شاعری

چیت کا پھول

میں چیت کا پھول ہوں اور عاکف ہوں مٹی کے نیچے یہ چلہ کشی ہے کسی اور ہیئت میں ڈھلنے کی چالیس راتوں کا چلا ہے بھاری کناروں کا تلا ہے دریا سے اڑتی ہوا اپنی لہروں بھری شال پھیلائے بوڑھا فلک تھوڑے آنسو بہائے سیہ ابر پلکوں کی جھالر اٹھائے چمکتی ہوئی دھوپ آخر میں آئے مطلا بدن کو ...

مزید پڑھیے

اندھراتا

میں پردہ گرانے لگا ہوں پلک سے پلک کو ملانے لگا ہوں زمانہ مرے خوابوں میں آ کے رونے لگا ہے میں اونٹوں کو لے آؤں آخر کہاں جا کے چرنے لگے ہیں جہاں پر پرندے پروں کو نہیں کھولتے ہیں جہاں سرحدیں ہیں فلک جیسی قائم وہاں پاؤں دھرنے لگے ہیں میں اونٹوں کو لے آؤں واپس میں بھیڑوں کو دوہ ...

مزید پڑھیے

اوس سے بھرا گلاس

وہ پھل ہے رس بھرا یا پھل کی رس بھری اساس ہے ہے سب کے سامنے یا عین درمیان پیڑ کے چھپا ہوا ہے بیج کی طرح لبوں کو کھولتی ہوئی وہ عام گفتگو ہے یا لبوں کو سیل کرتا اک معاملۂ خاص ہے مری طرح وہ شاد کام ہے یا خاندان والوں کی طرح اداس ہے وہ آ گیا تو ہو گئی ہے جامنی فضا یا اور ہے کوئی کہ جس کا ...

مزید پڑھیے

نظم

لوگ بالکل پتنگ جیسے ہیں میں ذرا سی جو ڈھیل دیتی ہوں سر سے اوپر ہی اڑنے لگتے ہیں

مزید پڑھیے

دفتر کہانی

روز ہی میرے جیسے ہزاروں مشقت بھری آگ پی کے یہی سوچتے ہیں کہ اہداف کا یہ پرندہ کبھی ہاتھ آیا نہیں دوسروں سے کہیں تیز دوڑے ہیں لیکن کبھی ریفری نے ہمارے لیے جیت کا شادیانہ بجایا نہیں کس لیے دفتروں میں ہماری زمیں پر گل مہربانی کھلے ہی نہیں یعنی دربار میں ہر کوئی تند خوئی سے دیکھے ...

مزید پڑھیے

کلید‌ نشاط

گوشہ نشینی کے چلوں سے پرہیز پھیکے زمانے کی تسبیح کے طے شدہ سب وظیفوں سے بے لذتی کار دنیا کی بے رنگ قوس قزح ہانپتی زندگی کے وہی رات دن میں نے دفتر سے کچھ روز وقفہ کیا اور جنگل کی جانب کا رستہ لیا میں تجھے ٹوٹ کے دیکھتا ہوں خدائے زمن جھومتی شاخ پہ پھول کھلنے کی رنگینیاں پیڑ کی ...

مزید پڑھیے

تعبیر

ان گنت کہکشاؤں کے جھرمٹ نے بے انتہا دائرے بن دئے اور پاتال میں جذب رنگوں نے اگلے کئی ہلہلے اپنے تابوت میں خود سے ہیبت‌ زدہ جبر کی زندگانی میں جیتا رہا یوں جمال سحر زرد سورج کے ہاتھوں میں گروی رہا کسمساتے بدن کے جنوبی طرف تازیانوں کی برسات جاری رہی اور شمالی طرف سنگ باری سے ...

مزید پڑھیے

دلیپ کمار کی آخری خواہش

لے چلو دوستو لے چلو قصہ خوانی کے بازار میں اس محلے خدا داد کی اک شکستہ گلی کے مقفل مکاں میں کہ مدت سے ویراں کنویں کی زمیں چاٹتی پیاس کو دیکھ کر اپنی تشنہ لبی بھول جاؤں غٹرغوں کی آواز ڈربوں سے آتی ہوئی سن کے کوٹھے پہ جاؤں کبوتر اڑاؤں کسی باغ سے خشک میووں کی سوغات لے کر صدائیں ...

مزید پڑھیے

ریل چلنے لگی

سرنگوں سبز جھنڈی کا ہلکا پھریرا فضاؤں میں لہرا گیا بنچ پر اوس میں بھیگے پتوں کی چادر کو جھونکے اڑا لے گئے ریل کی پٹریوں پر اداسی کی گونجیں بدن کی سرنگوں سے یک لخت باہر نکلنے لگیں وسل بجنے لگی ریل چلنے لگی دل گرفتہ مسافر کئی منزلوں کی اذیت کے پیکر میں ڈھلنے لگے ایک ماں نے دعاؤں ...

مزید پڑھیے

دوسرا جنم

آفرینش سمے ڈال دیجے خدایا بدن میں تنوع کی حیرت گری میری موروثیت کی جڑوں میں ہر اک سانس لیتی اکائی کے خلیوں کی مٹی بنے ریڑھ کی مرکزی جالیوں میں عجائب کدوں کا خزانہ چھپے میرے ہاتھوں پہ بھٹکے ہوئے راہ گیروں کی منزل کا نقشہ بنے اور آنکھوں کی ان پتلیوں میں طلسمی چراغوں کا جنگل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 584 سے 960