شاعری

راہ تخیل

خوشبو کو بھی خیال دوں تتلی کے رنگ اجال دوں قرطاس کی زمین کو پر نور خد و خال دوں مٹھی میں بھر کے کہکشاں تیری طرف اچھال دوں میٹھی سی تیری یاد کو شیرینیٔ جمال دوں قرطاس کی زمین کو میں تیرا ہی خیال دوں مٹھی میں بھر کے کہکشاں تیری طرف اچھال دوں خوابوں کی رہ گزر سہی سوچوں کا قافلہ ...

مزید پڑھیے

وجود زن

لفظ ہیں آنکھوں میں یا تحریر ہے پاؤں میں پازیب یا زنجیر ہے زندگی اس کی فسانہ ہو گئی چلتی پھرتی جبر کی تعزیر ہے کوئی آہٹ توڑ دے ظلمت کا خواب ڈھونڈھتی وہ راہ میں تعبیر ہے جب صحیفوں نے اسے چاہت لکھا نفرتوں کی کیوں بنی تصویر ہے آپ ہی اپنے مقابل ہو گئی تو بھی عورت ذات میں گمبھیر ہے

مزید پڑھیے

نائٹ اسکول

فصل گل مہکی ہے پھر غنچہ دہن کھلتا ہے شام ڈھلنے لگی اور شب کا بدن کھلتا ہے آسماں پر ہوئے چاہت کے ستارے روشن شہر خاموش میں اک باب سخن کھلتا ہے حرف الفت سے مہک اٹھے گی خاموش سحر زہر پیتے تھے جو شاعر وہ غزل خواں ہوں گے آج آفاق پر خورشید و قمر ناچیں گے اور ستارے بھی گلی کوچے میں رقصاں ...

مزید پڑھیے

رنگین کوڑے‌ دان اور ری سائیکلنگ

لال ہرے نیلے پیلے ڈبے کچرے کے رنگیلے ڈبے لال میں رکھو گھر کا کوڑا ٹوٹے برتن ٹوٹا گھوڑا پھل سبزی کے بیج اور چھلکے ہرے میں رکھو پیار سے دل سے نیلے میں رکھنا ردی پیپر گتے ڈبے لکڑی کی موٹر پلاسٹک اور یہ دودھ کے ڈبے جوس کے ہوں یا ٹین کے ڈبے پیلے رنگ میں ان کو رکھو ری سائکلنگ کا جادو ...

مزید پڑھیے

اندھیروں کے پجاری

اندھیروں کے پجاری کو اجالوں سے ہو کیوں رغبت صبح کی نرم کرنوں سے ہو ان کو کس لیے چاہت انہیں تو دیپ جگنو اور ستاروں سے بھی نفرت ہے انہیں تو روشنی دیتی کتابوں سے عداوت ہے گوارہ ہے انہیں بس چاند بھی تو اولیں شب کا وگرنہ طاق اور گھنگھور راتوں میں تلاش رب رہے جاری مگر یہ کیا زباں پر ...

مزید پڑھیے

چندا ماما اور پریاں

سب بچوں کے راج دلارے چندا ماما پیارے پیارے دور سے چمکیں پاس نہ آئیں ننھی کے وہ دل کو بھائیں روشن روشن ان کا چہرہ جس پر دے اک بادل پہرہ ننھی کی نانی کہتی ہیں چاند پہ کچھ پریاں رہتی ہیں پریاں جب بھی پر پھیلائیں چندا ماما خوش ہو جائیں چاند پہ جب بادل چھا جائیں چاند کی پریاں پھر اڑ ...

مزید پڑھیے

یہ کوے کیوں لڑتے ہیں

تمہیں پتہ ہے یہ کوے کیوں لڑتے ہیں کیوں یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جھگڑتے ہیں یہ دن بھر الجھتے ہیں ایک دوسرے کی باتوں میں اور کبھی کبھی تو یہ لڑتے ہیں اندھیری راتوں میں یہ لڑتے ہیں اٹھتے بیٹھتے جاگتے سوتے چاہے گھر میں یا یہ گھر سے باہر ہوتے جیسا کہ کبھی وہ لڑتے ہیں کتابوں پر کاپی ...

مزید پڑھیے

بلو جانی

بلی کا ننھا سا بچا کھاتا ہے وہ قیمہ کچا پیتا ہے وہ ٹھنڈا پانی نام ہے اس کا بلو جانی رنگ ہے اس کا کالا کالا کھیل کھلونوں کا متوالا گیند سے کھیلے شور مچائے ننھی کے وہ دل کو بھائے ننھی پوچھے کھیلنے آؤں تب وہ بولے میاؤں میاؤں بلو جانی دوست نرالا ماں ہے اس کی شیر کی خالہ

مزید پڑھیے

مجازی خدا

چار تنکوں کا شوق مکاں کیا بنا نعمت قرب الفت بھی جاتی رہی اس کا ذوق تمنا بہکنے لگا حب ثروت کی دیوار اونچی کئے حرمت بندگی کو کچلتا رہا سجدۂ عشق پامال کرتا رہا وہ تقاضائے منصب مجازی خدا جو خدا بن کے جنت بچا نہ سکا

مزید پڑھیے

تم جہاں سے سیب کاٹو گی

سردی کی دھوپ تمہارے بدن کی طرح گرم ہے میں نے کاغذ کی کشتی بنا کر اس پر تیرا اور اپنا نام لکھ کر اسے چشمہ میں ڈالا ہے جس میں سے تم ابھی نہا کر باہر نکلی ہو آرام کرسی پر بیٹھ کر بال سکھاتے ہوئے تم مسکرا رہی ہو میرے ہاتھ میں ایک سیب ہے جس کو تم جہاں سے بھی کاٹو گی وہاں سے میٹھا نکلے گا

مزید پڑھیے
صفحہ 583 سے 960