کانہا تمہاری یاد میں ہوں بے قرار میں
کانہا تمہاری یاد میں ہوں بے قرار میں
کرتی ہوں لمحہ لمحہ فقط انتظار میں
کہہ کر گئے تھے آؤ گے تم جلد لوٹ کر
آ کر کرو گے ختم یہ تنہائی کا سفر
کیا گوپیوں کے ساتھ میں دل کو لگا لیا
کیا رکمنی کے ساتھ نے سب کچھ بھلا دیا
کیا تم کو میری یاد بھی آتی نہیں کبھی
فرقت یہ میری تم کو رلاتی نہیں کبھی
اس دل میں چاہتوں کی تمنا لیے ہوئے
پھرتی ہوں وہ تمہارا دلاسہ لیے ہوئے
بے چین کس قدر ہوں تمہارے فراق میں
جلتی ہو شمع جیسے امیدوں کے تاک میں
اس عہد کے ہی بعد سے آشا ہو تم مری
جب سے کہا تھا تم نے کہ رادھا ہو تم مری
تم کو قسم ہے میری نا اتنا رلاؤ تم
جتنا بھی جلد ہو سکے بس لوٹ آؤ تم