شاعری

گاندھی

آغوش میں پھولوں کی تھرکتا ہوا شعلہ انگاروں کے گہوارے میں سوئی ہوئی شبنم اک جذبہ اک احساس اک انداز اک آواز نکھرا ہوا اک درد تپایا ہوا اک غم انسان کی صورت میں دھڑکتا ہوا اک دل پیکر میں عناصر کے کوئی دیدۂ پر نم سینے میں سموئے ہوئے گنگا کا تموج کاندھے پہ ہمالہ کا اٹھائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

انا کا پرندہ

سمٹتے ہوئے سایوں کے فرش پر دیر سے یوں ہی بیٹھا ہوا ہوں کہ گزرے کوئی قافلہ جادۂ روز و شب سے تو پوچھوں کہ درماندگی کی سزا کیا ہے مجھ کو بتاؤ مگر ڈر رہا ہوں کہ کوئی مسافر مری بات پر مسکرایا تو میں کس طرح جی سکوں گا مری زندگی ایک سرکش انا ہے پرندے کی صورت عناصر کے زر کار پنجرے کی ...

مزید پڑھیے

وجد

زندگی گھومتی چکراتی ہے بل کھاتی ہے اور پھر وجد کے نقطے پہ ٹھہر جاتی ہے دائرے چار طرف رقص کناں رہتے ہیں دل آوارہ ٹھہر جائے جہاں زاد رکے رقص کے دن پہ چڑھی گردش حالات کی دھوپ رقص بے خود میں مرا شوق جنوں شامل ہے جھومتا ناچتا رہتا ہے زمانہ سارا تتلیاں مور پرندے تو کہیں آب رواں شمع کی ...

مزید پڑھیے

بنت حوا

بنت حوا ہوں میں عورت ہے مرا اسم شریف ہے یہ پہچان مری اور یہی ہے تعریف مجھ کو ہے فخر کہ اس قوم سے نسبت ہے مری فاطمہؓ مریم و سیتا سی ہیں رہبر جس کی میں بھی اشرف ہوں نگاہوں میں خدا کی میرے میری تو گود میں کھیلے ہیں مسیحا کتنے کتنے ولیوں نے مرے ہاتھ کی روٹی کھائی کتنے شاہوں نے مرے ...

مزید پڑھیے

نظم

تم چاک گریباں ہو ہم بھی تہی داماں ہیں تم ہم سے گریزاں ہو ہم تم سے گریزاں ہیں تم نوک قلم جاناں اک نظم فغاں لکھو جو بول نہ پاؤ وہ سب حرف نہاں لکھو کچھ حرف دعا لکھو کچھ بہر خدا لکھو جو نقش ہوئے دل پر وہ نقش وفا لکھو پھر یاد کرو گے تم جب پاس نہ ہوئے گی آغوش لحد میں جب دم ساز یہ سوئے ...

مزید پڑھیے

گھنگرو کھول ذرا

پورن ماشی رات سجی جب ساتھ زمیں بھی ڈول پڑی اک مورت آخر بول پڑی اک بار نہیں سو بار نہیں کیوں چاہت کا اقرار کروں کیوں رقص کو اپنے عام کروں جس کام کا حاصل کوئی نہ ہو کیوں ایسا کوئی کام کروں کیوں ایسا کوئی کام کروں ہے کوئی جو مجھ میں کہتا ہے جو دل میں ہے اب بول ذرا کچھ دیر کو گھنگرو ...

مزید پڑھیے

بہت بے آبرو ہو کر

بجی گھنٹی جو چھٹی کی تو ہنستے گاتے ہم نکلے کسی موٹے سے مولیٰ بخش کے سہہ کر ستم نکلے بتاؤ ہاتھ پر پڑنے سے اس کا حال کیا ہوگا نظر آ جاتے ہیں جس بید کے ہم سب کا دم نکلے کبھی جب بھول کر بستے کو اپنے کھول کر بیٹھے پھٹی نکلیں کتابیں اور سب ٹوٹے قلم نکلے نتیجہ گاہ سے نکلے تو اس حالت میں ہم ...

مزید پڑھیے

مسلمان اور ہندوستان

تاریخ بہ ہر دور الٹتی ہے ورق اور مذہب میں ہے لیکن وطنیت کا سبق اور تو مرد مسلماں ہے تو اک بات ذرا سن آگوش تیقن سے حقیقت کی صدا سن یہ سچ ہے مسلمان تباہی سے گھرا ہے اک وسوسۂ لا متناہی سے گھرا ہے آلام کی حد اپنے شکنجے میں لئے ہے اک دور مصائب ہے کہ نرغے میں لئے ہے آرام ہے مفقود سکوں پاس ...

مزید پڑھیے

مزدور بے چارا

ہوتا نہیں دم بھر بھی سکوں اس کو گوارا جس خاطر بیتاب کی فطرت ہی ہے پارا مظلوم کی فریاد سے جل جائے گا عالم صد شعلہ بہ داماں ہے ان آہوں کا شرارا غم‌ دیدوں کو دے عیش و طرب اور عطا کر تاج سر سلطانیٔ تیمور گدا را گرما دے رگیں اس کی امارت کے لہو سے جس ہستیٔ بے مایہ کا غربت ہے سہارا تخریب ...

مزید پڑھیے

آرزو

آج پھر مرے دل کو یہ آرزو ہے نہ بچھڑے جو مرے روبرو ہے یہ مجھ سے چاہت کے وعدے جتا رہا ہے میرا ہے یقیں دل ربا ہے یہ دل کشمکش میں مبتلا ہے کہ اس کیفیت سے گزر چکا ہے یہ چاہت کے دعوے بھی سن چکا ہے اور بکھرے جذبے بھی چن چکا ہے اس چاہنے والے کے دل میں میں ہوں میں اس کا ارماں دل و جگر ہوں میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 610 سے 960