شاعری

نیا عشق

خزاں کے موسم کی پہلی پت جھڑ حسین رنگوں سنہرے پتوں کی رہ گزر پر گزشتہ برسوں کا گیت سننے میں یوں مگن ہے خزاں کے موسم کی پہلی بارش بکھرتے خوابوں کا دکھ سمو کر برس رہی ہے شجر پہ ہر سو بکھرتی کرنیں یوں ٹہنیوں پر سنہرے آنچل سجا سجا کر نمو کا سپنا دکھا رہی ہیں عجیب مشکل سی آ پڑی ہے شجر کا ...

مزید پڑھیے

آنے والا سرد موسم

اک خاموشی چھا رہی ہے خشک پتے ہر طرف بکھرتے جا رہے ہیں اور آنے والے سرد موسم کا پیغام سنا رہے ہیں ساتھ ہی اک عجیب بے یقینی اداسی بن کر چھا رہی ہے آسمان کا نیلا پن اور اڑتے پرندے بھی شام کی گہری چپ پر خاموش ہیں سرد موسم کی خبریں گرم ہیں

مزید پڑھیے

اجالے بانٹ دینا تم

سفر پہ جب بھی نکلو تم دیا جب بھی جلاؤ تم ہمیشہ من میں رکھو تم دیے کی لو بڑھانا ہے اجالا بانٹ دینا ہے سفر میں جب بڑھو گے تم یقیناً جان لو گے تم اجالے بانٹ دینے سے سفر میں ساتھ دینے سے محبت ساتھ رہنے سے کبھی بھی کم نہیں ہوتی مسافت من نہیں چھوتی نئی کرنیں ابھرتی ہیں نئی راہیں بلاتی ...

مزید پڑھیے

خیال وصل

خیال وصل میں میں نے جو سارے لفظ لکھے ہیں سبھی ویران شاموں میں انہی گمنام راہوں میں وہ شمع بن کے چمکے ہیں کہ جیسے تم سے ملتے ہیں وصال یار کی مانند کڑکتی دھوپ میں بھی جب تنہا سایہ ہوتا ہے یہ دل پھر سے مچلتا ہے ہر اک لفظ بول اٹھتا ہے کسی شہر تمنا میں محبت کی مشعل جیسے مچلتی اور بلکتی ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ہاتھ پر خوشبو

ہوا کے ہاتھ پر خوشبو اداسی شام کی اوڑھے سکوت بام و در چھو کر محبت کا یقیں کیسے دلائے گی ردائے دل نشیں شب کی فضائے خوش گمانی میں حسیں سپنے جو لائے گی تو اپنی رائیگانی پر بہت آنسو بہائے گی پلٹ جائے گی یہ خوشبو تھکی ہاری ہوا کی اس ہتھیلی پر کہ جس پر گنگنائی تھی

مزید پڑھیے

المیہ

دریچے میں کھڑی بارش کو سڑکوں پر برستے دیکھتی ہوں سوچتی ہوں دکھ کو اپنے نام کیا دوں میں تمناؤں کو گروی رکھ کے خوابوں کے سبھی دربند کر کے کتنی مشکل سے چھڑا کر اپنا دامن چھت اور آنگن کی تمنا سے فقط اک گھر کی خواہش میں یہ زنداں مول لے کر اس پہ اپنے نام کی تختی لگائی ہے بس اک خواہش ہے ...

مزید پڑھیے

تحیر عشق

بہ مشکل ایک حیرانی کو آنکھوں سے نکالا تھا کہ پھر اک اور حیرانی یہ بستی کیسی بستی ہے جہاں پر میرا ہر اک خواب حیرانی کی اک چادر کو اوڑھ سو رہا ہے اور تحیر کی قبا پہنے ہوئے ہیں اشک سارے اور یہاں تک کہ ہمارے عشق نے بھی ہجر کے اک سنگ پر جو لفظ لکھا ہے وہ حیرت ہے وہی اک لفظ جو اب میرے دل ...

مزید پڑھیے

ڈر

یہ ڈر جو ساتھ چلتا ہے مری ماں کی امانت ہے میں جب چھوٹی سی بچی تھی تو میری ماں نے اس ڈر کو مرے دل کے کسی سنسان گوشے میں بڑی مشکل سے ڈالا تھا وہ کہتی تھی کہ میں تنہا کہیں باہر نہ جاؤں کیوں نہ جاؤں بحث کرتی میں وہاں پر بھیڑیے پھرتے ہیں انسانوں کی صورت میں میں اس کی بات سن کر دل میں ہنس ...

مزید پڑھیے

کرن سے ایک مکالمہ

اندھیرا ڈانٹ کر بولا سنو سورج کی اے ننھی کرن اب گھر چلی جاؤ تمہاری راجدھانی پر حکومت اب مری ہوگی کرن نے مسکرا کر دیو قامت اور پر ہیبت اندھیرے پر نظر ڈالی تحمل سے یقیں اور حوصلے کو بھر کے اپنے نرم لہجے میں کہا دیکھو چلی تو جاؤں گی لیکن ہر اک دل میں رہوں گی اک نئی امید کی صورت ہر اک ...

مزید پڑھیے

تعلق

تعلق کانچ کا برتن نہیں ہاتھوں سے چھوٹے اور چکنا چور ہو جائے تعلق آہنی دیوار ہوتا ہے تعلق آسمانوں پر چمکتا اک ستارہ بھی نہیں جو رات بھر چمکے مگر جیسے ہی سورج اپنی کرنوں کو زمیں پر پھیلنے کا حکم دے تو وہ کہیں روپوش ہو جائے تعلق آسماں ہے تعلق موسموں کا حسن کب ہے جو سدا باقی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 611 سے 960