لمحے اڑتے ہیں کبھی یا تو تتلیوں کی طرح
لمحے اڑتے ہیں کبھی یا تو تتلیوں کی طرح
یا کبھی خوشبوؤں کی مانند چیخ اٹھتے ہیں
اسی رفتار اسی شور و غل کے دائرے
کسی بھی لمحے کو ماضی نہیں بننے دیتے
سمٹتے پھیلتے سانچے میں وقت کے ڈھل کر
عجب شکل کے بن کر زمانہ رکھتے ہیں نام
زمانہ
جیسے اک فاقہ زدہ گدھوں کا گروہ
بے کفن امیدوں کی لاشوں پہ نظریں گاڑے ہوئے
منتظر رہتا ہے جھپٹے کب
کفنائی ہوئی امنگوں کی بھیڑ
چتا کی آنچ میں لالچ میں گھیر ڈالے ہوئے
کھڑی ہوئی ہے جو کب سے
کھڑی رہے کب تک