شاعری

ہر چہرہ ایک کہانی ہے

ہر چہرہ ایک کہانی ہے جب چہرے پڑھنا سیکھو گے تب کوئی کہانی لکھو گے ہر چہرہ پہ اک نقشہ ہے اس میں رستے ہی رستے ہیں یہ رستے بھول بھلیاں ہیں جب بھول بھلیاں بھٹکو گے تب کوئی کہانی لکھو گے ہر چہرہ ایک سمندر ہے ہر نقش کی اٹھتی لہروں میں جب پانی پانی اترو گے تب کوئی کہانی لکھو گے ہر چہرہ ...

مزید پڑھیے

شریک حیات

آدھی روٹی بستر کے آخری کونے ایک چھٹانک محبت دو گز چادر اور تین چٹکی عزت کے عوض عورت نے ایک ادھورے مرد کو اپنی پوری حیات میں شریک کر لیا

مزید پڑھیے

بارش اور بادل

کل شام مجھے بارش ملی باغ میں روتی ہوئی اس کی سسکیاں درختوں کی شاخوں پر اٹکی تھیں وہ بادل کا گھر چھوڑ آئی تھی میں نے اسے تأسف سے دیکھا رات کو میرے کمرے کی کھڑکی پر بکھرے بالوں والے پریشان بادل نے دستک دی وہ چاندنی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لے کر بارش کو ڈھونڈ رہا تھا میں نے کھڑکی پہ ...

مزید پڑھیے

اسفل السافلین

ہمارے سامنے ہمارا رب موجود ہے مگر ہم اپنے اپنے مسلک کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ والی مسجدوں میں خواہشوں کے بت اپنی اپنی بغلوں میں دبائے کھڑے ہیں اور ہر بار ان بتوں کو سجدہ کرتے ہوئے ہمارا یقین مسجد کے میناروں کو چھو لیتا ہے کہ جنت میں بہتی شہد اور دودھ کی نہروں کے کناروں پر حوریں ہمیں خوش ...

مزید پڑھیے

آواز

وہ جب مجھ سے بولتا ہے تو دنیا کی ساری آوازیں میٹھی تانیں مدھر زبانیں اس کے اک اک میٹھے بول پہ سر دھنتی ہیں اس کی باتیں سات سروں میں ایک انوکھا سر بنتی ہیں اتنا میٹھا لہجہ اس کا وہ بولے تو دنیا کی ساری آوازیں چپ رہ کر اس کو سنتی ہیں

مزید پڑھیے

نظم

میں ہر رات تمہارا تصور سرہانے رکھ کے سوتی ہوں اور صبح جاگنے پر مجھے تکیے کے نیچے اک نظم ملتی ہے ہو بہ ہو تمہارے جیسی

مزید پڑھیے

سب کچھ ہو سکتا ہے

سفید چنبیلی کی ہری شاخوں پر سیاہ گلاب کھل سکتا ہے ستارے رات کی اونگھتی سیڑھیوں سے چھلانگ لگا کر زمین پر آ سکتے ہیں چاند اور سورج کسی آسمانی پل میں ملاقات پر متفق ہو سکتے ہیں مکڑی اپنے جالے میں انسان کو پھانس سکتی ہے سمندر دریا کے قدموں میں گر سکتا ہے درختوں پر ہیرے اگ سکتے ...

مزید پڑھیے

ہجر کدہ

میں نے کمرے کی کھونٹی پر تیرا انتظار ٹانگ دیا ہے اور میری بے قرار آنکھیں کمرے کی چوکھٹ پر دھری ہیں تیرے فراق کے سیاہ لمحوں کی باتیں کرتی میری ساری نظمیں کمرے کی دیواروں پر چسپاں ہیں میری آتی جاتی سانسیں گھڑی کی سوئیوں سے بندھی ہیں اور تمہارے امرت رس ٹپکاتے جملے میرے دھیان کا پلو ...

مزید پڑھیے

مسافر کے ٹھکانے نہیں ہوتے

اے مرے ماضی کی بچھڑی ہوئی راہو خیال یار سے بڑھ کر حسین شاہ راہو صدا نہ دو مجھ کو کہ سر زمین وطن پر کسی بھی آنگن کے کسی دراز بدن در کے خوب رو سے ماتھے پر میرے خیال میں دل کش حسین نام کی تحریر کاتب وقت نے نہیں لکھی کہ میں ہوائے دہر ہوں بھٹکنا نگر نگر اجنبی دیاروں میں میرا مقدر ...

مزید پڑھیے

دھرتی ماتا

یاد ہے مجھ کو جب میں چڑھ کر ایک پہاڑی کی چوٹی پر شاخ پہ ایک درخت کے بیٹھا کرتا تھا میں تیرا نظارا کوسوں تک وہ تیرا شیوہ دھانی ماشی کا ہی بھورا کوسوں تک وہ تیرے میداں ستھرے صاف چٹیلے میداں چھٹکی چھٹکی جھاڑیاں اس پر قدرت کی گل کاریاں اس پر تال تلیاں دریا ریتی باغ چمن آبادی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 388 سے 960