پیاس

سرابوں میں چھپا رکھی ہے
میں نے تشنگی اپنی
مسلسل درد پی کر بھی
نہیں بجھتی ہے پیاس اپنی
چلو اشکوں کے پنگھٹ پر
بجھائیں پیاس
اپنی بھی تمہاری بھی