چیت کا پھول
میں چیت کا پھول ہوں اور عاکف ہوں مٹی کے نیچے یہ چلہ کشی ہے کسی اور ہیئت میں ڈھلنے کی چالیس راتوں کا چلا ہے بھاری کناروں کا تلا ہے دریا سے اڑتی ہوا اپنی لہروں بھری شال پھیلائے بوڑھا فلک تھوڑے آنسو بہائے سیہ ابر پلکوں کی جھالر اٹھائے چمکتی ہوئی دھوپ آخر میں آئے مطلا بدن کو ...