کوی سے
درد تمہارا تھا شبد بھی تمہارے تھے اور گان بھی تمہارے تھے لیکن پرتدھونیوں سے گونجتا آکاش بھی کیا تمہارا تھا کوی
درد تمہارا تھا شبد بھی تمہارے تھے اور گان بھی تمہارے تھے لیکن پرتدھونیوں سے گونجتا آکاش بھی کیا تمہارا تھا کوی
ایسا کچھ ضرور ہے دنیا میں جس کی پرچھائیں نہیں بنتی اکثر دکھ بھی اپنے لئے کوئی سانچہ تلاش کر لیتے ہیں دکھوں کی فطرت ہی ہوتی ہے سمے کی گود میں بیٹھ کوئی نہ کوئی روپ دھارن کر لینا پرچھائیں سے پرے بھی ہوتی بہت سے دکھوں کی آواز آوازیں کہاں چلی جاتی ہیں کیا وہ سو جاتی ہیں چپ کے سینے ...
سپنے میں سپنا دیکھا تھا نور کا اک دریا بہتا تھا نغمہ بھی وہ کیا نغمہ تھا آہ سے میری جو اپجا تھا جانے کیا ہونے والا تھا ہر منظر سہما سہما تھا ٹھہرے پانی میں ہلچل تھی پتھر کس نے پھینک دیا تھا سناٹے کے باہر بھیتر بس میں ہی چپ چاپ کھڑا تھا چہرے پر صحرا کا منظر آنکھوں میں دریا دیکھا ...
میں نے دیکھا بھیکھ مانگنے والے بچے اپنے ہی سوانگ پر جب ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں تو بھیکھ دینے والا اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کرتا ہے اور دتکارنے والا اپنی کرورتا پر پچھتاتا ہے آخر یہ پھیلے ہوئے ہاتھ میری نیند سے نکل کر تمہارے سپنوں تک کیوں نہیں آتے کہیں ایسا نہ ہو کہ آس امید پر جینے ...
رات ہر بار لیے خوف کے خالی پیکر خوں مرا مانگنے بے خوف چلی آتی ہے اور جلتی ہوئی آنکھوں کے تحیر کے تلے ایک سناٹا بہت شور کیا کرتا ہے کچھ تو کٹتا ہے تڑپتا ہے بہاتا ہے لہو اور کھل جاتے ہیں ریشوں کے پرانے بخیے رات ہر بار مری جاگتی پلکیں چن کر اندھے گمنام دریچوں پہ سجا جاتی ہے اور ...
کسی کی یاد کا چہرہ مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑکی سے جو مجھ کو بلاتا ہے سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے اسے میں بھول جاؤں گی ملائم کاسنی لمحہ کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے بہت دن سے ...
بظاہر کہیں کوئی ہلچل نہیں ہے حیات رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے بہت عام بے کار الجھے دنوں کی ملائم سی گٹھری میں رکھی ہوئی ایک بے نام سی دوپہر ہے ہوا چل رہی ہے نہ جانے کہاں گہرے بے چین بادل کے ٹکڑے اڑے جا رہے ہیں پریشان سڑکوں پہ بہتے ہوئے زرد پتے فضا میں بکھرتا ہوا کچھ غبار ...
سرسراہٹ ہے نہ آہٹ ہے نہ ہلچل نہ چبھن درد چپ چاپ کسی دھیمی ندی کی صورت سانس لیتی ہوئی گانٹھوں میں اتر آیا ہے کتنے برسوں کی ریاضت سے ہنر مندی سے ایسے بکھرے ہوئے ریشوں کو سمیٹا ہے مگر اور ہر بار ہر اک بار بہت جتنوں سے جسم کو جان سے جوڑا ہے مگر بے سبب سانس کی کٹتی ڈوری کب سے تھامے ...
دھیرے دھیرے بہنے والی ایک سلونی شام عجب تھی الجھی سلجھی خاموشی کی نرم تہوں میں سلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھا سردیلی مخمور ہوا میں میٹھا میٹھا لمس گھلا تھا دھیرے دھیرے خواب کی گیلی ریت پہ اترے درد کے منظر پگھل رہے تھے خواہش کے گمنام جزیرے ساحل پر پھیلی خوشبو کے مرغولوں کو نگل رہے ...
پھر گھور اماوس رات میں کوئی دیپ جلا اک دھیمے دھیمے سناٹے میں پھول ہلا کوئی بھید کھلا اور بوسیدہ دیوار پہ بیٹھی یاد ہنسی اک ہوک اٹھی اک پتا ٹوٹا سرسر کرتی ٹہنی سے اک خواب گرا اور کانچ کی درزوں سے کرنوں کا جال اٹھا کچھ لمحے سرکے تاروں کی زنجیر ہلی شب ڈوب گئی