شاعری

ایک روشن جواں جستجو

جستجو کا نڈر قافلہ مشعلیں تھام کر، رات کو چیرتا ہنستا گاتا ہوا، اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا سب کے چہروں پر روشن ہوئیں کاوشیں کھوجی آنکھوں میں جھلمل ستارے جلے کتنی روشن فضا کتنی روشن فضا!! آؤ اپنے قدم تیز کر لیں کہ وہ سامنے اپنی محنت کا پودا تناور شجر بن گیا پر یہ روشن فضا میں ...

مزید پڑھیے

بنجر دل سیراب کرو

میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور لیکن وہ تو صدی صدی کی قرن قرن کی دھول سمیٹے ویراں ویراں اجڑا اجڑا بنجر بنجر رہتا ہے آؤ! نس نس دکھتے لوگو! آنسوؤں کی گھنگھور گھٹائیں لے کر آؤ میرے دل پر آ کر امڈو ایسے ٹوٹ کے برسو جیسے ساون برسے میرا دل سیراب کرو میرا دل سیراب ہوا تو تم دیکھو ...

مزید پڑھیے

ترغیب

پیارے سورج تم تو اپنا چہرہ آسمان پر تیرتے تاروں کے آئینوں ہی میں ڈھونڈتے رہتے ہو پر میری بھی اک بات سنو یہ جو آنکھ میں روشن تارے ہیں اور یہ جو گالوں پر بہتے ہوئے تارے ہیں اور یہ جو پھول پھول کی پتی پتی پر ٹھہرے ہوئے تارے ہیں اور یہ جو ریت سے جھانکتے تارے ہیں اور یہ جو ندیا کی لہروں ...

مزید پڑھیے

انوکھی شہزادی

مانا میں اک شہزادی ہوں جو قیدی ہے لیکن میرے دل میں شہزادے کی چاہ کا کوئی تیر نہیں ہے میری آنکھیں اس کی راہ نہیں تکتی ہیں پھر بھی دیو کی قید سے چھٹ کر دور ہرے کھیتوں، نیلے دریاؤں، شفقی بادلوں، گاتے طائروں خوشبوؤں سے لدے ہوئے جھونکوں کو چھونا چاہوں چومنا چاہوں ان میں گھل مل جانا ...

مزید پڑھیے

قریب و دور

1 مجھ سے انجان بنے دور بہت دور سہی سامنے بیٹھا نظر آتا ہے مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے مری عمر کے سارے لمحے تتلیاں بن کے تری سمت اڑے جاتے ہیں اور ترے چار طرف رنگ در رنگ کئی ہالے بناتے ہوئے لہراتے ہیں پھول چن چن کے پلٹ آتے ہیں مجھے مہکاتے ہیں 2 مجھ سے انجان بنے پاس بہت پاس سے تو جب گزرے مجھ ...

مزید پڑھیے

واپسی

مصلحت ایک سہیلی میری اس نے تمہاری سوچ پہ پابندی عائد کی تھی میں نے اس کا دل رکھنے کو حامی بھر لی تھی لیکن مجھے اکیلا پا کر کل اک ننھا منا بھید بھرا لمحہ کلکاری بھرتا آیا اس نے جس کی انگلی تھام رکھی تھی وہ تو تم تھے آنکھوں میں شامیں اتری تھیں گھنی گھنی پلکوں کے پیچھے اک نارنجی ...

مزید پڑھیے

انفرادیت

تمہیں یہ عذر ہے تم کو جو دی گئی ہے زمیں وہ مختصر ہے بہت جو بازوؤں میں سمیٹو تو وہ سمٹ جائے اسی لیے ہو تم احساس کم تری کا شکار اور ان کو کتنی ارادت سے دیکھتے ہو جنہیں زمیں ملی ہے حدود نگاہ سے بھی بہت دور دور پھیلی ہوئی سنو زمیں کی وسعت تو کوئی چیز نہیں جو نسل آئے گی کل وہ حدیں نہ ...

مزید پڑھیے

عکس در عکس

نہ چاند ماتھا نہ تارا ٹھوڑی نہ جھیل آنکھیں، نہ پھول لب ہیں نہ آنچ عزم و یقیں کی دل میں نقوش رخ اتنے مٹ گئے ہیں، نقوش کب ہیں اے آئینے وقت کے! تجھے ایک بار بھی اک حسیں چہرہ نہ دے سکے ہم مگر ہیں ہم اب بھی عکس تیرا وہ عکس ہی تو ہمارا سچ ہے ہماری آنکھیں بجھی ہوئی ہیں مگر یہی تو ہیں تیری ...

مزید پڑھیے

برقی محبت

گئے وقتوں میں محبت دل پہ لکھی انمٹ تحریر ہوتی تھی سنا ہے پتھر پر لکیر ہوتی تھی مگر اب ہاتھ میں تھامے کسی برقی آلے کے بٹنوں میں الجھی ہے انگلی اور انگوٹھے پر بوقت ضرورت تھرکتی رہتی ہے برقی پیغامات کے خانے میں پڑے چند بے لباس فقرے محبت کی علامت بن گئے ہیں کسی پرانے دور میں محبت دل ...

مزید پڑھیے

نظم

رات کیسی مہربان ہے روتی آنکھوں کے راز اور بھیگے تکیوں کے سارے بھرم رکھ لیتی ہے رات سیاہ ہے مگر سفید آنکھوں کا ہاتھ پکڑ کر رنگین خوابوں کا راستہ دکھاتی ہے کھردرے جسم کی ساری شکنیں اپنے نازک بدن کی تہوں میں چھپا لیتی ہے کبھی اپنی گود میں لے کر تھپک تھپک کر سلاتی ہے کبھی کاندھے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 387 سے 960