شاعری

لخت جگر

محبت کو تم لاکھ پھینک آؤ گہرے کنویں میں مگر ایک آواز پیچھا کرے گی کبھی چاندنی رات کا گیت بن کر کبھی گھپ اندھیرے کی پگلی ہنسی بن کے پیچھا کرے گی مگر ایک آواز پیچھا کرے گی وہ آواز نا خواستہ طفلک بے پدر ایک دن سولیوں کے سہارے بنی نوع انساں کی ہادی بنی پھر خدا بن گئی کوئی ماں کئی سال ...

مزید پڑھیے

رت

دل کا سامان اٹھاؤ جان کو نیلام کرو اور چلو درد کا چاند سر شام نکل آئے گا کیا مداوا ہے چلو درد پیو چاند کو پیمانہ بناؤ رت کی آنکھوں سے ٹپکنے لگے کالے آنسو رت سے کہہ دو کہ وہ پھر آئے چلو اس گل اندام کی چاہت میں بھی کیا کیا نہ ہوا درد پیدا ہوا درماں کوئی پیدا نہ ہوا

مزید پڑھیے

موت کا گیت

عرش کی آڑ میں انسان بہت کھیل چکا خون انسان سے حیوان بہت کھیل چکا مور بے جاں سے سلیمان بہت کھیل چکا وقت ہے آؤ دو عالم کو دگرگوں کر دیں قلب گیتی میں تباہی کے شرارے بھر دیں ظلمت کفر کو ایمان نہیں کہتے ہیں سگ خوں خار کو انسان نہیں کہتے ہیں دشمن جاں کو نگہبان نہیں کہتے ہیں جاگ اٹھنے کو ...

مزید پڑھیے

نظم

ہمارے شعروں میں مقتل کے استعارے ہیں ہمارے غزلوں نے دیکھا ہے کوچۂ قاتل صلیب و دار پہ نظمیں ہماری لٹکی ہیں ہماری فکر ہے زخمی لہو لہان ہے فکر ہر ایک لفظ پریشاں ہر ایک مصرعہ اداس ہم اپنے شعروں کے مفہوم پر پشیماں ہیں خدا کرے کہ جو آئیں ہمارے بعد وہ لوگ ہمارے فن کی علامات کو سمجھ نہ ...

مزید پڑھیے

مسرت

مرے گھر کی منڈیروں پر پرندے چہچہاتے ہیں میں اکثر سوچتی ہوں ان سے پوچھوں یہ مسرت کے حسیں لمحے کہاں سے لے کے آتے ہیں

مزید پڑھیے

انوکھے پل

اپنا بچپن ڈھونڈ رہی تھی آنگن میں کیاری میں پھولوں میں گڑیوں میں کھلے کھلے آکاش میں تاروں میں چندا میں سورج کی گرماہٹ میں بارش کی گرتی بوندوں میں تتلی کے رنگوں میں پھولوں کی خوشبو میں لیکن وہ پایا میں نے دو ننھے منے ہاتھوں میں جو اپنی بانہیں پھیلائے اپنے بچپن کی تصویر میں مرا عکس ...

مزید پڑھیے

بے حسی

سسک سسک کے ابھی سو گیا ہے اک بچہ لپٹ کے ماں سے یہ معصوم جب بلکتا تھا پڑوسیوں نے بہت ناک بھوں چڑھائی تھی اور اس پہ طنز کہ ضدی بہت ہے یہ بچہ مگر کسی نے نہ پوچھا کہ ضد یہ کیسی تھی اسے تلاش کھلونے کی تھی نہ کپڑوں کی بلک رہا تھا لگی تھی جو اس کے پیٹ میں آگ ضرورت اس کو تھی روٹی کی صرف روٹی ...

مزید پڑھیے

سجدہ

وہ اک سجدہ علامت تھا جو عظمت کا تقدس کا وہی سجدہ جبینوں سے نکل کر آج راہوں اور گلیوں میں سجا ہے اور اب جاگیر کہلاتا ہے کچھ مردہ پرستوں بے ضمیروں کی سجے ہیں آج ان سے کچھ سلگتے گھر

مزید پڑھیے

ایک عورت

انا کے ٹکڑے لئے کھڑی ہے کبھی سوالی ہے ذہن و دل سے کبھی گلہ ہے ضمیر سے بھی مگر کہاں کوئی سن رہا ہے یہ پتھروں کے مکاں کے اندر مکیں بھی سارے ہیں پتھروں کے لئے کھڑی ہے وہ اک سمندر سا آنسوؤں کا اگر کہیں باندھ اس کے آنچل کا ٹوٹ جائے ہر ایک قطرہ حساب مانگے گا حشر سامانیوں کا تم سے جواب آتش ...

مزید پڑھیے

دھوپ

چھت سے اتری میں تو پھر دیوار پہ آئی اور اچانک چھم سے کود پڑی آنگن میں پتوں کی پیشانی چومی پھولوں سے سرگوشی کی آنچل سے کچھ کھیل کئے پھر بیٹھ گئی آنگن میں بیٹھی دادی ماں کی گود میں جا کر پاس گھڑے رکھے تھے کچھ گوری مٹی کے ان پر جا کر بیٹھ گئی کیونکہ پیاسی تھی لیکن یہ کیا گھڑے ہٹاؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 481 سے 960