بطرز منقبت حضرت امام حسینؓ
اللہ کیا جگر تھا جفا میں حسین کا جی ہی گیا ندان رضا میں حسین کا اس تشنہ لب کا عرش سے برتر ہے مرتبہ خوں تھا سبیل راہ خدا میں حسین کا
اللہ کیا جگر تھا جفا میں حسین کا جی ہی گیا ندان رضا میں حسین کا اس تشنہ لب کا عرش سے برتر ہے مرتبہ خوں تھا سبیل راہ خدا میں حسین کا
ایک بلی موہنی تھا اس کا نام اس نے میرے گھر کیا آ کر قیام ایک سے دو ہو گئی الفت گزیں کم بہت جانے لگی اٹھ کر کہیں بوریے پر میرے اس کی خواب گاہ دل سے میرے خاص اس کو ایک راہ میں نہ ہوں تو راہ دیکھے کچھ نہ کھائے جان پاوے سن مری آواز پائے بلّیاں ہوتی ہیں اچھی ہر کہیں یہ تماشا سا ہے بلی تو ...
مزاج شخص جہاں تھا ترے مرض سے سست ہوا سو فضل الٰہی سے تندرست و چست خبر جو گرم ہے اب تیرے غسل صحت کی دل شکستہ جہاں تھا وہ خودبخود ہے درست رہے جہاں میں بہت توکہ تاجہاں بھی رہے سلامت ہمہ آفاق در سلامت تست
اے امی جان آئی ہوں تیرے حضور آج اک بات ہے جسے میں کہوں گی ضرور آج یہ بات سوچ سوچ کے روتی رہی ہوں میں اور ہار آنسوؤں کے پروتی رہی ہوں میں باجی مجھے شریر کہے بار بار کیوں ابا سے اور آپ سے پڑتی ہے مار کیوں اک بات پوچھنی ہے اگر کہیے پوچھ لوں امی مجھے شریر سمجھتی ہیں آپ کیوں ننھی کا ...
دل ربا لالہ ہو فضا تیری مجھ کو بھائی نہ اک ادا تیری لطف سے بڑھ کے ہے جفا تیری واہ رے ہندوستاں وفا تیری میں نہ مانوں کبھی ترا کہنا میں نہ بخشوں کبھی خطا تیری برتر از خار ہے ترا گلشن زہر سے کم نہیں ہوا تیری خالی از کیفیت تری ہر چیز بات ہر ایک بے مزا تیری درد دل میں تڑپ کے مر جاؤں میں ...
حق دار جس کی ہوں وہ محبت نہیں ملی عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی واقف نہیں ہے کوئی مرے اضطراب سے ہر شخص مجھ کو پڑھتا ہے اپنے حساب سے مجھ کو لکھا ہر ایک نے اپنی کتاب سے جیسے بھی جس نے چاہا نوازا خطاب سے وابستہ مجھ سے میری حقیقت نہیں ملی عورت ہوں میں مجھے مری عظمت نہیں ملی جب ...
برسات مبارک ہو یہ ساتھ مبارک ہو ہر دن رہے سلونا ہر رات مبارک ہو سنولائی ہوئی شاموں کو ہر صبح مبارک ہو ہچکی ہو یا سسکی ہو ہر نغمہ مبارک ہو برسات مبارک ہو برسات مبارک ہو
اجنبی دیس کے رستوں پہ بھٹکتے راہی میں نے سوچا ہے کہ آج تجھے خط لکھوں آج لکھوں کہ سلگتے ہوئے ارمانوں میں کتنے زہریلے سبک تیر چبھا کرتے ہیں کیسے دھندلائی ہوئی رات میں بے بس آنسو ڈر کے تنہائی سے تھم تھم کے بہا کرتے ہیں جھنجھلاہٹ میں تجھے بھولنے کی کوششیں بھی کیں کیسے پھر لوٹ بھی ...
راکھ کا سارنگ پہنے برف کی لاش ہے لادے کا سا بدن پہنے گونگی چاہت ہے رسوائی کا کفن پہنے ہر ایک قطرہ مقدس ہے میلے آنسو کا ایک ہجوم اپاہج ہے آب کوثر پر یہ کیسا شور ہے جو بے آواز پھیلا ہے رو پہلی چھاؤں میں بد نامیوں کا ڈیرا ہے یہ کیسی جنت ہے جو چونک چونک جاتی ہے ایک انتظار مجسم کا نام ...
یہ کھڑکی میری دوست میری رفیق میری رازدار میرے دل کی سب دھڑکنوں کی امیں مسرت کے لمحات اور بے کراں غم کے سائے سب اترے میری زندگی میں میری سرد تنہائیوں میں اسی کے سہارے یہیں میں نے سر رکھ کر اکثر بنے ان گنت خواب ادھورے مکمل حسین مرتب کئے خاکے مستقبل نارسا کے یہیں سے کبھی مڑ کے ...