شاعری

ملمع کی انگوٹھی

چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھول اوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بول اے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہنا چاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہنا چاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گی وہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گی میں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھرانا وہ ذات کی ...

مزید پڑھیے

پن چکی

نہر پر چل رہی ہے پن چکی دھن کی پوری ہے کام کی پکی بیٹھتی تو نہیں کبھی تھک کر تیرے پہیے کو ہے سدا چکر پیسنے میں لگی نہیں کچھ دیر تو نے جھٹ پٹ لگا دیا اک ڈھیر لوگ لے جائیں گے سمیٹ سمیٹ تیرا آٹا بھرے گا کتنے پیٹ بھر کے لاتے ہیں گاڑیوں میں اناج شہر کے شہر ہیں ترے محتاج تو بڑے کام کی ہے اے ...

مزید پڑھیے

اونٹ

لق و دق صحرا میں یا میدان میں یا عرب کے گرم ریگستان میں سایہ افگن ہے نہ واں کوئی چٹان سرد پانی کا نہ دریا کا نشان چلچلاتی دھوپ ہے اور چپ ہوا واں پرندہ بھی نہیں پر مارتا تو وہاں کے مرحلے کرتا ہے طے دن بہ دن اور ہفتہ ہفتہ پے بہ پے قیمتی اشیا ہیں تیری پشت پر تاجروں کا ریشم اور شاہوں کا ...

مزید پڑھیے

نصیحت

کرے دشمنی کوئی تم سے اگر جہاں تک بنے تم کرو درگزر کرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غور جلے جو کوئی اس کو جلنے دو اور اگر تم سے ہو جائے سرزد قصور تو اقرار و توبہ کرو بالضرور بدی کی ہو جس نے تمہارے خلاف جو چاہے معافی تو کر دو معاف نہیں، بلکہ تم اور احساں کرو بھلائی سے اس کو پشیماں کرو ہے ...

مزید پڑھیے

قلعۂ اکبرآباد

وہ بارگہ خاص کی پاکیزہ عمارت تاباں تھے جہاں نیر‌ شاہی و وزارت بڑھتی تھی جہاں نظم و سیاست کی مہارت آتی تھی جہاں فتح ممالک کی بشارت جوں شحنۂ معزول پڑی ہے وہ اکارت سیاح کیا کرتے ہیں اب اس کی زیارت کہتا ہے سخن فہم سے یوں کتبہ دروں کا تھا مخزن اسرار یہی تاج وروں کا اورنگ سیہ رنگ جو ...

مزید پڑھیے

ایک وقت میں ایک کام

ہے کام کے وقت کام اچھا اور کھیل کے وقت کھیل زیبا جب کام کا وقت ہو کرو کام بھولے سے بھی کھیل کا نہ لو نام ہاں کھیل کے وقت خوب کھیلو کودو پھاندو کہ ڈنڈ پیلو خوش رہنے کا ہے یہی طریقہ ہر بات کا سیکھیے سلیقہ ہمت کو نہ ہاریو خدا را مت ڈھونڈیو غیر کا سہارا اپنی ہمت سے کام کرنا مشکل ہو تو ...

مزید پڑھیے

سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ

سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد فکر سے پاک رنج سے آزاد سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو سہل کرتا ہے سخت مشکل کو جس کو سچ بولنے کی عادت ...

مزید پڑھیے

قوس قزح

تھی شام قریب اور دہقاں میداں میں تھا گلے کا نگہباں دیکھی اس نے کمان ناگاہ جو کرتی ہے مینہ سے ہم کو آگاہ رنگت میں اسے عجیب پایا ظاہر میں بہت قریب پایا پہلے سے وہ سن چکا تھا اکثر ہے قوس میں اک پیالۂ زر مشہور بہت ہے یہ کہانی افسانہ تراش کی زبانی ملتی ہے جہاں کماں زمیں سے ملتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

برسات

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی تو بے جان مٹی میں جان آ گئی زمیں سبزے سے لہلہانے لگی کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی جڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل عجب بیل پتے عجب پھول پھل ہر اک پیڑ کا ...

مزید پڑھیے

بڑے بھیا

میں چھوٹا ہوں مرے بھیا بڑے ہیں جہاں دیکھو وہیں سر پر کھڑے ہیں مجھے ہر وقت کرتے ہیں نصیحت نہ جانے کیوں مرے پیچھے پڑے ہیں مجھے پڑھنے کو یوں کہتے ہیں اکثر کہ جیسے خود وہ ایم اے تک پڑھے ہیں پڑھاتے ہیں وہ جب تاریخ مجھ کو میں یہ کہتا ہوں یہ سب قصے گڑھے ہیں کریں عرفانؔ اب ہم کس سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 582 سے 960