شاعری

اس طرح چھو کے گزرتی ہے تری یاد مجھے

اس طرح چھو کے گزرتی ہے تری یاد مجھے جیسے اقرار کے لمحوں کو حیا چھوتی ہے جیسے گھلتا ہے گھٹاؤں کا بدن پانی میں جیسے پھولوں کی قباؤں کو صبا چھوتی ہے جیسے دم توڑتی روحوں سے گلے آس لگے جیسے مظلوم کے ہونٹوں کو دعا چھوتی ہے جیسے سورج کی کرن چوم لے رخ دھرتی کا جیسے سجدے کی ضیا نور خدا ...

مزید پڑھیے

نا ممکن

اے مرے راہ سفر کے ساتھی تم مری موت کی دہلیز تلک ساتھ سہی زیست کی رات کے اس پچھلے پہر کیوں پلاتے ہو محبت کی دوا اب مرا روگ تو اچھا نہیں ہونے والا اب کوئی خواب بھی سچا نہیں ہونے والا تم مری آنکھ سے ڈھلکے ہوئے اشکوں کو پھر سے واپس انہی دو آنکھوں میں لوٹا دو گے کیا مرا کھویا ہوا ...

مزید پڑھیے

خواب گاہ

غرض کی میلی دراز چادر لپیٹ کر وہ منافقت کے سیاہ بستر پہ سو رہی تھی مری برہنہ نگاہ میں رت جگوں کی سرخی جمی ہوئی ہے پہاڑ سی رات ریزہ ریزہ بکھر رہی تھی

مزید پڑھیے

ابھی کچھ کام باقی ہیں

ابھی ٹھہرو ابھی کچھ کام باقی ہیں ذرا یہ کام نمٹا لیں تو چلتے ہیں ابھی تو نا مکمل نظم کا اک آخری مصرعہ کتاب ہجر میں تحریر کرنا ہے خس و خاشاک غم اسلاف میں تقسیم ہو جائیں تو سر سے بوجھ اترے قرض کا جامہ پہن کر اک نئے رستے پہ جانا کب مناسب ہے ابھی ٹھہرو ابھی ہم کو جزیرے میں ہوا کے سبز ...

مزید پڑھیے

خیال رکھنا

میں جا چکوں تو خیال رکھنا رفیق میرے، زمین کی ان دراز پلکوں سے اشک بن کر جڑے ہوئے ہیں خیال رکھنا کہ سارے موسم بس ایک دکھ کے پیامبر ہیں جو میرا دکھ ہے یہ میرا دکھ ہے کہ میں نے اس دکھ کی پرورش ہیں لہو کا لقمہ، بدن کا ایندھن کیا فراہم یہ دکھ مرا ہے، مرا رہے گا کہ آسمانوں کی سمت میرے سوا ...

مزید پڑھیے

دیئے آنکھوں کی صورت بجھ چکے ہیں

وصل کے لمحوں کی گنتی کرنے والے ہاتھ حدت سے تہی ہیں موج میں آئے ہوئے دریا میں کشتی کون ڈالے مانجھیوں کے گیت لہروں کی طرح ساحل کی بھیگی ریت پر بکھرے ہوئے ہیں اب کسی بڑھیا کی گٹھری کوئی اہل دل اٹھا کر بستیوں کا رخ نہیں کرتا کسی ہمسائے سے احوال دل معلوم کرنا کار بے اجرت ہوا ہے نفسی ...

مزید پڑھیے

لا موجود

شکستہ گھر ہے دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیں پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے خامشی کی سلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں سلیں جو گھر کی ادھڑتی چھت سے کلام کرتیں تو روشنی کو قرار ملتا قرار جس نے بجھے چراغوں کی حیرتوں کو ثبات بخشا افق سے آگے ہمارے حیلوں فریب دیتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بازار

ایک مجبور کا تن بکتا ہے من بکتا ہے ان دکانوں میں شرافت کا چلن بکتا ہے سودا ہوتا ہے اندھیروں میں گناہوں کا یہاں زندگی نام ہے ہنستی ہوئی آہوں کا یہاں زندہ لاشوں کے لیے سرخ کفن بکتا ہے جھوٹی الفت کے اشاروں پہ وفا رقص کرے چند سکوں کے چھناکے پہ حیا رقص کرے حسن معصوم کا بے ساختہ پن بکتا ...

مزید پڑھیے

کربلا

لبوں پہ الفاظ ہیں کہ پیاسوں کا قافلہ ہے نمی ہے یہ یا فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے حیات آنکھوں سے بہہ رہی ہے سپاہ فسق و فجور یلغار کر رہی ہے دلوں کو مسمار کر رہی ہے لہو لہو ہیں ہماری سوچیں برہنہ سر ہے حیا تمنائیں بال نوچیں وفا کے بازو کٹے ہوئے ہیں ہلاکتوں کے غبار سے زندگی کے میداں پٹے ...

مزید پڑھیے

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں تم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کو شرارتوں پر ابھارتی ہیں تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں لہو کو شعلہ بدست کر دیں یہ پتھروں کو بھی مست کر دیں حیات کی سوکھتی رتوں میں بہار کا بند و بست کر دیں کبھی گلابی کبھی سنہری سمندروں سے زیادہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 389 سے 960