دیر سویر تو ویسے بھی ہو جاتی ہے
چاندنی راتوں کے رسیا اس رات بھی اس کی راہیں دیکھ رہے تھے مدہوشی میں ناچ رہے تھے وقت کی مدھم ہوتی لو سے ٹھنڈے ہوتے جسموں کو اب سینک رہے تھے چاند اس رات بھی کافی دیر سے نکلا تھا پچھلی کچھ راتوں سے اکثر چاند کو دیر ہو جاتی تھی چاند کا رستہ تکتے تکتے چاند سے چہرے والی بچی روتے روتے سو ...