شاعری

دعا اور بد دعا کے درمیاں

دعا اور بد دعا کے درمیاں جب رابطے کا پل نہیں ٹوٹا تو میں کس طرح پہنچا بددعائیں دینے والوں میں میں ان کی ہمنوائی پر ہوا مامور ہم آواز ہوں ان کا کہ جن کے نامۂ اعمال میں ان بد دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کے کہے پر آج تک بادل نہیں برسے کبھی موسم نہیں بدلے کوئی طوفاں، کوئی سیلاب ان کی ...

مزید پڑھیے

’’اٹلانٹک سٹی‘‘

زمین نور و نغمہ پر خدائے رنگ کے بکھرے ہوئے جلووں کو پہچانیں اسے سمجھیں۔ اسے جانیں یقیں آ جائے تو مانیں یہاں تو کہکشاں مٹھی میں ہے لعل و جواہر پیرہن پر ہیں شعاعوں کے کئی دھبے ہر اک اجلے بدن پر ہیں یہاں رنگیں مشینیں دائروں میں جھک کے ملتی ہیں کسی سے روٹھ جاتے ہیں کسی کے ساتھ چلتے ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی اتنی سادہ بھی نہیں کہ ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سیٹ اس کے رنگوں کا احاطہ کر سکے مگر رنگین سیٹ بھی تو شاعرانہ مبالغے سے کام لیتے ہیں ہو سکتا ہے پیکٹ بھر حیات میں سات پیکٹ رنگ انڈیلنے والوں کی حقیقی زندگی یہی ہو روح اور ضمیر کی عمر بھر کی کمائی سیاہ رنگ کی پڑیا ہے کسی فاحشہ کے ...

مزید پڑھیے

سمیتا پاٹل

دل کے مندر میں خوشبو ہے لوبان کی، گھنٹیاں بج اٹھیں، دیو داسی تھی وہ کتنے سرکش اندھیروں میں جلتی رہی دیکھنے میں تو مشعل ذرا سی تھی وہ نور و نغمہ کی رم جھم پھواروں تلے مسکراتی ہوئی اک اداسی تھی وہ پانیوں کی فراوانیوں میں رواں اس کی حیرانیاں کتنی پیاسی تھی وہ حسن انساں سے فطرت کی ...

مزید پڑھیے

جفائے دل شکن

یہ نئی ہے گردش چرخ کہن دشمن جاں ہے جفائے دل شکن وہ بلا آئی گئی ہے دل پہ بن اب نہیں ہے ہائے جائے دم زدن پا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زن لوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن پہلے محشر سے قیامت آ گئی حشر کے سر پر مصیبت آ گئی لب پہ گردوں کے شکایت آ گئی جان پر افسوس آفت آ گئی پا برہنہ گھر سے نکلے ...

مزید پڑھیے

ڈر

جب بازار گیا تھا تو اچھاؤں کا کھیت تھا آنکھوں میں لہراتا ہوا سپنوں کا سمدر تھا بازار سے لوٹا ہوں اب تو گھر گرہستی کی اچھا سپنا بن کر سامنے کھڑی ہے مجھے ڈر ہے میرے پیچھے بازار سے لوٹنے والا میرا پڑوسی سپنا نہ بن جائے

مزید پڑھیے

پرچھائیں

بوڑھا خوش تھا پل پر کھڑا ہوا اپنی پرچھائیں کو جیوں کی تیوں دیکھ کر پانی میں تبھی ایک لڑکا آیا اور اس نے ڈھیلا دے مارا اب بوڑھے کی اداس پرچھائیاں کانپ رہی تھیں لڑکے کی آنکھوں میں پانی میں نہیں لیکن ابھی لڑکا اس بوڑھے کی طرح خوش نہیں تھا اور نہ ہی وہ اپنی پرچھائیں دیکھ رہا تھا ...

مزید پڑھیے

وقت اور ہم

شاہ وقت کا اپنا کوئی چہرہ نہیں ہوتا ہم خادموں نے ہی اس کے چہرے کو اس قدر سنوار دیا ہے کہ آئنے کے سامنے گھنٹوں کھڑے رہ کر وہ خود بینی کر سکے چہرے کے بھیتر دیکھو آئینہ در آئینہ چہرہ وقت کے پار دوستو ہم خود ہی چہرے ہیں اور اپنے آئینے بھی خود ہیں ہم سب کے چہروں میں ہی وقت کا بے رحم ...

مزید پڑھیے

پہاڑ

جاتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے بتیاتے یہ پہاڑی لوگ مجھے لگتا ہے اپنے دکھوں کو سیک سیک کر سکھوں میں بدل رہے ہیں گنگناتے ہوئے جو دیکھتے دیکھتے چھیج جائیں گے سرکتی ہوئی دھوپ کی طرح کیا سکھ کو دھوپ کے ٹکڑوں کی طرح تھوڑی دیر تک اور ٹھہرایا نہیں جا سکتا سوچتے سوچتے میں چلتا ہوں چل دیتا ہوں ...

مزید پڑھیے

رشتہ

بھوک کے شیشے بھی دھندھلے پڑ چکے ہیں اب شیشہ تو ذریعہ تھا اٹھے ہوئے ہاتھوں اور سوئے ہوئے بد رنگ دھبوں کے بیچ آر پار دیکھنے کا بندھی ہوئی مٹھی اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کے بیچ چپ اور چلاتے ہوئے ہاتھوں کے بیچ روٹی ایک رشتہ تھی اور یہ رشتہ بھی بھوک کے شیشوں کی طرح دھندھلا ہوتا جا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 636 سے 960