کبھی سوچا بھی ہے تم نے
کبھی سوچا بھی ہے تم نے تمہاری ذات کے اندر اس ایک احساس کے اندر تمہاری روح سے ہو کر تمہاری نبض میں دھڑکن میں ان آتی جاتی سانسوں میں کبھی مدھم ہواؤں میں کبھی سنسان رستوں میں کوئی جگنو چمکتا ہے اور اس کی روشنی میں تم اچانک کھو سے جاتے ہو کبھی خوشبو کی صورت میں رگ جاں میں شہ رگ میں وہ ...