جائیں کہاں ہم
طبیعت جو اندر سے جھنجھلا رہی ہے تو باہر سے آواز یہ آ رہی ہے کہ اے فاضل درس گاہ حماقت حجابات دانش اٹھا کر بھی دیکھو شرافت کے پیچھے جگر ہو گیا خوں شرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھو ازل سے محبت خودی کا ہے زنداں اب اس سے ذرا باہر آ کر بھی دیکھو مروت نے پہنائی ہیں بیڑیاں جو ذرا ان کا لوہا ...