بے آواز دکھ
دکھ ندی ہے گہری سمرتیوں کی بہتی رہی بے آواز تھکی ٹوٹی اکیلے پن سے پر کہاں ٹھہری
دکھ ندی ہے گہری سمرتیوں کی بہتی رہی بے آواز تھکی ٹوٹی اکیلے پن سے پر کہاں ٹھہری
ہر روز کی طرح دن آج بھی سورج کی گواہی لے کر آخر اندھیری گلیوں میں گھس آیا اور ہم اپنے اپنے گھر کے نیایے دھیش سورج کی گواہی کے عادی ہو چکے ہیں سچ مان لیتے ہیں اور یوں کہیں نہ کہیں اپنے ہی بکھراؤ میں ساجھی ہو چکے ہیں ہمیں اس سورج کی گواہی نہیں چاہیے جو کسی پیشے ور گواہ کی طرح دن کی ...
کانپتے ہاتھوں سے میں جہاں لکھوں گا پیار وہاں کمل پتر کھل جائے گا ایک دن بھیتر جنم لیتے امڈتے نادانراگی ساگر کی لہروں پر تر کر اک دن وہ سچ ہو جائے گا سچ مجھے معلوم نہیں تھا
دو لہریں ساتھ رہتی ہوئی جب کبھی ملنے کو ہوتی ہیں تو لگتا ہے ماں کے ہونٹھ کچھ کہنا چاہتے ہیں ندی کبھی سوتی نہیں ہے مڑتی ٹھٹھکتی بھٹکتی اور ٹکراتی ا ورام بہتی رہتی ہے ندی صدیوں تک بہت ہوا تو اونگھتی ہیں اس کی لہریں اداسی میں کبھی کبھی پانی کی پرتوں کے بیچ گونجتا ہے سناٹا کچھ ٹوٹتا ...
کال نے لکھ دیا مجھے شبدوں کے مانند میرے یگ کے چہرے پر چاہتا ہوں فقط شبدوں کا سلگتا گل مہر بطور وصیت اگلے یگ کو سونپا جائے
جا رہے تھے دو گدھے ایک راہ سے اپنی نادانی پہ وہ نازاں ہوئے راستہ گم تھا غبار و گرد سے جا رہے تھے گڈریے بھیڑیں لئے سوچتے جاتے تھے کچھ دونوں گدھے راستہ طے کر رہے تھے سوچتے آگے والا دل سے یوں گویا ہوا پیچھے جو آتا ہے میرے یہ گدھا رہنمائی کر رہا ہوں اس کی میں بادشاہی کر رہا ہوں سب کی ...
دکھ ندی ہے گہری سمرتیوں کی بہتی رہی بے آواز تھکی ٹوٹی اکیلے پن سے پر کہاں ٹھہری
کبھی تمہارا چہرہ آئینہ تھا جس کی لکیروں کا تمل ناد دکھ کے پہاڑوں سا میری بھیتری ندی کے تھپیڑوں سے ٹکرا کر گلتا تھا درد رس رس کر ہوتا جاتا تھا دیپت دنوں دن آج بھی وہی چہرہ ہے وہی لکیریں ہیں وہی دکھ ہیں وہی پہاڑ ہیں دوست نہیں ہے تو بس وہ بھیتری ندی جس نے دکھ کے پہاڑوں کو گلا دیا ...
ہر اس چیز کے بارے میں کچھ بھی کہنا خطرناک ہے جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا جیسے پانی پانی کی خاموشی خاموشی کے بھیتر اتل میں انل سی پل پل دھدھکتی چھٹپٹاتی بھاشا اور پھر یہ کہنا بھی اتنا آسان کہاں ہے کہ پرانا قلعہ پرانا ہے یا قلعے کے پتھروں سے لگا میکھلا کار ٹھہرا ہوا پانی بھاشا کو ...
دشائیں مجھ میں سمٹ آئی ہیں آسمان ظلم و جبر کے باوجود اپنے تمام رنگوں کے ساتھ میری آنکھوں میں اتر رہا ہے دھرا کی شرا شرا میں امڑ آیا ہے سمے کا راگ ہواؤں کے پار اسپرش سے پرے بھیتر جو بولتا ہے کچھ نراکار آکھر کی آگ میں نہایا ہوا ہاتھوں میں پور پور میں کرم سا سمایا ہوا پوروج کے ...