شاعری

سفر دیوار گریہ کا

تمہیں اس شہر سے رخصت ہوئے کتنا زمانہ ہو چکا پھر بھی ابھی تک میرے کمرے میں تمہارے جسم کی خوشبو کا ڈیرا ہے بظاہر تو تمہارے بعد ابھی تک میں بہت ہی مطمئن اور شانت لگتا ہوں مگر جب رات کے پچھلے پہر کمرے میں آتا ہوں تو جانے کیوں اچانک میری آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگتی ہے پلکیں بھیگ جاتی ...

مزید پڑھیے

چھاجوں برستی بارش کے بعد

رفاقت کے نشے میں جھومتے دو سبز پتوں نے بہت آہستہ سے تالی بجائی اور کہا دیکھو'' حسن عباس! اتنی خوبصورت رت میں کوئی اس طرح تنہا بھی ہوتا ہے جو تم اس طور تنہا ہو''!؟ یہ کہہ کر دونوں اک دوجے سے یوں لپٹے کہ جیسے ایک دن تو مجھ سے لپٹی تھی اسی لمحے مرے ہونٹوں پہ تیرا شہد آگیں لمس جاگ ...

مزید پڑھیے

آثار قدیمہ سے نکلا ایک نوشتہ

ہماری آنکھ میں نوکیلے کانٹے اور بدن میں زہر کے نیزے ترازو ہو چکے تھے جب سیہ شب نے گلابی صبح کے غرقاب ہونے کی خبر پر ہم سے فوری تبصرہ مانگا ہمارے ہونٹ اتنے خشک، اور اتنے دریدہ تھے کہ ہم اک لفظ بھی کہتے تو ریزہ ریزہ ہو جاتے قلم ہاتھوں میں کیا لیتے کہ اپنے ہاتھ پہلے ہی قلم تھے (کیا ...

مزید پڑھیے

تاوان

ہم اپنی یرغمالی خواہشوں کی بازیابی کے لیے کب تک نہ جانے اور کب تک جرعہ جرعہ خرچ ہوتی عمر کا تاوان ادا کرتے رہیں گے جانے کب تک؟

مزید پڑھیے

ادھورے موسموں کا ناتمام قصہ

یہ کون جانے کہ کل کا سورج نحیف جسموں سلگتی روحوں پہ کیسے کیسے عذاب لائے گئی رتوں سے جواب مانگے نظر نظر میں سراب لائے یہ کون جانے! یہ کون مانے کہ لوح احساس پر گئے موسموں کے جتنے بھی نقش کندہ ہیں سب کے سب آنے والی ساعت کو آئینہ ہیں جو آنکھ پڑھ لے تو مرثیہ ہیں یہ کون دیکھے ،یہ کون ...

مزید پڑھیے

درخت

وہ ایک درخت کھڑا ہی رہتا تھا ہمیشہ ہمیشہ سے کتنی بار بدلے موسم کتنی کونپلیں پھوٹی اور جانے کتنی بار سارے پتے سوکھ کر جھڑ گئے اسے ایک دم ننگا کر کھڑا رہا وہ پھر بھی گھونسلے بنتے رہے انڈے کچھ پھوٹے کچھ سانپوں نے ڈس لیے اور جو پنپ سکے اس کی چھایا میں وہ جس دن اونچا اڑ سکے اڑ ...

مزید پڑھیے

میری دوست

میری ایک دوست ہم دم اور ہم راز اس کی گہری اداس آنکھیں سرود کے سروں جیسی برگد کی چھالوں جیسے بال ہونٹوں پر ان کہا پیار لمس میں جاں گداز نرمی اس کی خاموشی میں آخری دم تک میری ہم سفری کا وعدہ ہے یاس نام ہے اس کا

مزید پڑھیے

ہیروشیما

ہیروشیما کی سر زمیں پر سرکاری دفتر کے گنبد کے سامنے جہاں کئی برس پہلے میرے ہی ہاتھوں نے بم گرایا تھا آج میں تاریخ کا گناہ گار اپنے وجود کے معنی کی تلاش میں سر جھکائے کھڑا ہوں جہاں ہر جواب فقط سناٹا ہے نہ کسی سانس کی آواز نہ چراغ کی لو اس سناٹے میں میرے بم سے جلے پیڑ سے ایک انکر ...

مزید پڑھیے

تاج محل

پونم کی روشنی میں تاج محل کمال کی سرحد کے اس پار بے حد اکیلا اور بہت اداس جیسے کوئی بلا کی حسینہ ہجوم کے بیچ کھڑی ہر نگاہ سے ناآشنا ہر نگاہ میں برہنہ

مزید پڑھیے

سکون

ایک طویل عمر تم اور میں اپنے اپنے گھروں میں بند تھے جہاں زندگی نے کڑے پہرے لگا رکھے تھے اصولوں کے رشتوں کے اور فرائض کے اس تمام مدت میں جو شاید سترہ برس تھی یا ستر ایک دوسرے کی سانس کی آواز نے ہمیں تپش دی آواز جو بہت ہلکی بہت مدھم تھی تپش جو دور تھرتھراتی لو سے بھی ملائم اور ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 617 سے 960