شاعری

پیاس

سرابوں میں چھپا رکھی ہے میں نے تشنگی اپنی مسلسل درد پی کر بھی نہیں بجھتی ہے پیاس اپنی چلو اشکوں کے پنگھٹ پر بجھائیں پیاس اپنی بھی تمہاری بھی

مزید پڑھیے

دیے کی لو

دیے کی لو تھرتھرا رہی ہے یہ شام غم ہے کہ آفتوں کی سحر ہوئی ہے فصیل شب پر اداس جگنو کسی مسافر کی راہ تک کر لٹا چکا ہے تمام روشن بہار اپنی پرندے اڑنے کو مضطرب ہیں مویشی خانوں میں پھر مچی ہے عجیب ہلچل جو بچے ماؤں کی چھاتیوں سے لپٹ کے سوئے تھے جاگ اٹھے ہیں وہی تڑپ بھوک کی وہ شدت اذان ...

مزید پڑھیے

ایک خط

ایک عرصے سے سوچ رہی ہوں کہ تم کو خط لکھوں لیکن کیا لکھوں یہی کہ اندھیرے کے بادل چھٹ نہیں رہے ہیں یا یہ لکھوں کہ خوف و دہشت کے سائے کس طرح کم نہیں ہو رہے ہیں ہر طرف چیخیں کراہیں لاشیں دھواں سسکتی جوانی بلکتی ممتا گم صم بچپن یا پھر بیروت کی کہانیاں لکھوں کشمیر کی سلگتی وادیوں کی ...

مزید پڑھیے

سناٹا

آج پھر دہلیز پر کچھ آہٹیں ہیں کون ہوگا کون آیا ہوگا ان تنہائیوں میں ان اندھیروں میں ختم ہونے کو چراغوں کا سفر ہے روشنی مہمان کچھ لمحوں کی ہے گونگے لہجے ساعتیں اندھی شکستہ اعتماد برف کی چادر لپیٹے ہیں وہ سب الفاظ اب تک فخر تھا جن کی وفاداری پہ مجھ کو آج وہ بھی ٹوٹ کر بکھرے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہوا

ہوا موسم کی رقاصہ پہن کر پاؤں میں پتوں کے گھنگھرو ڈولتی جائے کبھی انگلی پکڑ کر بادلوں کی جھوم کر گائے کبھی بارش کی چادر اوڑھ کر آنگن بھگو جائے کسی معصوم لڑکی کا کبھی آنچل اڑا جائے ہوا موسم کی رقاصہ کبھی کلیوں کے رخساروں پہ بوسے لے شرارت سے کبھی کھلتے ہوئے پھولوں کی شاخوں سے جدا ...

مزید پڑھیے

زیبرا کراسنگ

میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر اس امید پر شاید وہ ادھر سے گزرے گا اور ایک پل رک کر خود سے وہ یہ بولے گا اپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوں زیبرا کراسنگ سے مجھ کو ایک پل دے دے میں جہاں پہ خود رک کر خود پہ بھی نظر ڈالوں اور بس یہی لمحہ خواہشوں کی جھیلوں پر برف کی طرح جم کر میرے ذہن و ...

مزید پڑھیے

وہم

میں کچھ دنوں سے پریشاں بھی ہوں اداس بھی ہوں کبھی تو ٹوٹتے دیکھی ہے شاخ گل میں نے کبھی کسی کا بسیرا اجڑتے دیکھا ہے نہ جانے خواب یہ کیسے ہیں جن کی تعبیریں مرے شعور میں اکثر بھٹکتی رہتی ہیں خدا کرے کہ یہ لمحات تم سے دور رہیں یہ وہم سارے تمہیں ہاتھ بھی لگا نہ سکیں

مزید پڑھیے

نظم

سخت سطح سے مٹی ہٹا کر گہری زمیں کے اندر جا کے جذب ہو چکے گدلے پانی کو اوپر لاتا ہوں پھر تشبیہوں علامتوں اور استعاروں کے برتن میں اس کو صاف و کشید کر کے اپنی پیاس بجھاتا ہوں اور دنیا کی تشنہ لبی بھی سیرابی حاصل کرتی ہے

مزید پڑھیے

خواہش سے تمنا تک

لال پیلی نیلی نیلی اور ہری خواہشوں کی جانے کتنی مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں میرے جار میں اور جب ان میں سے کوئی یک بیک اک تمنا بن کے باہر کودتی ہیں صاف ستھرے فرش پہ دم توڑتی ہے

مزید پڑھیے

از سر نو تشکیل

حق صداقت اور حسن یہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئے مٹی کے اندر دبے ہوئے فاسلس ہیں آؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کر تجربہ گاہوں میں لے چلے اور ہو سکے تو ڈی این اے سے ان کی از سر نو تشکیل کریں

مزید پڑھیے
صفحہ 482 سے 960