دن گزرتا نظر نہیں آتا
دن گزرتا نظر نہیں آتا رات کاٹے نہیں کٹتی رات اور دن کے اس تسلسل میں عمر بانٹے سے بھی نہیں بٹتی تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے کس کی آنکھوں کے ترنم کو چرا لائی ہے کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکا ڈالا ہے کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اٹھا لائی ہے دن بہرحال بہر طور گزر جاتا ہے شام آتی ...