میں تو اک وجود خیال ہوں
میں تو اک وجود خیال ہوں مجھے جس طرح سے بھی سوچ لو میں یقیں بھی ہوں میں گماں بھی ہوں میں یہاں بھی ہوں میں وہاں بھی ہوں کبھی فکر میں کبھی ذکر میں کبھی جوش میں کبھی ہوش میں کبھی خود سے خود کی تلاش میں کبھی میں نہیں کبھی جاں نہیں کہ میں مبتلائے جنون ہوں میں خودی میں خود کا سکون ...