شاعری

جائیں کہاں ہم

طبیعت جو اندر سے جھنجھلا رہی ہے تو باہر سے آواز یہ آ رہی ہے کہ اے فاضل درس گاہ حماقت حجابات دانش اٹھا کر بھی دیکھو شرافت کے پیچھے جگر ہو گیا خوں شرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھو ازل سے محبت خودی کا ہے زنداں اب اس سے ذرا باہر آ کر بھی دیکھو مروت نے پہنائی ہیں بیڑیاں جو ذرا ان کا لوہا ...

مزید پڑھیے

نقوش ماضی

نظر میں شاعر کے پھر رہا ہے، ہرا بھرا پر بہار جنگل وہ صبح رنگیں، وہ کیف منظر، وہ دامن کوہ بندھیا چل ملی تھی اک رنگ و بو کی دنیا، تمام صحرا چمن چمن تھا مگر وہ جنت نگاہ وادی بہار کا مستقل وطن تھا کھڑا ہوا تھا غریب شاعر، خموش صحرائے رنگ و بو میں مچل رہی تھی سحر کی دوشیزہ شب کے آغوش آرزو ...

مزید پڑھیے

فسانۂ آدم

میں تھا ضمیر مشیت میں ایک عزم جلیل ہنوز شوق کی کروٹ بھی لی نہ تھی میں نے کہ دفعتاً متحرک ہوئے لب تخلیق پکڑ لی صورت ظاہر وجود کی میں نے وہ صبح عالم حیرت وہ جلوہ زار بہشت ہوا چمن کی لگی آنکھ کھول دی میں نے وہ تربیت گاہ ذوق نظر، وہ وادئ نور جہاں سے پائی محبت کی روشنی میں نے وہ عنفوان ...

مزید پڑھیے

مزدور کی بانسری

مزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مجبور تھے ہم، مجبور ہیں ہم انسانیت کے سینے میں رستا ہوا اک ناسور ہیں ہم دولت کی آنکھوں کا سرمہ بنتا ہے ہماری ہڈی سے مندر کے دیئے بھی جلتے ہیں مزدور کی پگھلی چربی سے ہم سے بازار کی رونق ہے، ہم سے چہروں کی لالی ہے جلتا ہے ہمارے دل کا دیا دنیا کی سبھا ...

مزید پڑھیے

آدم نو کا ترانۂ سفر

فریب کھائے ہیں رنگ و بو کے سراب کو پوجتا رہا ہوں مگر نتائج کی روشنی میں خود اپنی منزل پہ آ رہا ہوں جو دل کی گہرائیوں میں صبح ظہور آدم سے سو رہی تھیں میں اپنی فطرت کی ان خدا داد قوتوں کو جگا رہا ہوں میں سانس لیتا ہوں ہر قدم پر کہ بوجھ بھاری ہے زندگی کا ٹھہر ذرا گرم رو زمانے کہ میں ترے ...

مزید پڑھیے

شاعر کی تمنا

اگر اس گلشن ہستی میں ہونا ہی مقدر تھا تو میں غنچوں کی مٹھی میں دل بلبل ہوا ہوتا گناہوں میں ضرر ہوتا، دعاؤں میں اثر ہوتا محبت کی نظر ہوتا، حسینوں کی ادا ہوتا فروغ چہرۂ محنت، غبار دامن دولت نم پیشانیٔ غیرت، خم زلف رسا ہوتا ہوا ہوتا کسی دستار کج پر پھول کی طرح اور اس دستار کج کی ...

مزید پڑھیے

سمندر

مرا دل اچھلتا سمندر مرا جذبۂ بے اماں میرا ایک ایک ارماں اچھلتے سمندر کی صدیوں پرانی چٹانوں سے ٹکرا کے یوں ریزہ ریزہ ہوا ہے کہ گھائل سمندر کے سینے میں محشر بپا ہے ہر اک موج درد آشنا ہے ہر اک قطرۂ آب انمول ہے گوہر بے بہا ہے میں ہستی کے ساحل کا مبہوت و حیراں مسافر مرے زرد چہرے پہ ...

مزید پڑھیے

تلاش

وہ بچہ کہاں ہے جو کہہ دے کہ حضرت سلامت یہ سب لوگ ملبوس شاہی کا اقرار کرتے رہیں مجھ کو تو آپ ننگے نظر آ رہے ہیں وہ بچہ جو اتنی پرانی کہانی میں زندہ چلا آ رہا ہے ہمارے وطن میں بھی ہوگا ہمارے وطن میں بھی ہوگا ڈری اور سہمی مگر پھر بھی جاری یہ آواز دل چیرتی ہے ہمارے وطن میں بھی ...

مزید پڑھیے

بے یقینی

یوں تو اپنے ہی اندر کا سچ اور وہ سچ ہے ارے تا ابد تجھ کو کافی ہے کل کی جانب سے اس بے یقینی کے سارے عوارض کا شافی ہے تیری صد سمت اور بے غرض چھوٹی چھوٹی کئی خدمتوں کا یہ پشتارہ ہے بے چارہ اور اس کے ساتھ ایک درد ندامت ہی وجہ معافی ہے اس طرح پیش بینی روایات اور مصلحت کے منافی ہے پھر ...

مزید پڑھیے

جو بولے مارا جائے

وقت نے پوچھا کیا تم مجھ کو جانتے ہو ہاں کیا تم مجھ کو مانتے ہو ناں کیا مطلب ہے کیا مطلب تھا وقت بھی چپ ہے جانے وہ کب کیا بولے گا آج کی کتنی باتوں کو بھی کیسے کیسے بدلنے والے بنتے بنتے غم سے خوشی سے اور حیرت سے اپنی آنکھیں ملنے والے میزانوں میں ڈنڈی مار کے یا سچائی سے تولے گا اور پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 565 سے 960