جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے
جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے
ہم نے اک رات ایسی پائی تھی
روح کو دانت سے جس نے کاٹا
جس کی ہر ادا مسکرائی تھی
جس کی بھنچی ہوئی ہتھیلی سے
سارے آتش فشاں ابل اٹھے
جس کے ہونٹوں کی سرخی چھوتے ہی
آگ سی تمام جنگلوں میں لگی
راکھ ماتھے پہ چٹکی بھر کے رکھی
خون کی جیوں بندیا لگائی ہو
کس قدر جوان تھی
مسمسی تھی
مہنگی تھی وہ رات
ہم نے جو رات یوں ہی پائی تھی