سلسلے سوالوں کے

ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیں
کسی سمے میں وہ تھی ست ونتی
کہیں ساوتری
کہیں تھی میرا
ہر ایک یگ میں
عقیدتوں کی لہر میں بھیگی
تپسیا کے سحر میں گم سم
روایتوں کے نشے میں ڈوبی
تمہارے قدموں کی گرد کو وہ تلک بناتی
دئے جلاتی تھی نقش پا پر
جنم جنم کا اٹوٹ رشتہ
نباہے جاتی
ہزاروں صدیوں سفر کیا ہے
نظر جمائے
تمہارے پیچھے
تمہارے دکھ پر دکھی ہوئی ہے
تمہارے سکھ پر سکھی ہوئی ہے
مگر بتاؤ
ہزاروں صدیوں کے درمیاں کوئی ایسا لمحہ
جو تم نے اس کے لیے جیا ہو
سوائے آنسو کے کوئی جگنو
کبھی جو آنچل میں جڑ دیا ہو
پرانے برگد پہ ایک دھاگا
کہیں تو اس کے بھی نام کا ہو
اندھیری طاقوں پہ اس کی خاطر
رکھا ہوا بھی تو اک دیا ہو
نہیں ہے کچھ بھی
کہیں نہیں ہے
وہ اپنی تاریخ میں تمہارا
لکھے بھی گر نام
کس طرح سے