شاعری

مادر وطن کا نوحہ

میرے بدن پر بیٹھے ہوئے گدھ میرے گوشت کی بوٹی بوٹی نوچ رہے ہیں میری آنکھیں میرے حسیں خوابوں کے نشیمن میری زباں موتی جیسے الفاظ کا درپن میرے بازو خوابوں کی تعبیر کے ضامن میرا دل جس میں ہر نا ممکن بھی ممکن میری روح یہ سارا منظر دیکھ رہی ہے سوچ رہی ہے کیا یہ سارا کھیل تماشہ (خوں ...

مزید پڑھیے

دوسرا تجربہ

کل شب عجیب ادا سے تھا اک حسن مہرباں وہ شبنمی گلاب سی رنگت دھلی دھلی شانوں پہ بے قرار وہ زلفیں کھلی کھلی ہر خط جسم پیرہن چست سے عیاں ٹھہرے بھی گر نگاہ تو ٹھہرے کہاں کہاں ہر زاویے میں حسن کا اک تازہ بانکپن ہر دائرے میں کھلتے ہوئے پھول کی پھبن آنکھوں میں ڈولتے ہوئے نشے کی کیفیت روئے ...

مزید پڑھیے

سمندر اور انسان

قلزم بے کراں تیرا پھیلاؤ زندگی کے شعور کا آغاز تیری موجوں کا پر سکون بہاؤ زندگی کے سرور کا غماز تیرے طوفان کا اتار چڑھاؤ زندگی کے غرور کا غماز سوچتا ہوں کہ تیری فطرت سے میری فطرت ہے کتنی ہم آہنگ تیری دنیا ہے کیسی بے پایاں میری دنیا ہے کیسی رنگا رنگ تو ہے کتنا وسیع اور محدود میں ...

مزید پڑھیے

مدت کے بعد

مدت کے بعد تم سے ملا ہوں تو یہ کھلا یہ وقت اور فاصلہ دھوکہ نظر کا تھا چہرے پہ عمر بھر کی مسافت رقم سہی دل کے لیے تمام سفر لمحہ بھر کا تھا کیسی عجیب ساعت دیدار ہے کہ ہم پھر یوں ملے کہ جیسے کبھی دور ہی نہ تھے آنکھوں میں کم سنی کے وہ سب خواب جاگ اٹھے جن میں نگاہ و دل کبھی مجبور ہی نہ ...

مزید پڑھیے

یوسف ثانی

میں چاہ کنعاں میں زخم خوردہ پڑا ہوا ہوں زمیں میں زندہ گڑا ہوا ہوں کوئی مجھے اس برادرانہ فریب کی قبر سے نکالے مجھے خریدے کہ بیچ ڈالے کہ چشم یعقوب تو مرے غم میں کل بھی گریاں تھی آج بھی ہے

مزید پڑھیے

ایک طرفہ عشق

میں اپنی نظم سے بھری ڈائری ہاتھ میں پکڑے تمہارے سامنے جب بھی پڑھنا چاہتا ہوں میرے ہاتھ اور میری زبان دونو لڑکھڑاتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مجھے نظموں سے عشق تو ہے پر وہ ایک طرفہ ہے

مزید پڑھیے

شہر

کسی بھی شہر سے تمہیں کبھی بھی لوٹ آنا ہو شہر میں کسی کو بھی بتا دینا سارا شہر جانتا ہے تمہارے لوٹ آنے کی خبر شہر میں کس کو دینی ہے

مزید پڑھیے

تارے اور تم

کچھ تارے مل کر تمہاری تصویر بناتے ہیں آسمان میں تم ان تاروں سے ایک بار مل آؤ روز وہ تمہارے ہونٹھ کے نیچے کا تل بنانا بھول جاتے ہیں پھر مجھے اپنے انگلیوں کی پوروں سے وہ تل بنانا پڑتا ہے وہ تل بناتے بناتے اکثر میں موقع دیکھ کر تمہاری زلف تمہارے دائیں کان کے پیچھے کر دیتا ہوں پھر کسی ...

مزید پڑھیے

خط

شاید میں نہ لکھوں تمہیں خط تم خود ہی خود کو میں بن کے لکھ دینا وہ کیا ہے نا پھر تمہیں پہلے سے پتا ہوگا کی کون سا خط تمہیں نہیں کھولنا ہے

مزید پڑھیے

ذوق تکلم پر اردو نے راہ انوکھی کھولی ہے

ذوق تکلم پر اردو نے راہ انوکھی کھولی ہے رنگ کی گہرائی ناپی ہے پھول کی خوشبو تولی ہے یہ نازک جذبات کے البیلے اظہار کی بولی ہے اردو پیار کی بولی ہے گرمائے تہذیب کی محفل چمکایا افسانے کو رنگ بکھیرا آنچل آنچل روپ کا مان بڑھانے کو شبدوں کے پیالے میں اس نے دل کی لالی گھولی ہے اردو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 609 سے 960