شاعری

کبھی سوچا بھی ہے تم نے

کبھی سوچا بھی ہے تم نے تمہاری ذات کے اندر اس ایک احساس کے اندر تمہاری روح سے ہو کر تمہاری نبض میں دھڑکن میں ان آتی جاتی سانسوں میں کبھی مدھم ہواؤں میں کبھی سنسان رستوں میں کوئی جگنو چمکتا ہے اور اس کی روشنی میں تم اچانک کھو سے جاتے ہو کبھی خوشبو کی صورت میں رگ جاں میں شہ رگ میں وہ ...

مزید پڑھیے

چلو ہم مان لیتے ہیں بچھڑنا ہی ضروری ہے

چلو ہم مان لیتے ہیں بچھڑنا ہی ضروری ہے چلو ہم مان لیتے ہیں مقدر میں ہی دوری ہے چلو ہم مان لیتے ہیں تمہاری جو ہے مجبوری چلو ہم مان لیتے ہیں ملے ہم دیر سے تم سے چلو مانا کہ باندھے ہے رسن حالات کی تم کو چلو مانا جدائی کے سوا چارہ نہیں کوئی مگر اتنا بتا دو بس جدا ہونے سے اے ہمدم تعلق ...

مزید پڑھیے

چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

چمن میں ہم نے دیکھے ہیں بہت ہی خوب صورت پھول الگ رنگت بھی ہے ان کی جدا خوشبو بھی ہے ان کی ہوا چلتی ہے جب بھی تو سبھی پھولوں کو آپس میں گلے ملتے ہی دیکھا ہے صدا ہنستے ہی دیکھا ہے کبھی لڑتے نہیں دیکھا ہمارا ملک بھی میناؔ چمن کے ہی تو جیسا ہے سبھی مذہب یہاں پر ہیں زبانیں بھی بہت سی ...

مزید پڑھیے

جب دیکھو دور خلاؤں میں

جب دیکھو دور خلاؤں میں اک چہرہ سا بن جاتا ہو جب تنہائی کے ملتے ہی وہ یاد تمہیں آ جاتا ہو جب انجانے میں چپکے سے اک نام سے نسبت ہو جائے جب اس کو سوچتے رہنے سے کچھ دل کو راحت ہو جائے جب رات اچانک نیند کھلے اس پیکر کی ہی یاد آئے جب اپنی سانسوں سے تم کو ایک شخص کی خوشبو سی آئے جب ...

مزید پڑھیے

بچوں کی عید

عید کے دن کچھ چھوٹے بچے بھولے بھالے سیدھے سادے ایک جگہ پر آ کر بیٹھے اپنی جانچ لگے سب کرنے آپس میں یوں بولے بچے کس نے کتنے روزے رکھے سب سے پہلے بولا دارا میں نے رکھے پورے بارہ صفو بولی میرے تیرہ تم سے ایک زیادہ رکھا بانو بولی میرے چھ ہیں بھائی دارا سے آدھے ہیں ہوں بھی تو میں چھوٹی ...

مزید پڑھیے

آنگن میں ایک شام

شام کی لمحہ لمحہ اترتی ہوئی دھند میں سر جھکائے ہوئے گھر کے خاموش آنگن میں بیٹھے ہوئے میری واماندہ آنکھوں کی جلتی ہوئی ریت سے اک بپھرتے سمندر کی آوارہ لہریں اچانک الجھنے لگیں شام کی رستہ رستہ اترتی ہوئی دھند میں اس بپھرتے سمندر کی آوارہ لہروں کو چوری چھپے دفن کرنا پڑا اس کھنڈر ...

مزید پڑھیے

رشتہ گونگے سفر کا

یہ کس جنم میں ہم دوبارہ ملے ہیں یہ خط رنگ قد سب مجھے جانتے ہیں مرے لمس سے آشنا ہیں میں بھٹکا ہوں کتنے سرابوں میں صحراؤں میں کئی کارواں مجھ سے آگے گئے ان کے نقش کف پا ابھی مشتعل ہیں ابھی دھول نے ان پہ چادر بچھائی نہیں ہے مجھ سے پیچھے نئے کاروانوں کی گرد اڑا رہی ہے کچھ جیالے ...

مزید پڑھیے

بے ادب ستاروں نے

بے ادب ستاروں نے نیند میں مخل ہو کر تم سے کچھ کہا ہوگا لیکن ان کی باتوں کا تم یقین مت کرنا آؤ آ کے خود دیکھو مضطرب کہاں ہوں میں

مزید پڑھیے

اکھڑتے خیموں کا درد

کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے نہ روشنی میں نہ تیرگی میں نہ زندگی میں نہ خودکشی میں عقیدے زخموں سے چور پیہم کراہتے ہیں یقین کی سانس اکھڑ چلی ہے جمیل خوابوں کے چہرۂ غمزدہ سے ناسور رس رہا ہے عزیز قدروں پہ جاں کنی کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے پتنگ کی طرح کٹ چکے ہیں تمام رشتے جو آدمی کو قریب ...

مزید پڑھیے

پیاری منی

منی ہے اک اچھی بچی اچھی بچی سچی بچی کرتی ہے جب کام کوئی بھی پہلے ہے بسم اللہ کہتی روز نمازیں پڑھتی ہے وہ ایک نمازی بچی ہے وہ کرتی ہے وہ روز تلاوت یہ بھی ہے اک پیاری عادت خوب سلیقے سے رہتی ہے بات بھلائی کی کہتی ہے شوق سے پڑھنے جاتی ہے وہ خوش خوش گھر کو آتی ہے وہ جو کہتے ہیں ماں باپ اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 466 سے 960