میری خاموشی
میری خاموشی میں وقت کی آواز پنہاں ہے اس میں ہے شمع کی لرزاں جنبش اور آگ کی گرمی طوفان کا اضطراب ہے اور سیلاب کی توانائی میری خاموشی میں انقلاب زمانہ نہاں ہے
میری خاموشی میں وقت کی آواز پنہاں ہے اس میں ہے شمع کی لرزاں جنبش اور آگ کی گرمی طوفان کا اضطراب ہے اور سیلاب کی توانائی میری خاموشی میں انقلاب زمانہ نہاں ہے
وہ ان گنت خط جو کتنی ہی زندگیوں میں میں نے تمہیں لکھے تھے اور تم نے ہر ایک خط مسکراتے ہنستے روتے کئی کئی بار پڑھا اور اٹھا کر رکھ دیا ایک بار اور پڑھنے کو جیسے یہ خط ہی تمہارا اور میرا سب کچھ ہوں ان خطوں میں ہم نے کئی رنگ ڈھالے سفید پاکیزگی سبز تازگی سرخ تمازت اور نیلی گہرائی تم ...
اس شام تمہاری آنکھوں میں جلتی ہوس کی لو مجھے وقت کی شاہراہ پر بہت دور لے آئی جہاں تم نے ممنوع پھل کھا کر خدا کی حکم عدولی کی تھی اس عظیم گناہ میں تھا تمہارے اپنے وجود کا احساس اور تھا اس لو سے دمکتے بدن میں میرے انسان ہونے کا عکس
وہ ایک نیم پاگل لڑکی بیٹھی رہتی تھی کنارے پر باندھے امید کی ڈور کہ لوٹ آئے گی اس کی کشتی جو بہہ گئی تھی تیز لہروں میں کبھی کنارے پر ہی دکھتی تھی صبح شام ہر آنے والی لہر کی آہٹ بھر سے چمک جاتی تھیں اس کی آنکھیں لیکن ہر آتی لہر خالی ہاتھ ہی آتی اور لوٹتی تو لے جاتی پیروں کی زمیں ...
تم آئے آپ ہی یا کہ بلائے گئے کچھ یاد نہیں اب جو ٹھہرے ہو میرے ذہن میں تو اس کتاب کے موافق جسے بک شیلف میں سجانے سے بھی ڈرا ہوں میں اکثر کسی اور کی نظر میں چڑھ جائے شاید یہ گوارا ہی نہیں ہر حرف جس کا یاد ہے زبانی مجھ کو اور ہر صفحہ کی عبارت میں جس کی پڑھا ہے خود کو کئی کئی بار میں ...
زندگی کے سارے صفحے کہیں بھی کبھی بھی کھول دینا مناسب نہیں کچھ بے ایمانی ہو جاتی ہے ان میں لکھے حرف بے پردہ ہوتے ہی قدر تو ہمیشہ پردہ داری کی ہی ہوا کرتی ہے جیسے حجاب میں لپٹی کوئی دل ربا یا پھر کسی کتاب کا بنا پڑھا ہوا وہ آخری پنا
مردہ سناٹوں اور گھپ اندھیروں کو چیر کر لے چلا ایک ہاتھ مجھے خود ہی سے ملانے دیکھ کر اس کے یقین پر اپنا یقین لگتا ہے میرا کوئی دوست ہی رہا ہوگا
مری دہلیز کا پتھر ہے تم چاہو تو لے جاؤ اسے سب پتھر ایک سے ہوتے ہیں کل بھی اک بچہ آیا تھا سہما سہما میں نے اس سے یہ بات کہی تم چاہو تو لے جاؤ اسے سب پتھر ایک سے ہوتے ہیں بچہ ایک دم بول پڑا کچھ پتھر ہیرے ہوتے ہیں میں عقل و خرد کا شیدائی میں نے جب اس پر غور کیا اور آنکھ کھلی مرے سامنے بت ...
اٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے جاں دے دیں گے ہم پہ مر جائیں گے جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے الفت بھی ہے قہر بھی تیرا تیری رحمت بھی ہے تیرا دوزخ بھی ہے تیری جنت بھی ہے تو جدھر بھیج دے گا ادھر جائیں گے
آسماں کی طرح نارسائی کی چادر ہمارے سروں پر تنی ہے (جس میں دکھ کے ستارے ٹکے ہیں) اس کی جانب سے نظریں چرائیں آج کی رات سب بھول جائیں آؤ جینے کی باتیں کریں کون جانے کہ کیا ہے وفا کس نے ڈھونڈے سے پایا خدا ان جھمیلوں میں پڑنے سے کیا آؤ جینے کی باتیں کریں