جانے کیا بات ہوئی تھی جو مجھے یاد نہیں
جانے کیا بات ہوئی تھی جو مجھے یاد نہیں
رات کا پہلا قدم تھا کہ وہ تھا پچھلا پہر
چوڑے دروازے سے نکلی تھی وہ معصوم سحر
ایک دستک سنائی دی تھی یا تھا میرا وہم
گنگناتی ہوئی خاموشی تھی یا میرا بھرم
نیند چونکی تھی یا خوابوں کے صنم ٹوٹے تھے
ایک دھندلی سی شکل یاد ہے اب بھی مجھ کو
گندمی رنگ پہ جڑواں سے سنہری شیشے
راستہ کھوئے سے حیران فرشتوں جیسے
اپنی پلکوں میں صداقت کا شور تھامے ہوئے
جھیل سے گہری عقیدت کی ڈور تھامے ہوئے
تک رہی ہیں مجھے یکساں تکے جاتی ہیں
یاد آئی تھیں وہ جاگی ہوئی آنکھیں کل رات
کوئی کہہ دے تو سہی پچھلے جنم جھوٹے تھے