شاعری

بھارت نیا بنائیں

اک اینٹ تم بھی لاؤ اک اینٹ ہم بھی لائیں پیار اور ایکتا کا اونچا محل بنائیں بھارت نیا بنائیں اک پیڑ تم اگاؤ اک پیڑ ہم اگائیں سکھ چین شانتی کا مل کے چمن بنائیں بھارت نیا بنائیں کچھ پھول تم بھی لاؤ کچھ پھول ہم بھی لائیں خاک وطن کی خوشبو ماحول میں بسائیں بھارت نیا بنائیں اک نہر تم ...

مزید پڑھیے

دعا

یا رب فلک سے اونچا اس دیش کو اٹھا دے میرے چمن کو سب سے اچھا چمن بنا دے عزت بڑوں کی کرنا چھوٹوں سے پیار کرنا دنیا کی ساری اچھی باتیں ہمیں سکھا دے منزل نصیب کرنا گمراہی سے بچانا جو سیدھے راستے ہیں ان پر ہمیں چلا دے محفوظ رکھنا شاخیں بلبل کے آشیاں کی اس گلستاں میں یا رب پھول امن کے ...

مزید پڑھیے

جنگل

جنگل کتنا اچھا لگتا ہریالی کا سپنا لگتا جنگل سے ہے جیون دھارا جنگل ہے دنیا کا سہارا جنگل لکڑی دوائیں دیتا تازہ تازہ ہوائیں دیتا ستھری صاف فضا بھی دیتا جنگل بادل پانی دیتا بن میں پکشی پشو بھی پلتے آزادی سے پھرتے چلتے جنگل میں ہیں جامن مہوا تیندو عملی خیر کروندا شیشم ساگی ...

مزید پڑھیے

ہماری بستی

ہم جس بستی میں رہتے ہیں اس کے باشندے اچھے ہیں ہندو مسلم سکھ عیسائی سب اس بستی کے آبائی سب مل جل کر کام کرے ہیں محنت کر آرام کرے ہیں جب تیوہاروں پر ہیں ملتے اپنے پن کے پھول ہیں کھلتے نفرت کا کچھ نام نہیں ہے لڑنا کسی کا کام نہیں ہے بھائی چارے میں ہے بھلائی سب ہیں یہاں پر بھائی ...

مزید پڑھیے

ارض و سما

یہ دھتورا ہے کانٹوں بھرا اور وہ اس کا ہے ہم سفر زندگی کا انتم سفر نیچے کانٹوں کا بستر اور اوپر سے کرنوں کے نیزے یا وہ گردش کرے یا وہ کروٹ ہی بدلے ازل سے وہ زخموں سے ہے چور چور جانے کتنے سہے اس نے دکھ اپنے لمبے سفر میں کتنے آنسو بہائے ہیں اس نے خون کے سات ساگر بنے ہیں کون اندازہ کر ...

مزید پڑھیے

آئینے

یہ آئینے ہیں اپنے ظرف کی مانند ہی تو عکس دیتے ہیں محدب آئینے اک راکشس کا روپ دینے میں معقر آئینے بونا بنا دیتے ہیں مجھ کو سادہ آئینے بے چارے خود حیران ہیں بھلا وہ کیا بتا سکتے ہیں کیا ہوں میں دل کے آئینے میں ڈھونڈھتا ہوں خود کو کب سے

مزید پڑھیے

فساد

پلیگ ہیضہ و چیچک و زلزلے سیلاب ہری بھری سی فصل کل تلک اجاڑتے تھے مگر آج کہیں شعلوں دھماکوں کی شکل لیتے ہیں کہیں یہ خون کی ہولی کا روپ بھرتے ہیں ہری بھری سی فصل اب بھی یہ اجاڑتے ہیں فساد خون میں شامل ہے شاید فصد یہ کھولتے رہتے ہیں شاید

مزید پڑھیے

لفظ بے معنی

لفظ کے اندھے کنویں میں معنی کا تارا بھی آتا نہیں ہے نظر لفظ گوتم کا عرفاں نہیں کفارۂ ابن مریم نہیں اور غار حرا بھی نہیں زندہ رہنے کی خاطر لفظ کے گرد معنی کا ہالہ بناتے ہیں لوگ لفظ کے اندھے کنویں میں معنی کا تارا بھی آتا نہیں ہے نظر

مزید پڑھیے

انتظار

رات کا قافلہ تیزی سے گزر جاتا ہے نقش پا جس کے سر راہ جگمگاتے تھے مٹتے جاتے ہیں مثل حرف غلط آسماں کے صفحہ سے میں اک درماندہ راہ رو کی طرح ان کی راہوں میں بچھائے ہوئے پلکوں کے کنول کب سے بیٹھا ہوں میں یکا تنہا ہر اک آواز پہ دل میرا دھڑک اٹھتا ہے جب صبا چلتی ہے خوشبو کو جلو میں لے کر ان ...

مزید پڑھیے

وقت

وقت ساکت اور جامد جیسے سورج اور یہ احساس کی دھرتی ہے جو پھرتی ہے اس کے گرد جس کو ہم نے بھول سے سمجھا ہے ماضی حال مستقبل

مزید پڑھیے
صفحہ 538 سے 960