شاعری

دن گزرتا نظر نہیں آتا

دن گزرتا نظر نہیں آتا رات کاٹے نہیں کٹتی رات اور دن کے اس تسلسل میں عمر بانٹے سے بھی نہیں بٹتی تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے کس کی آنکھوں کے ترنم کو چرا لائی ہے کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکا ڈالا ہے کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اٹھا لائی ہے دن بہرحال بہر طور گزر جاتا ہے شام آتی ...

مزید پڑھیے

جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے

جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے ہم نے اک رات ایسی پائی تھی روح کو دانت سے جس نے کاٹا جس کی ہر ادا مسکرائی تھی جس کی بھنچی ہوئی ہتھیلی سے سارے آتش فشاں ابل اٹھے جس کے ہونٹوں کی سرخی چھوتے ہی آگ سی تمام جنگلوں میں لگی راکھ ماتھے پہ چٹکی بھر کے رکھی خون کی جیوں بندیا لگائی ہو کس قدر جوان ...

مزید پڑھیے

اے میرے اجنبی

تو چلا جائے گا وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا وقت آہوں میں میری بدل جائے گا وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا تو چلا جائے گا اے میرے اجنبی

مزید پڑھیے

تھکا تھکا سا بدن

آہ روح بوجھل بوجھل کہاں پہ ہاتھ سے کچھ چھوٹ گیا یاد نہیں نہ جانے کس کے چیخنے کی یہ آواز آئی اور احساس دراڑوں میں کیسے جا پہنچا نگر ویراں جھروکے خموش منڈیریں چپ خموشی اف کہ خلاؤں کا دم بھی گھٹنے لگا اچانک آ گئی ہو موت وقت کو جیسے ہائے رفتار کی نبضیں رکیں دل بیٹھ گیا کہاں شروع ہوئے ...

مزید پڑھیے

لالچ کو بھیک کا نام نہ دو

لالچ کو بھیک کا نام نہ دو یہ قرض ہے اس کو قرض کہو اس وقت کی تم کچھ فکر کرو جب تمہیں یہ قرض چکانا ہے تب سایہ بھی نہ ساتھ ہوگا پھر یہ نہ کہنا گھبرا کے کہ ایک ہمارا سایہ تھا جو پہلے تھا وہ ؟؟؟

مزید پڑھیے

ٹکڑے ٹکڑے دن بیتا

ٹکڑے ٹکڑے دن بیتا دھجی دھجی رات ملی جس کا جتنا آنچل تھا اتنی ہی سوغات ملی رم جھم رم جھم بوندوں میں زہر بھی ہے امرت بھی ہے آنکھیں ہنس دیں دل رویا یہ اچھی برسات ملی جب چاہا دل کو سمجھیں ہنسنے کی آواز سنی جیسے کوئی کہتا ہو لے پھر تجھ کو مات ملی ماتیں کیسی گھاتیں کیا چلتے رہنا آٹھ ...

مزید پڑھیے

لمحے اڑتے ہیں کبھی یا تو تتلیوں کی طرح

لمحے اڑتے ہیں کبھی یا تو تتلیوں کی طرح یا کبھی خوشبوؤں کی مانند چیخ اٹھتے ہیں اسی رفتار اسی شور و غل کے دائرے کسی بھی لمحے کو ماضی نہیں بننے دیتے سمٹتے پھیلتے سانچے میں وقت کے ڈھل کر عجب شکل کے بن کر زمانہ رکھتے ہیں نام زمانہ جیسے اک فاقہ زدہ گدھوں کا گروہ بے کفن امیدوں کی لاشوں ...

مزید پڑھیے

ایک ویران سی خموشی میں

ایک ویران سی خموشی میں کوئی سایہ سا سرسراتا ہے غم کی سنسان کالی راتوں میں دور اک دیپ ٹمٹماتا ہے گویا تیرے مریض الفت کا سانس سینے میں تھم کے آتا ہے میرے اشکوں کے آئنے میں آج کون ہے وہ جو مسکراتا ہے کون دستک سی دیتا رہتا ہے کیسا پیغام آتا جاتا ہے ایک گمنام راستے کا نشاں لمحہ لمحہ ...

مزید پڑھیے

جانے کیا بات ہوئی تھی جو مجھے یاد نہیں

جانے کیا بات ہوئی تھی جو مجھے یاد نہیں رات کا پہلا قدم تھا کہ وہ تھا پچھلا پہر چوڑے دروازے سے نکلی تھی وہ معصوم سحر ایک دستک سنائی دی تھی یا تھا میرا وہم گنگناتی ہوئی خاموشی تھی یا میرا بھرم نیند چونکی تھی یا خوابوں کے صنم ٹوٹے تھے ایک دھندلی سی شکل یاد ہے اب بھی مجھ کو گندمی رنگ ...

مزید پڑھیے

کانہا تمہاری یاد میں ہوں بے قرار میں

کانہا تمہاری یاد میں ہوں بے قرار میں کرتی ہوں لمحہ لمحہ فقط انتظار میں کہہ کر گئے تھے آؤ گے تم جلد لوٹ کر آ کر کرو گے ختم یہ تنہائی کا سفر کیا گوپیوں کے ساتھ میں دل کو لگا لیا کیا رکمنی کے ساتھ نے سب کچھ بھلا دیا کیا تم کو میری یاد بھی آتی نہیں کبھی فرقت یہ میری تم کو رلاتی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 465 سے 960