شاعری

میں تو اک وجود خیال ہوں

میں تو اک وجود‌‌‌ خیال ہوں مجھے جس طرح سے بھی سوچ لو میں یقیں بھی ہوں میں گماں بھی ہوں میں یہاں بھی ہوں میں وہاں بھی ہوں کبھی فکر میں کبھی ذکر میں کبھی جوش میں کبھی ہوش میں کبھی خود سے خود کی تلاش میں کبھی میں نہیں کبھی جاں نہیں کہ میں مبتلائے جنون ہوں میں خودی میں خود کا سکون ...

مزید پڑھیے

کڑوا سچ

بس اک میں ہوں بس اک تم ہو دور خلا میں سناٹا ہے دل میں خاموشی کا دریا بہتا ہے بہتا رہتا ہے جس کے کنارے بیٹھے ہوئے ہم سوچا کرتے ہیں باتوں کو ان باتوں کو جن کا کچھ مفہوم نہیں ہے موسم کیا ہے بادل کیا ہے سب کچھ اپنے دل جیسا ہے خالی خالی ویراں ویراں تم اور میں ہم کچھ بھی نہیں ہیں بس اک سچ ...

مزید پڑھیے

بھیڑا گھاٹ

بندھ گیا ہے چاندنی سے کیا سہانہ سا سماں نربدا ہے یا ہے رنگ و روپ کا دریا رواں جگمگاتے چاند کی کرنوں سے ہے اجلے پہاڑ کیا کہوں یہ ہیں حقیقت یا کہ سپنوں کا جہاں

مزید پڑھیے

آبو میں برسات

ابر یوں چھا رہا ہے آبو پر جیسے پہرا ہو دھندلی شاموں پر یا کہ آئیں نظر سیہ سائے لرزاں لرزاں بلوری جاموں پر یہ گھٹا چھا رہی ہے ساون کی زلف بکھری ہے یا ترے رخ پر بادلوں میں چمکتی ہے بجلی ہنسی پھوٹی ہے یا ترے رخ پر گرتی ہے بادلوں سے یوں بوندیں جام لبریز جوں چھلکتا ہے جھومتے ہیں ہوا ...

مزید پڑھیے

ادے پور

شہر مشہور زمانہ دیکھنے آیا ہوں میں راجدھانی تیری رعنا دیکھنے آیا ہوں میں کیا کہوں کیسے کہوں کیا دیکھنے آیا ہوں میں دیدنی ہر اک نظارہ دیکھنے آیا ہوں میں سر زمین پدمنی گہوارۂ پرتاپی بھیم رشک فردوس زمانہ دیکھنے آیا ہوں میں خوش نما جھیلوں میں لرزاں جن کا ہے عکس جمیل ان حسیں ...

مزید پڑھیے

کاش

کاش نور سحر کی کوئی کرن زلف سے کرتی مجھ کو ہم آغوش دل میں جل اٹھتی مشعل امید دور ہوتی سیاہیٔ غم دوش کاش مل جاتا نونہال کوئی مجھ کو خوش رہنا جو سکھا دیتا تاکہ میں حالت الم میں بھی جھومتا گاتا مسکرا دیتا کاش کوئی حسین دوشیزہ راز معصومیت بتا دیتی دل کو دھو کر ہوس کے دھبوں سے حسن و ...

مزید پڑھیے

غالب

شاعر ہندوستاں اے شاعر جادو بیاں ہند کے خم خانۂ عرفاں کے اے پیر مغاں تیرے نغموں میں نشاط زندگی کی ہے مہک کیف سے گل کا تبسم ذکر دل حسن بتاں تیرے نغموں میں دل انساں کا ہے سوز و گداز جن سے اکثر ہے عبارت زندگی کی داستاں ہے خیال و فکر کی دنیا ترے ہر لفظ میں پیکر اشعار ہے کتنا حسیں ...

مزید پڑھیے

غم

جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میں دکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میں نہیں سرود میں چنگ و رباب میں بھی نہیں وہ ایک لے کہ ہے ٹوٹے دلوں کے تاروں میں خزاں کی شوکت و عظمت ہے ان پہ سب ظاہر جو ڈھونڈتے اسے پھرتے رہے بہاروں میں خوشی سے حسن نکھرتا ہے ظاہری لیکن جمیل روحوں کو پاؤ گے غم ...

مزید پڑھیے

آ جا

میری سوئی ہوئی قسمت کو جگانے آ جا آ جا آ جا مری بگڑی کو بنانے آ جا کھو گیا عقل کی راہوں میں مرا عہد شباب از سر نو مجھے دیوانہ بنانے آ جا سرد لاشہ ہے مرا عشق سے خالی سینہ اک نیا سوز نئی آگ لگانے آ جا باغ میں پھول ہے پژمردہ و پامال سبھی ہر روش پر تو نئے پھول کھلانے آ جا کان اب پک ...

مزید پڑھیے

نذر ٹیگور

کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیا خود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیا اے شاعر شباب و نوا سنج زندگی مثل بہار آ کے تو عالم پے چھا گیا تو حسن کی نگاہ تھا اور عشق کی زباں گیتوں میں رنگ و روپ کی دنیا بسا گیا رنگینیاں بہار کی ہر سو بکھر گئی بے کیفیٔ خزاں کا کبھی رنگ چھا گیا ٹوٹے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 572 سے 960