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹا ہوا تختہ بننا میلے کپڑوں میں سہی لوگ محبت سے جہاں بیٹھتے ہیں کسی ...

مزید پڑھیے

مجھے محبت ہے

مجھے محبت ہے حسین چہروں سے حسیں پھولوں سے لہلہاتے سبزہ زاروں سے گنگناتے آبشاروں سے مجھے محبت ہے اپنوں سے پیاروں سے غم سے غمگساروں سے انساں سے انساں کے پرستاروں سے محبت کو الزام نہ دو ہوس کا نام نہ دو محبت اک جذبہ ہے محبت کا مجھے محبت ہے زمیں سے آسماں سے چاند تاروں سے دنیا سے دنیا ...

مزید پڑھیے

فرشتہ کوئی نہ مجھے روک سکے

تیرا چہرہ جھیل میں کھلتا ہوا کنول ہو جیسے چاند پانی میں اتر آیا ہو جیسے سکوت ندی میں چھایا ہوا ریت چاندی سی چمکتی ہوئی سرگوشیاں چاندنی میں کوئی کرتا ہوا آہستہ آہستہ لب و رخسار کو چومنے کی کوشش کرتا ہوا قانون فطرت سے جیسے اجازت لیتا ہوا جھیل کی آغوش میں جسم کو اپنے ڈبوتا ہوا پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 656 سے 960