شاعری

جلتی سگریٹ

جب کبھی تم سگریٹ جلانے کی کوشش کرتے تھے میں پھونک مار کر بجھا دیتی تھی کتنی بار کہا تھا تم سے یے زندگی صرف تمہاری نہیں ہے میرا جو دل ہے وو تمہارے سگریٹ کے دھوئیں سے خراب ہو رہا ہے عیش ٹرے میں بڑھتی راکھ سے زندگی میری سیاہ ہوئی جاتی ہے بجھایا کرو انہیں جلانے سے پہلے ایک کش زندگی ...

مزید پڑھیے

چلو پھر ایک نیا مذہب بنائیں

چلو پھر ایک نیا مذہب بنائیں کچھ اور لوگوں کو بانٹے آپس میں بڑھائیں رنجشیں ان کی اکسائیں لوگوں کو قتل عام کے لیے کچھ مریں گے کچھ لہولہان ہوں گے چنگاری جلتی رہے گی پیڑھی در پیڑھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کچھ اور خود غرض کود پڑیں گے اس رنجش کے کھیل میں سیکیں گے روٹیاں میت کی ...

مزید پڑھیے

سمے کو اٹکا دیا

کلائی کی گھڑی کو آج بڑے پیار سے اتارا اور اس کی کنجی کو کھینچ کر ایک اسپھل پریاس کیا گھڑی کو روکنے کا پھر بھی جب نا مانی گھڑی تو چٹکا کر اس کا کانچ کچھ گھاووں سے اس کی ایک سوئی کو توڑ دیا گھڑی بھی ضدی قسم کی ہے رکنے کا نام نہیں ہے لیتی کتنا مشکل ہے وقت کو پکڑ کر رکھنا یا باندھنا ...

مزید پڑھیے

وہ راستہ

چلتے جاتا ہوں اس کی باہیں تھامے وہ تھکتا نہیں میں رکتا نہیں ہوں بچپن سے ساتھ ہوں بدلے ہے رنگ کئی اس نے اور میں نے اکثر تنہائی میں ہم ساتھ ہوتے ہے وہ پتو سے لدا ہوا کبھی دھوپ میں جلتا ہوا برسات میں نہ چاہے بھیگتا ہوا وہ راستہ جو میرے گھر سے نکل کر دور جنگلوں میں جاتا ہے وہ آج ...

مزید پڑھیے

وو جو ایسٹروناٹ چاند سے آئے ہیں

وو جو ایسٹروناٹ چاند سے آئے ہیں پتہ نہیں کہا سے جھوٹی تصویریں لائے ہیں کوئی بتا دو ان کو کوئی بتا دو ان کو میرا چاند کیسا دکھتا ہے کبھی دیکھنا پونم کی رات میں ایک دھندھلی دھندھلی سی چھوی نظر آئے گی جیسے کوئی بچہ ماں سے لپٹا ہو وو جو ایسٹروناٹ چاند سے آئے ہیں پتہ نہیں کہاں ...

مزید پڑھیے

قبر میں زندہ ہوں

کیوں نہیں سونے دیتے مجھ کو جب زندہ تھا تب پر بھی یہی کرتے تھے یہاں تو سکون دو مجھے ہر روز چلے آتے ہو دفنانے ایک مردہ لاش کو زندہ کر جاتے ہو ابھی تو گلا نہیں میں پوری طرح سنا ہے کچھ دن میں کھود کر مجھ کو ایک چھوٹے بکسے میں بھر دو گے اب یہی بچا ہے مردوں کو بھی چین کی سانس نا لینے ...

مزید پڑھیے

جو بازار چہکتا تھا ہر شام

جو بازار چہکتا تھا ہر شام آج کچھ سنسان سا لگ رہا ہے گول گپے کی دکان کا ٹھیلہ جلیبی والے کے چولھے پر سے برتن چائے پے چسکیاں لیتے لوگ کوئی بھی آج نظر نہیں آ رہا نالیوں میں لال رنگ بہہ رہا ہے پتا چلا رنگ نہیں پتا چلا رنگ نہیں یہ ہندو مسلمان کا خون ہے کل دھرم کے نام پر فساد ہوا سنتا ...

مزید پڑھیے

سمندر کی کچھ بوندوں سے بات کی

سمندر کی کچھ بوندوں سے بات کی وو بھی اپنے وجود کو لے کر ویاکل ہیں وشال سمندر میں کہا کوئی ان کی ہے سنتا جبکہ ان سے ہی سمندر ہے ان کے بنا سمندر بس مروستھل ہے بوندیں دن رات پریتن کرتی ہیں ایک بوند دوسرے کو آگے ڈھکیل کر سمندر کا وجود قائم رکھتی ہیں ان کو احساس ہے اپنے ہونے ...

مزید پڑھیے

کیا ہوگی پیڑوں کی ذات

کیا ہوگی پیڑوں کی ذات کبھی سوچا ہے آپ نے سوال اٹپٹا ہے لیکن کیوں نہیں بانٹا اسے ہم نے ذات پات میں چلو ایک ایک کر کے بانٹتے ہیں پیڑوں کو پھل والے پیڑ اور پھول والے پیڑ بڑی بڑی بھجاؤں والے چھوٹی چھوٹی ٹہنیوں والے پیڑ وہ عام کا پیڑ جو ہون میں جلتا ہیں بابھن ہوگا کیونکہ اس کے پتوں ...

مزید پڑھیے

کچھ رشتے جلانے پڑے

چاند بھی کمبل اوڑھے نکلا تھا ستارہ ٹھٹھر رہیں تھے سردی بڑھ رہی تھی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے مجھے بھی کچھ رشتہ جلانے پڑے کچھ رشتہ جو بس نام کے بچے تھے کھینچ رہا تھا میں ان کو کبھی وو مجھے کھینچا کرتے تھے سردی بڑھ رہی تھی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے مجھے بھی کچھ رشتہ جلانے پڑے کچھ رشتہ بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 542 سے 960