ایک ویران سی خموشی میں

ایک ویران سی خموشی میں
کوئی سایہ سا سرسراتا ہے
غم کی سنسان کالی راتوں میں
دور اک دیپ ٹمٹماتا ہے
گویا تیرے مریض الفت کا
سانس سینے میں تھم کے آتا ہے
میرے اشکوں کے آئنے میں آج
کون ہے وہ جو مسکراتا ہے
کون دستک سی دیتا رہتا ہے
کیسا پیغام آتا جاتا ہے
ایک گمنام راستے کا نشاں
لمحہ لمحہ کسے بلاتا ہے
کیوں اک اجنبی صدا پہ ناز
روح کا ہر تار جھنجھناتا ہے
شام کا یہ اداس سناٹا
نہیں معلوم یہ دھواں کیوں ہے
دھندلکا دیکھ بڑھتا جاتا ہے
دل تو خوش ہے کہ جلتا جاتا ہے